موجودہ حکمرانوں نے ’’دو نہیں، ایک پاکستان‘‘ کا نعرہ لگایا تھا…… جو مقبول ہوا۔ بدقسمتی سے سب کچھ مگر اس نعرے کے برعکس ہو رہا ہے۔ جو وعدے ہوئے تھے، دعوے کیے گئے تھے…… سب اس کے الٹا واقع ہو رہا ہے۔ مافیاؤں سے لڑنے کا اعلان کیا گیا تھا…… اب مگر ہر مافیا کو مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ خیر یہ سیاسی باتیں ہیں…… جو ہر روز سرِشام ’’ٹاک شوز‘‘ میں دہرائی جاتی ہیں۔
خدا لگتی کہوں تو چند مہینوں سے ٹاک شوز دیکھنا بھی چھوڑ دیا ہے۔ بہت سکون سا محسوس کر رہا ہوں۔ البتہ اخبار پڑھنے یا ٹی وی پرخبریں سننے کی عادت سے چھٹکارا پانا ذرا مشکل سا لگ رہا ہے۔ کیوں کہ یہ عادت بھی ہے اور پیشہ وارانہ مجبوری بھی۔ اس لیے خبروں کا سننا ہو یا اخبارات کا پڑھنا…… دونوں کے لیے تنقیدی نظر رکھتا ہوں۔ اس تنقیدی نظر ہی نے آج مجبور کیا کہ میڈیا پر کچھ لکھا جائے۔ کیوں کہ عموماً یہ خیال کیا جاتا ہے کہ میڈیا سماج کی عکاسی کرتا ہے۔ مظلوم کی فریاد کو صاحبانِ اقتدار تک پہنچاتا ہے۔ عوامی شعور میں اضافہ کرتا ہے۔ ظالموں اور غاصبوں کے خلاف بات میڈیا ہی میں کی جاتی ہے…… مگر مملکتِ خداداد میں کیا ایسا ہو رہا ہے……؟
اس سوال کا جواب ہر کوئی جانتا ہے۔ میڈیا کے ایک طالب علم کی حیثیت سے پہلے بھی ان صفحات میں عرض کرچکا ہوں کہ اس حوالے سے تحقیق ہونی چاہیے کہ میڈیا میں بڑے شہروں کو ہی کیوں کوریج دی جاتی ہے؟ دور اور پس ماندہ علاقوں کو کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے؟
صحافت کے کچھ بڑے ناموں سے جب اس حوالے سے پوچھا، تو کچھ کا کہنا تھا کہ ’’میڈیا کو اشتہارات کی ضرورت ہے اور اشہارات کی اکثریت چوں کہ شہروں سے ملتی ہے، اس لیے شہری خبروں کو شائع کرنا میڈیا کی مجبوری بن جاتا ہے۔‘‘
دیگر ماہرین کا کہنا تھا کہ ’’ملک میں میڈیائی آزادی ختم ہوچکی ہے۔ میڈیا ’’کنٹرولڈ‘‘ یا ’’مینجڈ‘‘ ہے۔ اس لیے شہروں سے دور جو ریاست یا حکومت مخالف آواز اٹھتی ہے، تو اس کو کوریج نہیں دی جاتی۔‘‘
ممکن ہے ان دو باتوں میں وزن ہو…… مگر ذاتی طور پر میں دونوں کو زیادہ وزنی نہیں سمجھتا۔ کیوں کہ میڈیا کا کام صرف یہ نہیں کہ وہ اشتہارات کے لیے حقائق سے صرفِ نظر کرے…… یا دباؤ کے نتیجے میں خاموش ہوجائے۔ اگر چہ عملی طور پر یہ دونوں کام مشکل ہیں۔
قارئین، عملی صحافت کرنے والے جانتے ہیں کہ کس طرح صحافی کو خریدا یا ڈرایا جاتا ہے! باوجود ان تمام مسائل اور وجوہات کے مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ پاکستانی اکثریتی ’’الیکٹرانک میڈیا‘‘ میں ملک کے کچھ حصوں کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے۔ مثلاً خیبر پختونخوا یا بلوچستان کے بڑے سے بڑے ایشوز کو ’’پلے ڈاؤن‘‘ کیا جاتا ہے جب کہ مرکز اور لاہور کی غیر ضروری خبروں کو بھی اہمیت دی جاتی ہے۔
اب دیکھیں نا! چند دنوں قبل ملاکنڈ میں ایک سماجی ورکر محمد زادہ کو قتل کیا گیا تھا۔ اس قتل کے خلاف پچھلے ہفتے لوگوں نے پشاور میں صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاج کیا…… مگر ’’مین اسٹریم میڈیا‘‘ میں اس کا ذکر تک نہیں آیا۔
اس طرح باجوڑ میں قاری الیاس نام کے ایک طالب علم کو قتل کیا گیا۔ پورا باجوڑ سڑکوں پر نکلا…… مگر ’’قومی میڈیا‘‘ میں سکوت کا عالم چھایا رہا۔
ٹھیک اسی طرح گذشتہ دو ہفتوں سے بلوچستان یونیورسٹی بند ہے۔ طلبہ سراپا احتجاج ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ یونیورسٹی ہاسٹل سے اِغوا کیے گئے ان کے ساتھیوں کو رہا کیا جائے…… لیکن درجنوں ٹی وی چینلوں میں کسی ایک کو بھی توفیق نہیں ہوئی کہ یہ خبر چلائے کہ یونیورسٹی کے بچوں کو اِغوا کس نے کیا ہے…… اور طلبہ سڑکوں پر کیوں بیٹھے ہیں……؟
آج (جمعہ کو) جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں…… احتجاجی طلبا کا کہنا ہے کہ اتوار تک ان کے ساتھی نہ ملے، تو احتجاج کا دائرہ ملک بھر تک پھیلایا جائے گا۔
اس طرح گوادر میں بھی ایک مہینا سے دھرنا جاری ہے…… لیکن میڈیا خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے۔ کیا یہ اشتہارات کا چکر ہے یا ریاستی اور حکومتی دباؤ کا نتیجہ ہے؟
قارئین، جو کچھ بھی ہو…… لیکن اگر میڈیا ان دو صوبوں کا اس طرح ’’پلے ڈاون‘‘ کرتا رہا، تو یہ نیک شگون نہیں۔ اس طرح دونوں صوبوں میں مزید بے چینی اور ’’مرکز بے زاری‘‘ پھیل سکتی ہے۔
رہے نام اللہ کا!
……………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔