تحریر: عبدالجبار خان
[email protected]
دوسری جنگِ عظیم کے بعد دنیا دو بلاکس میں تقسیم ہوئی۔ مغربی بلاک/ کیپیٹلسٹ بلاک میں وہ ممالک شامل تھے…… جو امریکہ کے اتحادی تھے، جب کہ مشرقی بلاک/ سوشلسٹ بلاک میں وہ ممالک تھے جو اس وقت کے سوویت یونین کے اتحادی تھے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے سویت یونین سے خطرے کو بھانپتے ہوئے ’’نیٹو‘‘ (NATO) کی تنظیم بنائی۔ اس کے جواب میں سوویت یونین اور اس کے اتحادیوں نے "WTO” کے نام سے تنظیم بنائی جسے عام طور پر "WARSAW PACT” کہا جاتا ہے۔ دنیا پر اپنا تسلط قایم کرنے کے لیے ان دونوں ممالک کے درمیان جنگ جیسا ماحول تھا۔ دو بلاکس کے علاوہ کچھ ممالک ایسے بھی تھے جو کہ غیر جانب دار تھے…… جن میں سرفہرست ہمارا ہمسایہ ملک بھارت تھا۔ مگر بدقسمتی سے ہم غیر جانب دار نہیں رہے۔
50ء کی دہائی میں ہمارے "Policy Makers” نے کمیونزم کے خلاف جاری سرد جنگ میں "Front Line State Against Communism” کا تصور پیش کیا۔ پہلے ہم نے امریکہ کے ساتھ دوطرفہ دفاعی معاہدہ کیا اورپھر ہم "SEATO” اور "CENTO” کا حصہ بنے۔ ہم نے سوویت یونین کے خلاف جاسوسی کے لیے امریکہ کو بڈھ بیر(پشاور) کا ہوائی اڈا دے کر رہی سہی کسر بھی پوری کردی۔ جس سے اُٹھنے والے امریکی U2 طیارے کو جب سوویت یونین نے مار گرایا، تو ہمیں کافی شرمندگی بھی اٹھانی پڑی اور آخرِکار معافی مانگ کر ہم نے اپنی جان بچائی۔
مگر ان وفاداریوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب 1965ء میں ہماری بھارت کے ساتھ جنگ چھڑ گئی، تو الٹا امریکہ نے ہم پر پابند یاں لگا دیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ جب سوویت یونین اور "Warsaw Pact” ختم ہوا، امریکہ تنہا دنیا کا تھانے دار بن گیا اور مزید ہماری ضرورت نہیں رہی، تو انھوں نے ہمارے ایٹمی پروگرام کو لے کر ہم پر ایک بار پھر مختلف قسم کی پابندیاں لگا دیں۔ اب یہ باب بن کرتے ہیں اور تھوڑا آگے جاتے ہیں۔
جون 2001ء کو روس، چین اور دیگر وسطی ایشیائی ریاستوں کی مشترکہ کاوش سے ’’شنگھائی کو آپریشن آرگنائزیشن ‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس تنظیم کا مقصد دہشت گردی، انتہا پسندی‘ علاحدگی پسند تحریکوں اور خطے میں امریکہ اور نیٹوں کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کا مقابلہ کرنا تھا۔ مغربی اور خصوصاً امریکی دانشوروں نے اس تنظیم کو "Warsaw Pact” سے تشبیہ دی…… اور اسے خطے میں امریکی مفاد کے لیے "Challenge” قرار دیا۔
مزید دل چسپ بات یہ ہے کہ جون 2001ء میں یہ تنظیم بنتی ہے اور اس کے تین مہینے بعد ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ ہوتا ہے۔ نتیجتاً امریکہ اپنے اتحادیوں سمیت افغانستان پر حملہ کرتا ہے۔ عالمی معاملات پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان پر حملے کے پیچھے دیگر مقاصد کے ساتھ ساتھ امریکہ کا بڑا مقصد چین کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثرو رسوخ اور معاشی طاقت کی روک تھام تھا۔ افغانستان پر حملے کے وقت امریکہ نے ہمیں بھی حکم دیا کہ آپ نے ہمارا ساتھ دینا ہے۔ ہم نے حکم کی بجا آوری کی…… اور یوں ہم "Front Line State Against Terrorism” بن گئے۔ "The Express Tribune” میں شایع ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق دہشت گردی کے نام جنگ پر 2002ء سے 2016ء تک پاکستان کو آمریکہ سے 18.8 بلین ڈالر کی امداد ملی ہے، جب کہ اس کے برعکس اس جنگ کی وجہ سے پاکستان کو 123.13 ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔ جانی نقصان اس کے علاوہ ہے۔
اب دوبارہ "SCO” کی طرف آتے ہیں۔ جولائی 2005ء کو "SCO” کے اجلاس میں امریکہ سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ وہ خطے سے اپنی فوج نکالنے کے لیے واضح تاریخ مقرر کرے۔ نومبر 2005ء کو روسی وزیرِ خارجہ نے یہ بات دہرائی کہ "SCO” منصفانہ اور معقول ورلڈ آرڈر قایم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ 2007ء میں ہونے والے اجلاس میں ایرانی نایب صدر پرویز داودی نے کہا کہ بین الاقوامی بینکی نظام کے تسلط سے آزاد نئے بینکی نظام قایم کرنے کے لیے "SCO” ایک اچھا پلیٹ فارم ہے، جب کہ روسی صدر پیوٹن نے اپنے خطاب میں کہا کہ اب ہمیں عالمی مالیاتی نظام پر قایم اجارہ داری میں خامی اور معاشی خود غرضی کی پالیسی واضح نظر آرہی ہے۔ عالمی مالیاتی نظام کو تبدیل کرنے کے لیے روس اپنا کردار ادا کرے گا، تاکہ دنیا میں خوشحالی اور ترقی کو یقینی بنایا جاسکے۔
جون 2019ء کو منعقد ہونے والے "SCO” اجلاس میں پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے تنظیم کے ممبر ممالک سے کہا کہ وہ ڈالر کی بجائے علاقائی کرنسی میں تجارت کرے۔
اس وقت یوکرین کے معاملے کو لے کر روس کے امریکہ سے تعلقات خراب ہیں جب کہ چین جو کہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے "One Belt One Road” جیسے منصوبے پر کام کرہا ہے جس سے چین تقریباً 70 ممالک میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت چین زمینی اور سمندری راستوں سے کئی ممالک کو منسلک کر رہاہے، جس سے تجارت کو فروغ حاصل ہوگا۔ ’’سی پیک‘‘ اس بڑے منصوبے کا چھوٹا سا حصہ ہے۔ Xi Jinping "OBOR” کی خارجہ پالیسی کا کلیدی حصہ ہے جس سے چین اپنی بڑھتی ہوی طاقت کے حساب سے عالمی معاملات میں قایدانہ منصب سنبھال لے گا۔
قصہ مختصر دھیرے دھیرے دنیا دوبارہ "Unipolar” سے "Bipolar” کی طرف گام زن ہے۔ خیر، عالمی منظرنامے میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں، لیکن ایک چیز جو کبھی نہیں بدلتی اور مستقل رہتی ہے وہ ملکی مفاد ہوتا ہے…… بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ عالمی معاملات میں نہ دوست مستقل ہوتاہے نہ دشمن…… صرف ملکی مفاد مستقل ہوتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک کی کہانی الگ ہے۔ یہاں خارجہ محاذ پر فیصلے ملکی مفاد کو سامنے رکھ کر نہیں کیے جاتے…… بلکہ امریکی رضا و خوش نودی کو سامنے رکھ کر کیے جاتے ہیں۔ پہلے امریکہ کمیونزم کے خلاف لڑ رہا تھا، تو ہم نے "Front Line State Against Communism” کا تصور پیش کیا۔ پھر انہوں نے افغانستان پر حملہ کیا، تو ہم "Front Line State Against Terrorism” بن گئے۔ اب جب کہ باقی ممالک روس سے سستا تیل خرید رہے ہیں، تو ہم ایسا نہیں کرسکتے۔ کیوں……؟ کیوں کہ امریکہ کے روس کے ساتھ تعلقات ٹھیک نہیں اور اگر ہم ایسا کرتے ہو، تو امریکہ بہادر ناراض ہوجائے گا۔ ویسے اگر ہم ان کی حکم عدولی نہیں کرسکتے اور سب کچھ ان کے حکم کے مطابق ہی کرنا ہے، تو کیوں نہ ان کی براہِ راست غلامی کریں۔ کیوں نہ پارلیمنٹ، سینیٹ، صوبائی اسمبلیاں اور الیکشن کمیشن ختم کرکے امریکہ سے کہیں کہ وہ یہاں پر اپنا وائسرائے مقرر کرے۔ ایسا کرنے سے کم ازکم ہم غریب عوام کو نام نہاد جمہوریت کے نام پر ان ’’عمارتوں‘‘ کے اخراجات سے تو چھٹکارا مل جائے گا۔ کیوں کہ ان سینیٹ/ اسمبلی اجلاسوں اور انتخابات پر آنے والے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے بھی تو آپ لوگ ہم غریب عوام پر ٹیکس لگاتے ہیں……!
تو کیوں نہ اس سفید ہاتھی سے چھٹکارا حاصل کیا جائے!
……………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔