جب ہم مڈل اور ہائی سکول کی جماعتوں میں پڑھتے تھے، تو اُردو کے اساتذہ صاحبان ہمیں ایک نصیحت آموز کہانی لکھا کرتے تھے جس کا عنوان تھا: ’’دوست وہ ہے جو مصیبت کے وقت کام آئے۔‘‘
کہانی کا پلاٹ یہ تھا کہ ’’کسی جنگل میں ایک بیل، ہرن اور لومڑی رہتے تھے۔ تینوں کے درمیان گہری دوستی تھی۔ یہ تینوں ایک دوسرے کے ہاں آتے جاتے…… اور ایک دوسرے کی میزبانی سے لطف اندوز ہوتے۔ ہمیشہ سچی دوستی کا دم بھرتے۔ اتفاقاً ایک دن بیل حسبِ معمول جنگل میں چر رہا تھا کہ تھوڑے فاصلے پر اُسے شیر کے غرانے کی آواز سنائی دی۔ بیل نے پیچھے دیکھا کہ شیر اُسے پھاڑنے کے لیے آرہا ہے۔ چناں چہ وہ وہاں سے دوڑا اور ہرن کے ہاں پہنچ کر اس سے پناہ دینے کی التجا کی…… لیکن ہرن نے صاف انکار کیا اور کہا کہ وہ اُسے پناہ دے کر شیر کی دشمنی مول نہیں لے سکتا۔ لہٰذا وہ مجبور ہے۔ بیل، ہرن کے پاس سے بھاگ کر لومڑی کے ہاں پہنچ گیا اور پناہ مانگی…… لیکن لومڑی نے بھی وہی ہرن والی بات کہی۔ اب بیل سمجھ گیا کہ یہ تو وقتی دوست تھے۔ لہٰذا اب مجھے شیر کی گرفت سے بچنے کے لیے خود ہمت دکھانی چاہیے۔ چناں چہ خدا کا نام لے کر وہ اپنی ٹانگوں کی پوری طاقت سے اس تیزی سے بھاگا کہ شیر کی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ یوں بہ مشکل اپنی جان بچائی۔‘‘
ہماری اس تمہیدی کہانی کا مقصد روس اور یوکرین کے درمیان موجودہ لڑائی، امریکہ کی بے وفائی اور کم زور ممالک کا دنیا کی سپر طاقتوں پر اندھا اعتماد اور کھوکھلا تکیہ ہے۔ درحقیقت امریکہ جو نیٹو کی قیادت کررہا ہے، ہمیشہ اپنے مفادات کو پیش نظر رکھ کر دوسروں سے دوستی کرتا ہے۔ یوکرین ماضی میں روس کا حصہ تھا۔ سابقہ سوویت یونین سے آزادی کے بعد اس کے پاس کثیر تعداد میں ایٹمی ہتھیار تھا، جس کو اس نے امریکہ اور برطانیہ کے کہنے پر رول بیک کیا۔ اس وعدے پر کہ مشکل حالات میں نیٹو اس کی حفاظت اور امداد کرے گا…… لیکن موجودہ مشکل حالات میں نیٹو نے اسے تنہا چھوڑ کر وعدہ خلافی کی۔ یہی وجہ ہے کہ یوکرین کے صدر نے شکوہ کیا کہ نیٹو نے سخت حالات میں اس کو اکیلا چھوڑ کر مشکلات میں پھنسادیا۔
جہاں تک امریکہ اور پاکستان کے درمیان دوستی کا تعلق ہے، تو پاکستان نے ہمیشہ امریکہ کا سچا ساتھی ہونے کا ثبوت دیا…… لیکن سابقہ ادوار میں امریکہ نے ہمیں مشکل حالات میں تنہا ہی چھوڑا۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں امریکہ نے ہم پر فوجی امداد بند کی۔ 1970ء کی پاک بھارت جنگ میں بھی امریکہ نے ہمیں دھوکا دیا۔ سقوطِ ڈھاکہ کے آخری دنوں میں امریکہ کے ساتویں بحری بیڑے کی خلج بنگال کی طرف بڑھنے کی اطلاع سننے میں آئی…… لیکن یہ دھوکا ثابت ہوا اور بیڑا ’’انٹر پرایز‘‘ کبھی نہ آیا۔ امریکہ کی چالاکی دیکھیے کہ جب افغان وار میں اُس کو پاکستان کی ضرورت پڑی، تو پاکستان کو نان نیٹو اتحادی درجہ دے دیا اور جب اپنا مفاد حاصل کیا، تو پاکستان کو مسایل کی دلدل میں تنِ تنہا چھوڑ دیا۔
شواہد سے ثابت ہے کہ امریکہ ہمیشہ ایک ناقابلِ اعتماد دوست رہا ہے۔ یہ ہمیشہ تھپکی دیتا ہے اور ’’فرنٹ مین‘‘ سے کہتا ہے کہ آگے بڑھو۔ میں تمہارے ساتھ ہوں…… لیکن فرنٹ لاین پر ہمیشہ ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ لہٰذا کم زور ممالک خصوصاً ’’اسلامی ممالک‘‘ کو چاہیے کہ وہ اپنے زورِ بازو پر لڑنے کی مہارت پیدا کریں۔ مسلمانوں کو تو اللہ تعالا نے قرآنِ کریم میں حکم دیا ہے کہ ’’اور جہاں تک تم سے ہوسکے ان دشمنوں (کفار) سے لڑنے کے لیے اپنے گھوڑے تیار رکھو۔‘‘
غور کا مقام ہے کہ آج سعودی عرب، عرب امارات اور قطر وغیرہ کے دفاع کا انحصار غیر ملکی افواج اور اسلحہ جات پر ہے۔ کافی مادی وسایل اور افرادی قوت رکھنے کے باوجود ان ممالک کی اپنے دفاع سے بے پروائی تاریخی غلطی ہے۔ یوکرین نے اگر چہ زندگی کے کئی شعبوں میں کافی ترقی کی تھی، لیکن ملکی دفاع میں بے پروائی سے اُسے برا نتیجہ بھگتنا پڑا…… اس لیے مسلمانوں کو یوکرین سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔
…………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔