آج کل ’’غلامی غلامی‘‘ کا ورد شروع کیا گیا ہے، تو ایسے میں خیال آیا کہ تسلط کے ایک ایسے عمل کی طرف اشارہ کروں جس کا شکار ہمارا شمال سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس عمل کو انگلش میں ’’کولونائزیشن‘‘ کہا جاتا ہے…… جس کا اُردو میں اکثر ترجمہ ’’نو آبادکاری‘‘ یا ’’نو آبادیت‘‘ کیا جاتا ہے جس سے مراد کوئی قوم یا گروہ کا کسی دوسرے گروہ پر بالادست آکر اس گروہ کی زمینوں پر اپنی آبادیاں بنانا ہے ہے۔ تاہم یہ تعریف قدرے تشنہ ہے جو کولونائزیشن کا پورا مطلب واضح نہیں کرتا۔
نوآبادکاری، کولونائزیشن کا وہ پہلو ہے جو آشکارا ہوتا ہے۔ جب کوئی گروہ کسی دوسرے گروہ کو اس کی زمینوں سے بے دخل کرکے وہاں قبضہ جماتا ہے، یہ سب کو نظر آتا ہے…… جب کہ دوسری طرف کولونائزیشن اپنے اندر ایسے نفسیاتی، سماجی، ثقافتی اور سیاسی اثرات رکھتی ہے کہ وہ نہ صرف دیرپا بلکہ بہت گہرے ہوتے ہیں…… اور ان کو واپس کرنا یعنی زیرِ تسلط گروہوں کی نفسیات، ثقافت اور سماج سے نکالنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ زمینوں کو اکثر لڑائی جھگڑوں کے ذریعے واپس کیا جاسکتا ہے…… لیکن کولونائزیشن کے ان دوسرے اثرات کو نکالنے کے لیے بہت وقت درکار ہوتا ہے ۔
کولونائزیشن انسانی تاریخ کے ہر دور میں رہی ہے۔ تاہم اس کی بڑی مثالیں یورپی ممالک کی ایشیا، افریقہ اور امریکہ کی قوموں کو زیر کرنا اور ان کو اپنی کالونیوں میں تبدیل کرنا ہیں۔ اس عمل کو بیرونی کولونائزیشن کہا جاتا ہے…… جب کہ دوسری جانب اندرونی کولونائزیشن کی مثالیں ان مثالوں سے زیادہ ہیں۔ برصغیر پر برطانیہ کی حکم رانی ہو کہ فرنگیوں یا پرتگیزوں کی یا افریقہ پر فرانس کا قبضہ ہو یا پھرروس کا وسطی ایشیائی ممالک پر قبضہ…… یہ سب کولونائزیشن میں آتا ہے اور یہ بیرونی کولونائزیشن کی مثالیں ہیں…… جب کہ جب کسی جگہ کوئی بڑا گروہ کسی چھوٹے گروہ پر تسلط جمائے، تو اس کو اندرونی کولونائزیشن کہا جاتا ہے۔
دنیا کی بڑی اور بزعمِ خویش آزاد، ترقی یافتہ اور مہذب قوموں کا بنیادی خاصا رہا ہے کہ دنیا میں اپنا فرض سمجھتے کہ وہ دوسری قوموں کو بھی مہذب بنالیں۔ اس نکتۂ نظر کو بڑے بڑے فلسفیوں اور دنیا کے بڑے مذاہب نے بھی پروان چڑھایا ہے۔ کانٹ کے نزدیک افریقائی لوگ خرد، تہذیب اور تاریخ سے ناواقف تھے، تو کارل مارکس کے نزدیک انڈیا کی کوئی تاریخ نہیں اور یہ ایک قبایلی و دقیانوسی معاشرہ رہا ہے۔
اسی طرح داردستان یعنی موجودہ شمالی پاکستان، مشرقی افغانستان اور ہندوستان کے بالائی علاقوں، کشمیر وادی کو سولھویں صدی سے اس عمل کا شدت سے سامنا رہا ہے۔ اس پورے خطے کو کافرستان قرار دے کر مقامی دیسی آبادیوں کی قتل و غارت کو جایز بنایا گیا۔ ان کی زمینوں پر قبضہ کیا گیا۔ ان کی ثقافتوں کو تہس نہس کیا گیا اور ان کی شناخت کو مٹاکر اپنی طرف سے شناخت ٹھونسی گئی۔ یوں ان علاقوں کو بتدریج ضم کیاگیا اور یہاں کے مقامی وسایل کو لوٹا گیا۔ وقت کے ساتھ اور کوئی مقامی علمی و فکری مزاحمت نہ ہونے کے سبب ان لوگوں نے کولونائزیشن کے کئی پہلوؤں کو اپنی نفسیات میں بھی شامل کیا۔ ماضی کی یادداشتیں ختم ہوئیں۔ ان کے اندر بالادست کے ہمہ گیر (علمی، ثقافتی، زمینی، سیاسی، معاشی) تسلط کو آہستہ آہستہ پذیرائی نصیب ہوتی گئی۔ مثال کے طور پر ان علاقوں میں نوآبادکاروں کی جنگی مزاحمت کرنے والوں کا کوئی نام و نشان نہیں…… جب کہ ان نو آبادکاروں کو مختلف مقدس و سیکولر القابات سے نوازا گیا۔ نو آبادکاروں کا بنیادی ہتھیار مقامی دیسی آبادیوں کے ہیروز کو ویلن بنانا ہوتاہے۔ دنیا کے ہر کونے میں ان دیسی آبادیوں کو آدم خور کہا گیا۔ ہمارے ہاں کئی مثالیں موجود ہیں، تاہم جو مقبول مثال ہے وہ گلگت کے بادشاہ شری بدت کی ہے۔ ان کو اب بھی آدم خور کہا جاتا ہے۔ مقامی آبادیوں کو کافر قرار دے کر ان کو ان کی نسلوں کے ذہن سے مٹا دیا گیا۔ یوں کولونائزیشن پوری طرح پیوست ہوگئی۔
نام نہاد ’’نیشن سٹیٹس‘‘ (Nation States) کی بنیاد یورپ میں ’’لبرل ازم‘‘ پر ڈالی گئی۔ لبرل ازم، سیاسیات میں بظاہر اچھا نظریہ ہے۔ کیوں کہ یہ شہری مساوات، آزادیِ فرد، جدید سیاسی اداروں اور روشن خیالی پر بنیاد کرتا ہے…… تاہم اپنے اندر ریاست سازی کے اس عمل میں لبرلزم نے بھی کم زور و دیسی طبقات کو انسانی و شہری مساوات کا خیالی لقمہ دے کر ایک ہی آئینی و قانونی ڈھانچے کے دعوے پر مزید کم زور کیا ہے۔ انسان کی آفاقی مساوات کا نظریہ بہت دل کش ہے۔ اسی طرح کسی ریاست کے اندر شہری مساوات کا نظریہ پُرکشش ہوتا ہے…… مگر مساوات کے اس ڈھونگ میں ان افراد اور قوموں کو ویسے مساوات کی اس لبرل آئینی ٹوکری میں ڈال کر ان کو یکسانیت کی طرف لے جایا جاتا ہے…… اور یوں ان کو بتدریج اپنے خصوصی حقوق سے محروم کیا جاتا ہے۔ اس کو ایک آسان مثال سے واضح کرتا ہوں۔ کسی سرکاری جاب کے لیے گبرال کے ہائی سکول اور لمز لاہور کے طلبہ کا ایک طرح کا امتحان لیا جائے گا۔ اسی طرح سوات یونیورسٹی یا شیرنگل یونیورسٹی اور ہارورڈ یونیورسٹی کے طلبہ کے بیچ ایک طرح کا مقابلہ کیا جانا بھی اسی لبرل مساوات کا نتیجہ ہے۔آپ خود سوچیں یہاں گبرال اور سوات یونیورسٹی کے اس طالب علم کے لیے دستیاب مواقع اور ہارورڈ اور لمز کے اس طالب علم کے حالات کو یکساں تصور کیا گیا۔ کیا دونو ں کے حالات ایک جیسے ہوسکتے ہیں؟
دوسری مثالیں اس لبرل ریاست کے اصول کی یہ ہیں کہ چوں کہ سب شہری برابر ہیں، اس لیے سارے وسایل ریاست کے ہیں اور مکاری سے یہ فرض کیا جاتا ہے کہ ان وسایل پر سب کا حق برابر کا ہے…… یعنی کالام کے جنگلات پر کالام اور پورے ملک اور صوبے کے لوگوں کا برابر کا حق ہے۔ لہٰذا ان جنگلات سے جو آمدن آئے گی، اگر وفاق کی سطح پر نہیں، تو صوبے کی سطح پر خرچ ہوگی۔ مطلب جنگلات کالام، بحرین میں ہیں اور ان کی آمدن سے کالج، یونیورسٹیاں یا سڑکیں اور کارخانے پشاور یا اسلام آباد میں بن رہے ہیں۔
دوسری مثالیں دیکھیں۔ انڈس دریا گلگت بلتستان سے نکلتا ہے۔ دریائے سوات یہاں سوات کے پہاڑوں سے نکلتا ہے۔ فطرت کا قانون یہ ہے کہ جن وسایل کی پیدوار جہاں سے ہو، ان کے استعمال کا پہلا حق وہیں کے لوگوں کا ہے۔ اس کے بعد دوسرے لوگ آئیں گے۔ ان دریاؤں سے ڈیم بنیں گے، بجلی گھر بنیں گے…… لیکن ان کی آمدن مرکز میں خرچ ہوگی…… اور جہاں یہ وسایل ہیں، وہاں کے لوگوں کو بھی چوں کہ ان لبرل مساوات کی بنیاد پر دوسرے شہریوں کے یکساں فرض کیا گیا ہے…… لہٰذا ان سے ان مالکان کو وہی ملے گا جو دوسروں کو ملتا ہے۔ اگر کوئی پالیسی ہوگی تو رائلٹی زیادہ سے زیادہ صوبے کو دی جائے گی۔ صوبوں کے مراکز میں ان علاقوں کی نمایندگی نہ ہونے کے برابر ہے، اور جو ہے وہ انتہائی ناواقف ہونے کے ساتھ ساتھ اس اندرونی کولونائزیشن کانفسیاتی طور پر شکار ہے کہ مرکزی طاقت کو چیلنج نہیں کرسکتے۔
مضمون لمبا ہوتا گیا۔ سیاہ فام فلسفی اور سیاہ فاموں کے حقوق کے لیے کولونائزیشن کے خلاف برسرپیکار کارکن فرانٹز فینن نے کہا تھا کہ میں ماضی میں رہنا نہیں چاہتا۔ ماضی کو صرف حال کے زخموں سے جوڑنا چاہتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ مَیں حال میں رہنا چاہتا ہوں اور حال کے مسایل کو سامنے رکھتا ہوں۔
ایسے میں کیا یہ ہمارا فرض نہیں بنتا کہ ہم اپنے وسایل پر اپنا اختیار واپس لے لیں…… یعنی ان وسایل میں اپنے لیے لبرل مساوات کے برعکس اپنے لیے خصوصی آئینی اور پالیسی حقوق لے لیں۔
کیا ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ ہم اپنی شناخت، اپنی تاریخ اور اپنی ثقافت کو نہ صرف اپنالیں بلکہ ریاست کے آئین اور قانون سے ان کے لیے امتیازی حقوق کا مطالبہ کریں۔
………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔