آج سے تقریباً 64 سال پہلے پاکستان کے بڑے صوبے مشرق پاکستان (اب بنگلہ دیش) میں عوامی مسلم لیگ اور اتحادیوں کی حکومت تھی۔ دونوں صوبوں میں سیاسی عدمِ استحکام زوروں پر تھا۔ عدمِ استحکام اور غیر ذمہ دارانہ رویوں کی وجہ سے 23 ستمبر 1958ء کو ملک کے بڑے صوبے مشرقی پاکستان میں افسوس ناک واقعہ رونما ہوا۔ اُسی دن جب مشرقی پاکستان میں اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا، تو چھے ارکانِ اسمبلی کی معطلی پر بدترین ہنگامہ آرائی شروع ہوئی۔ سپیکر نے کنٹرول کرنے کی بہت کوشش کی…… لیکن حالات اُن کے ہاتھ سے نکل چکے تھے…… اور نوبت یہاں تک پہنچی تھی کہ سپیکر کو اسمبلی میں پولیس کو بلانا پڑا، تاکہ حالات کو کنڑول کیا جاسکے…… مگر پولیس بھی ہنگامہ آرائی کنڑول کرنے میں بری طرح ناکام رہی۔ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے سپیکر اسمبلی سے چلے گئے۔ ان دنوں شاہد علی پٹواری مشرقی پاکستان صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر تھے۔ اُنہوں نے کارروائی کو آگے بڑھانا چاہا، تو اُنہیں سپیکر کی کرسی پر بیٹھنے نہیں دیا گیا۔ ڈپٹی سپیکر نے سپیکر کی کرسی پر بیٹھنے کی بجائے ایوان میں بیٹھ کر اسمبلی کی کارروائی چلانے کی کوشش کی…… لیکن وہ بھی ہنگامہ آرائی روکنے میں ناکام رہے۔ اسمبلی کی گیلری میں موجود مہمانوں اور آسمان نے یہ تماشا اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایوان میں کرسیاں چل گئیں۔ سنتے چلے آرہے ہیں کہ اسی ہنگامہ آرائی میں ایک پیپر ویٹ ڈپٹی سپیکر کے چہرے پر لگا جب کہ بعض لوگوں کے مطابق اُنہیں کرسی لگنے سے چہرے پر گہرے زخم آئے۔ نتیجتاً اُنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا…… مگر دو دن بعد وہ ہسپتال میں وفات پاگئے اور یوں یہ بدنما داغ ہمارے جمہوریت کے منھ پر ہمیشہ کے لیے لگ گیا۔
16 اپریل 2022ء کو ہفتے کے روز پنجاب اسمبلی میں عدالتی حکم کے مطابق وزیرِ اعلا پنجاب کے انتخاب کے لیے ووٹنگ ہونا تھی۔ حکومتی ارکان پاکستان تحریکِ انصاف اور وزیرِ اعلا کے امیدوار چوہدری پرویز الٰہی مسلم لیگ قاف کے ارکانِ اسمبلی اپنے ساتھ اسمبلی ہال میں رنگ برنگے لوٹے لائے اور اسمبلی ہال میں نعرے لگاتے رہے کہ ہمیں ہمارے لوٹے واپس کریں۔ ڈپٹی سپیکر کے کرسی پر آتے ہی حکومتی اور اتحادی ارکان نے اُن پر لوٹے برسائے۔ بعض خواتین ارکان سمیت دوسرے ارکان نے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری پر حملہ کیا۔ بال نوچے اور انہیں مارا…… مگر اسمبلی کے اہلکار اُنہیں واپس اپنے چیمبر میں لے جانے میں کامیاب ہوئے۔ ہنگامہ آرائی کے بعد پولیس کو طلب کیا گیا۔ پولیس کے کمانڈوز اسمبلی ہال میں داخل ہوگئے اور اُنہوں نے تحریکِ انصاف کے بعض ارکانِ اسمبلی کو گرفتار بھی کیا۔
بعض تجزیہ نگاروں اور قانونی ماہرین کے مطابق 16 اپریل کو وزیرِ اعلا کا انتخاب لازمی تھا۔ ڈپٹی سپیکر اپنے چیمبر سے اسمبلی کی کارروائی بڑھانے لگے، تو ایک بار پھر ہنگامہ آرائی شروع ہوئی۔ اس ہنگامہ آرائی کے دوران میں حکومتی، حکومت کے اتحادی، اپوزیشن اور تحریکِ انصاف کے منحرف ارکانِ اسمبلی نے ایک دوسرے کو مارا، ہنگامہ آرائی میں چوہدری پرویز الٰہی، تحریکِ انصاف کی ایک خاتون رکنِ اسمبلی سمیت دیگر بھی زخمی ہوئے…… جنہیں طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
اس موقع پر سابق سپیکر پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق ارکانِ اسمبلی کے سوا کسی اور کا داخلہ اسمبلی ہال میں ممنوع ہے۔ ڈپٹی سپیکر نے پولیس کو بلا کر غیر آئینی کام کیا ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے مسلم لیگ نون پر الزام لگایا کہ حمزہ شہباز نے مہمانوں کی گیلری میں گوالمنڈی کے غنڈے بٹھائے رکھے تھے۔ اُن غنڈوں نے اسمبلی ہال میں آکر مجھے مارا۔ میرے بازو کی ہڈی توڑ دی اور مَیں بے ہوش ہوگیا۔
قارئین! آج اگر ہم پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں سیاسی عدمِ استحکام اور بدترین ہنگامہ آرائی کا بغور جایزہ لیں، تو اُس وقت ملک کے بڑے صوبے مشرق پاکستان اور پنجاب میں رونما ہونے والے دونوں افسوس ناک واقعات میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ اس واقعہ پر پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگر عدالتیں منحرفین کے خلاف کیس کے حوالے سے بر وقت فیصلہ دے دیتیں، تو کبھی اس قسم کے واقعات پیش نہ آتے۔
مشرقی پاکستان کی صوبائی اسمبلی میں سیاسی عدمِ استحکام اور بدترین ہنگامہ آرائی کے بعد ملک میں جمہوریت کا بساط لپیٹنے کے منصوبے بنائے جانے لگے اور اُس ناخوش گوار سانحہ رونما ہونے کے دو ہفتے بعد 7 اکتوبر 1958ء کو جنرل ایوب خان نے ملک بھر میں مارشل لا لگایا۔ مارشل لا لگانے کے جواز میں دیگر کے علاوہ ڈپٹی سپیکر شاہد علی پٹواری کا قتل بھی فہرست میں شامل تھا۔
گذشتہ دِنوں مرکز میں جو کچھ ہوا اور پنجاب میں جو کچھ ہو رہا ہے، اگر ملک میں سیاسی عدمِ استحکام اور ہنگامہ آرائی کی یہ صورت رہی، تو ممکن ہے کوئی تیسرا آکر ملک میں جاری جمہوریت کی بساط لپیٹ لے اور سیاست دان ہاتھ ملتے رہ جائیں۔ ملک میں سیاسی عدمِ استحکام سے سیاسی پارٹیوں کو جو نقصان ہونا ہے…… وہ تو ہوکر رہے گا، لیکن اس سے کہیں زیادہ نقصان مملکتِ خداداد پاکستان کا ہی ہوگا۔ اس لیے سیاسی قایدین ہوش کے ناخن لیں اور ملک میں مزید عدم استحکام پیدا کرنے سے گریز کریں…… ورنہ اُن کے ہاتھ رسوائی کے سوا کچھ نہیں آئے گا۔
……………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔