ڈسڑکٹ بونیر، خیبر پختون خوا میں سواڑی شہر سے گزرتے ہوئے رُک کر ہم نے وہاں کی مشہور سوغات ’’کٹا پلاو‘‘کھانے کی کوشش کی…… مگر بھرے بازار میں پارکنگ کی جگہ نہ ہونے کی وجہ سے ہم رُک نہ سکے۔ اس چاولوں والی سوغات کا ذکر ہم نے مینگورہ میں وہاں پر اپنے جگری یار شوکت علی کے منھ سے سنا تھا۔ ہو ’’بورے والا‘‘ کا تاتاری اور وہ کسی علاقے کی معروف کھابا سوغات کو چھوڑ کر کھائے بنا یوں ہی گزر جائے…… ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ ملتان جائیں، تو وہاں کی مشہور سوغات ’’ملتانی سوہن حلوا‘‘ نہ کھائیں…… یا راہ والی جائیں، تو وہاں کی مشہور قلفی کھائے بنا گزر جائیں…… یہ تو ممکن نہیں۔ خاص طور پر جب آپ سرٹیفائیڈ تاتاری ہوں…… مگر ملتان کے سوہن حلوے اور راہوالی کی قلفی کی طرح یہاں سواڑی میں بھی کٹا پلاو کی بہت سی دکانیں تھیں۔ ارشاد انجم کہنے لگا کہ یہ بات آپ مجھ پر چھوڑ دیں۔ مَیں کوئی نہ کوئی جگاڑ لگا کر پتا کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ ان میں اصلی پلاو والے کون ہیں؟ وہ گاڑی سے اُتر کر پہلے ایک میڈیکل سٹور پر گیا۔ وہاں سے پیناڈول کا ایک پتہ گولیاں خریدیں۔ پھر ایک کتابوں والی دکان میں جا گھسا اور وہاں سے ایک پنسل خریدی۔ پھر دکان سے باہر نکل کر اپنے ہاتھ کا انگوٹھا کھڑا کر کے ہمیں اشارہ کرتا ہوا پاس ہی تھوڑی دور ایک کٹا پلاو والی دکان میں جا گھسا اور دو کلو کٹا پلاو پیک کروا لایا۔
آتے ہی کہنے لگا کہ یار یہ دکان والا پلاُ میں بوٹیاں کم ڈال رہا تھا۔ مَیں نے اسے کہا کہ دو سو روپے مزید لے لو، مگر ان میں بوٹیاں ذرا زیادہ اور سُر کی ڈال دیں۔ پھر باتوں ہی باتوں میں، مَیں نے اسے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ ہم بہت دور سے آئے ہیں…… اور ہم نے آپ کی دکان اور بہترین کھابے کا ذکر بہت سے لوگوں سے سن رکھا ہے، جن میں مینگورہ سوات سے ہمارے دوست شوکت علی بھی ہیں…… جنھوں نے چلتے وقت ہمیں خاص تاکید کی تھی کہ آپ کی دکان سے سواڑی کی کٹا پلاو ڈش کھانا کبھی نہ بھولنا۔ چناں چہ دکان دار تھوڑا پسیج گیا اور اس نے تین چار ’’بوٹ‘‘ اٹھا کر چاولوں کے اوپر رکھ دیے۔
جگاڑ سپیشلسٹ اینویں تو نہیں کہتے ہم آپ کو…… کیوں کہ آپ میں جگاڑ لگانے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔
ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ آگے چل کر راستے میں کوئی مناسب جگہ دیکھ کر کہیں پر رُکتے ہیں اور وہیں اس سوغاتِ کبیر کا تیا پانچا کرتے ہیں۔
امبیلہ سے آگے ایک پہاڑی موڑ پر جوں ہی ہم نیچے اتر رہے تھے تو ہمیں دور سے ایک ’’واٹر فال‘‘ نظر آئی۔ یہ چملا واٹر فال تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے فوراً گاڑی کو بریک لگائی اور ہم اس کا دیدار کرنے جا پہنچے۔ مزے کی بات یہ تھی کہ جو بھی گاڑی والا یا بائیک والا یہاں سے گزرتا، وہ یہاں پر ضرور رکتا تھا۔ اسی دوران میں ایک بارات بھی آن پہنچی…… جس میں بہت سے بچے جوان اور خواتین شامل تھیں۔ ان خواتین نے بڑے زرق برق اور شوخ رنگوں والے کپڑے زیبِ تن کیے تھے۔ برقع جات بھی اوڑھ رکھے تھے…… مگر یہاں پہنچ کر سب اُتار پھینکے اور تیز موسیقی چلا کر رقص شروع کر دیا۔ اُس وقت ہم قریب ہی بنے ہوئے ایک ہٹ میں بیٹھے سوغاتِ اکبری کھانے کے چکروں میں تھے۔ ہم تھوڑے تھوڑے چاول ڈال کر کھاتے رہے اور کن اکھیوں سے اس رقصِ ناگہانی کا دیدار مبارک بھی کرتے گئے…… اور ساتھ میں آسمانی وسعتوں سے گرتی آبشار کے مزے بھی لیتے۔ یوں یہاں پر ہم نے ایک ٹکٹ میں تین مزے کیے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔