’’نوموفوبیا‘‘ (Nomophobia) کی اصطلاح موبایل فون سے دور رہنے کے خوف کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
دنیا میں پہلا ’’آئی فون‘‘ 2007ء میں استعمال ہوا اور تب سے اس کا استعمال مسلسل بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ اب تو ’’سمارٹ فون‘‘ ہماری زندگی کا لازمی جز بن چکا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم اپنے جوتے پہنے بغیر جانے کا تصور کرسکتے ہیں…… مگر اپنے ’’سمارٹ فون‘‘ کے بغیر جانا بہت مشکل کام ہے۔
’’نوموفوبیا‘‘ نے ہماری زندگی کو مشکل میں مبتلا کر رکھا ہے۔ 2022ء میں تو ہم موبایل فون کے ساتھ کچھ یوں چپک چکے ہیں کہ اگر ہم اس سے جان چھڑانا بھی چاہیں، تو یہ ہماری جان چھوڑنے کو تیار نہیں۔
’’نوموفوبیا ‘‘ کی وجہ سے ہم بے شمار مسایل و مصایب کا شکار ہوچکے ہیں۔ بے خوابی، پریشانی، بے چینی، دباو، تناو، اداسی، چڑ چڑاپن، جذباتیت اور بے سکونی نے ہمیں گھیر رکھا ہے۔
اس وقت دنیا کی 66 فی صد آبادی ’’نوموفوبیا‘‘ کا شکار ہے۔ تناسب کے لحاظ سے ایک فرد دن میں تقریباً 3 گھنٹے موبایل فون استعمال کرتا ہے۔ موبایل فون استعمال کرنے والے دن میں تقریباً 2,617 بار ’’کلک‘‘، ’’ٹیب‘‘ یا ’’سوایپ‘‘ کرتے ہیں۔ 50 فی صد سے زیادہ افراد اگر اپنا موبایل فون گھر بھول جائیں، تو وہ بے چینی محسوس کرتے ہیں۔
کاروں کی وجہ سے ہونے والے حادثات میں سے 26 فی صد حادثات ڈرائیونگ کے دوران میں موبایل فون کے استعمال کی وجہ سے ہوتے ہیں۔
موبایل فون کی لت سے نکلنے کے لیے 58 فی صد لوگ کوشش کر رہے ہیں، تاہم ان میں سے محض41 فی صد ہی کسی حد تک موبایل فون کے استعمال کو کم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
87 فی صد موبایل فون استعمال کنندگان سونے اور جاگنے سے پہلے اور بعد میں اپنے موبایل فون چیک کرتے ہیں۔
69 فی صد افراد جاگنے کے پہلے 5 منٹ میں اپنا موبایل فون چیک کرتے ہیں۔
عام افراد میں سے 40 فی صد جب کہ 18 تا 34 سال عمر کے 60 فی صد موبایل فون کی غیر ضروری لت میں مبتلا ہیں۔
ایک تناسب سے ایک فرد موجودہ تخمینے کے مطابق اپنی زندگی کے 6 سال سمارٹ فون پر ہی گزار دے گا۔
اس طرح روزانہ 5 گھنٹے سے زیادہ وقت سمارٹ فون پر گزارنے والے نوجوانوں میں خودکشی اور جرایم کا رجحان 71 فی صد تک بڑھ چکا ہے۔ 47 فی صد والدین جب کہ 67 فی صد اساتذہ اس بات پر متفق ہیں کہ بچے سمارٹ فون کی خطرناک لت کا شکار ہو چکے ہیں اور یہ ان کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔
22 فی صد طلبہ ہر منٹ بعد اپنے موبایل فون کو چیک کرنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں روزانہ تقریباً ایک گھنٹا اپنے موبایل فون کو تنہائی میں استعمال کرتے ہیں…… جب کہ 33 فی صد سمارٹ فون کو دوستوں کے ساتھ رابطے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ 52 فی صد جوان لڑکے اور لڑکیاں کافی دیر تک خاموشی سے اپنے موبایل کے ساتھ چپکے رہنے کے عادی ہیں۔
اوسطاً ایک سمارٹ فون استعمال کرنے والا دن میں 150 بار فون لاک اور اَن لاک کرتا ہے۔ 50 فی صد سے زیادہ سمارٹ فون استعمال کرنے والے کبھی اپنا فون بند نہیں کرتے۔ 70 فی صد سمارٹ فون استعمال کرنے والے اپنے سمارٹ فون اپنے پاس رکھ کر سونے کے عادی ہیں۔ 40 فی صد نوجوان واش روم میں بھی اپنا موبایل استعمال کرتے ہیں۔
اس طرح دوستوں یا رشتہ داروں کے ساتھ ایک فرد اوسطاً دن میں تقریباً 63 بار اپنا موبایل چیک کرتا ہے۔ 86 فی صد افراد اپنے خاندان یا دوستوں کے ساتھ موجودگی میں موبایل فون کو بار بار نکال کر دیکھتے ہیں۔
قارئین! سال 2020ء میں کوووڈ 19 کے سبب موبایل فونز کے استعمال میں بڑی تیزی دیکھنے کو ملی۔
’’نوموفوبیا‘‘ کی لت سے بچنا بہت ضروری ہے۔ ہم اپنے ’’سمارٹ فون‘‘ استعمال کے وقت کے دورانیے کو کم کرنے کی کوشش کرکے اس سے جان چھڑا سکتے ہیں۔ ایسے ایپس موجود ہیں جو آپ کے روزانہ کے سمارٹ فون کے استعمال کو محدود کرنے میں مدددیتے ہیں۔ ہم اپنے موبایل فونز پر سمارٹ فون نہ استعمال کرنے والے اوقات کا الارم لگا کر اس سے بچ سکتے ہیں۔
ہم اس کی سکرین ٹایمنگ کم کرسکتے ہیں۔ ہم اسے فلایٹ موڈ پر لگا سکتے ہیں۔ ہم اس کی کلر سیٹنگ کو بلیک اور وایٹ میں تبدیل کر کے اس لت سے بچ سکتے ہیں۔
اس طرح اپنے گھر، دفتر، سکول، کالج وغیرہ میں ایک ’’نو موبایل زون‘‘ (No Mobile Zone) بنا دیا جائے، جہاں پر موبایل کا استعمال ہر گز نہ کیا جائے۔
قارئین! اسی موبایل نے ہمیں اپنے خاندان سے کاٹ کر رکھ دیا ہے۔ ہم جسمانی طور پرموجود ہو نے کے باوجود اپنے بہن بھائیوں، ماں باپ، بیوی بچوں اور دیگر قریبی عزیزوں سے کٹ کر ’’روبوٹس‘‘ والی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیے گئے ہیں۔
’’ماینڈ کنٹرولنگ تکنیک‘‘ کے ذریعے ہم ’’سکرولنگ‘‘ کو کم کرسکتے ہیں۔ اپنے سمارٹ فون کے استعمال کے اوقاتِ کار مقرر کرنے کے بعد ان پر سختی سے عمل کرنے کی کوشش کریں۔
سمارٹ فون کی لت کی ایک بڑی وجہ ان کا ضرورت کی بجائے عادتاً استعمال ہے۔ اس کا حل بھی بہت آسان ہے۔ ہم ان تمام ’’ایپس‘‘ کو ’’اَن انسٹالڈ‘‘ کر دیں…… جو ہمارے روز مرہ استعمال میں نہیں آتے…… اور تمام غیر ضروری پلیٹ فارمز کے نوٹیفیکیشنز کو بند کر دیں۔
اس طرح کم از کم کھانے پینے، فیملی کے ساتھ اور بطورِ خاص بیڈ رومز میں سمارٹ فون کے استعمال کی عادت کو ختم کر دیں، تو اچھا ہوگا۔
یہ بھی ایک غور طلب بات ہے کہ آیا لوگ ان سمارٹ فونز کے ساتھ کیوں چپک گئے ہیں جب کہ ریڈیو، ٹی وی اور دیگر ڈیوائسز کے ساتھ تو معاملہ یک سر مختلف ہے۔ اس کی یقینا بہت سی وجوہات ہیں۔ موجودہ پریشان کن دنیا میں لوگ حقیقت سے بچنے کے لیے، سماجی عدمِ تحفظ، دباو، بے چینی، لالچ، عزتِ نفس کی کمی اور شناخت کے احساس کی کمی کی وجہ سے ان سمارٹ فونز کا سہارا لیا جاتا ہے۔
عملی زندگی میں عدمِ برداشت، تعریف اور حوصلہ افزائی کی کمی، سماجی روابط میں کمی اور دوری، دوسروں کی جانب سے توجہ اور پسند وغیرہ کی کمی کی وجہ سے بھی ہم سمارٹ فون کی لت میں مبتلا ہوچکے ہیں۔
قارئین! ہمیں ٹیکنالوجی کو صحت مند انداز میں استعمال کرنا چاہیے۔ اسے اپنے لیے مصیبت نہیں بنانا چاہیے۔
شخصی اور انفرادی آزادی جو ہمیں عملی زندگی میں دیکھنے میں بہت کم ملتی ہے، وہ ہمیں سمارٹ فونز میں مختلف گیمز کے ذریعے دستیاب ہے۔ ’’آن لاین زندگی‘‘، ’’آف لاین زندگی‘‘ سے یکسر مختلف ہے…… جہاں ہمیں کافی حد تک آزادی اور چوایس موجود ہوتی ہے۔ جب ہماری معاشرتی اور سماجی ضروریات پوری نہیں ہوتیں، تو ہم ان کی تکمیل کے لیے سمارٹ فونز کے ذریعے آن لاین پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سمارٹ فونز کی لت کی وجہ سے ہم ڈھیر سارے مصایب کا شکار ہوچکے ہیں۔ ہمارا حافظہ کم زور پڑ رہا ہے۔ ہماری توجہ متاثر ہو رہی ہے۔ہماری صلاحیتوں کو زنگ لگ رہا ہے۔ ہم سے غلط فیصلے صادر ہو رہے ہیں۔
قارئین! کوشش کریں کہ موبایل کے غیر ضروری استعمال کے اوقاتِ کار میں کوئی متبادل سرگرمی اختیار کی جائے، تاکہ سمارٹ فونز کی لت سے جان چھڑائی جاسکے۔
چند طریقے یہ ہوسکتے ہیں:
٭ بجائے ایک جگہ بیٹھنے کے چلیں پھریں۔
٭ فیملی یا دوستوں کو وقت دیں۔
٭ کوئی جسمانی سرگرمی ورزش یا واک کاتعین کریں۔
٭ کم از کم دن میں 30منٹ کی فون بریک لینے کی عادت اپنائیں۔
٭ کوئی ایسا وقت یا جگہ جہاں پر آپ موبایل فون کے استعمال سے بچ نہیں سکتے…… اس جگہ اور وقت کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔
٭ اس کے سیاق و سباق کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔
اپنے ’’ڈیٹا لیمٹ‘‘ (Data Limit) کو محدود رکھیں، تاکہ غیر ضروری انٹر نیٹ دستیابی کی وجہ سے سمارٹ فونز کا غیر ضروری استعمال کم سے کم کیا جا سکتے۔
……………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔