بلوگرام کا رہایشی 28 سالہ محمد اسماعیل سوات آپریشن میں اپنا ایک پیر گنوا چکا ہے…… لیکن ہمت نہیں ہاری۔ وہ مصنوعی پیر لگواکر ’’سکریپ‘‘ اور برتن فروخت کرنے کا کاروبار کرتا ہے۔
اسماعیل اپنی کہانی خود اپنی زبانی بتاتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ 2009ء کا واقعہ ہے۔ اس وقت میری عمر 17، 18 سال تھی۔ ہم گھر میں تھے کہ اچانک مارٹر گولہ آگرا…… جس میں، مَیں بھی بری طرح زخمی ہوگیا۔ کرفیو کی وجہ سے ہسپتال جانا مشکل تھا اور اگلے دن مشکل سے سیدو شریف ہسپتال پہنچایا گیا…… وہاں تین دن پڑا رہا…… لیکن ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہم مجبور ہوکر پشاور روانہ ہوئے۔ کرفیو کی وجہ سے کٹھن راستوں پر چار دن کے طویل اور دردناک سفر کے بعد پشاور پہنچ گئے…… جہاں ڈاکٹروں نے زخم ناسور بننے کے پیشِ نظر ٹانگ ہی کاٹ دی۔ پھر جب ہوش میں آیا، تو سنا کہ میری ٹانگ کاٹ دی گئی ہے۔ ایسا لگا جیسے زندگی رُک سی گئی ہے۔ میری دنیا اجڑ گئی۔ آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ والد صاحب نے دلاسہ دیا لیکن بے سود۔
اسماعیل آگے کہتا ہے کہ ہسپتال سے واپس گھر آئے، تو کافی عرصہ گھر میں بستر پر پڑا رہا۔ پھر بیساکھیوں کے ذریعے آہستہ آہستہ چلنا پھرنا شروع کیا۔ کافی عرصہ بیساکھیوں پر زندگی گزارتا رہا۔ پھر والد صاحب کو کسی نے پشاور میں مصنوعی ٹانگ لگانے والے ہسپتال کا پتا دیا۔ مجھے وہاں لے جایا گیا اور مصنوعی ٹانگ لگوادی گئی۔ اب شکر ہے کہ اس کے ذریعے زندگی چل رہی ہے۔
اسماعیل کے بقول، مَیں بچپن سے اپنے والد کے ساتھ کام میں ہاتھ بٹاتا تھا۔ جب ٹانگ سے محروم ہوگیا، تو خدشہ لگ گیا کہ اب تو میں کسی کام کا نہیں رہا۔ پھر اللہ نے حوالہ دیا۔ والد کے 30 ہزار روپے کی مدد سے سکریپ کا کاروبار شروع کیا۔ آہستہ آہستہ وہ بڑھتا گیا۔ اب سکریپ کے ساتھ برتن فروخت کرنے کا کاروبار بھی کرتا ہوں، جس کی مالیت تقریباً 20 لاکھ روپے ہے۔ رکشہ چلا کر بھی محنت مزدوری کرتا ہوں۔




اسماعیل رکشہ چلا کر جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ (فوٹو: عصمت اخون)

اسماعیل نے آخر میں کہا کہ شادی شدہ ہوں اور تین بچوں کا باپ ہوں۔ معذوری کے حوالے سے اس کا کہنا تھا:’’آج تک مجھے کبھی معذور ہونے کا احساس تک نہیں ہوا۔ البتہ جب دوستوں کے ساتھ کہیں جاتا ہوں، تو احساس ہو جاتا ہے کہ کاش ان کی طرح چل پھر سکتا۔‘‘
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔