سیاسی کش مہ کش اور عوامی بے بسی

Blogger Fazal Manan Bazda

پاکستان ہماری پیدایش سے سات سال پہلے آزاد ہوا، لیکن جو واقعات تاریخ کا حصہ ہیں، اُن سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی مفاد پرست ٹولہ حرکت میں آ گیا۔ بعض نادیدہ قوتوں نے قائدِ اعظم محمد علی جناح کو بلوچستان کے پُرفضا مقام زیارت پر نظر بند رکھا اور کراچی کی ویران سڑکوں پر مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔
لیاقت علی خان کو شہید کرنے والے کی بیوی، بچوں کو ایبٹ آباد میں گھر یا بنگلہ اور زرعی اراضی دی گئی اور اُن کے لیے وظیفہ مقرر کیا گیا۔ خان عبدالغفار خان اور اُن کے بیٹے خان عبدالولی خان پر غداری کے مقدمے قائم کیے گئے۔ سندھ کے جی ایم سید کو بھی غداری کے تمغے سے نوازا گیا۔
فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے اقتدار کو طول دینے کے لیے بیسک ڈیموکریسی (بی ڈی) کا نسخہ آزمایا اور جب محترمہ فاطمہ جناح، جنرل ایوب خان کے خلاف انتخابات میں حصہ لینے میدان میں اُتریں، تو اُن پر بھی غداری کے الزامات لگائے گئے۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی خدشہ تھا کہ فاطمہ جناح طبعی موت نہیں مری تھیں۔
پھر فیلڈ مارشل ایوب خان نے جاتے جاتے اقتدار ایک اور جنرل کے حوالے کیا۔ بہ امرِ مجبوری جنرل یحییٰ نے انتخابات تو کرائے، لیکن اقتدار میں واضح برتری حاصل کرنے والے شیخ مجیب الرحمان کو اقتدار دینے میں روڑے اٹکائے، جس سے پاکستان دولخت ہوا اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔
بھٹو نے اقتدار کو دوام دینے کے لیے خان عبدالولی خان پر غداری کا مقدمہ دائر کرکے حیدر آباد جیل میں پابندِ سلاسل کر دیا۔ 1977ء کے انتخابات میں کام یابی کے لیے جب بھٹو نے دھاندلی کرائی، تو اپوزیشن نے بھٹو کے خلاف تحریک چلائی اور نتیجے میں اقتدار پر جنرل ضیاء الحق نے قبضہ کرلیا۔
جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کو پھانسی کے پھندے پر لٹکایا اور 40 سال بعد سپریم کورٹ نے یہ تسلیم کیا کہ بھٹو کو ’’فیئر ٹرائل‘‘ کا موقع نہیں دیا گیا۔ اقتدار پر لمبا عرصہ قابض رہنے کے لیے اُس نے غیر جماعتی انتخابات کرائے، مگر جب وزیرِ اعظم محمد خان جونیجو نے جمہوریت کی طرف قدم بڑھانا شروع کیے، تو اُنھیں اقتدار سے الگ کر دیا گیا، مگر اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔ جنرل ضیا C-130 طیارے کے حادثے میں اس دنیا سے چلے گئے۔
1988ء کے بعد سیاست دان آپس میں دست و گریباں رہے۔ میاں محمد نواز شریف نے بے نظیر بھٹو کے خلاف ناجائز مقدمے بناکر اُنھیں جَلا وطنی پر مجبور کیا۔ 12 نومبر 1999ء میں جنرل مشرف نے اقتدار پر قبضہ کرلیا اور میاں محمد نواز شریف کو 10 سال کے لیے جَلا وطن کر دیا۔
پھر جنرل مشرف ہی کے دورِ اقتدار میں بے نظیر بھٹو اور بلوچ سردار اکبر بگٹی کو شہید کر دیا گیا۔
اب مگر ملک کے جو دگر گوں حالات ہیں، اُن پر ہر شہری متفکر ہے۔ ان حالات پر مسلسل تبصرے ہورہے ہیں، تجزیے پیش کیے جا رہے ہیں، لیکن لگتا یہی ہے کہ ملکی حالات کا حکم رانوں پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا، بل کہ وہ عوام اور ملک کے خستہ حالات پر نظر رکھنے کے بہ جائے اپنے اقتدار کو طوالت دینے اور اسے مضبوط کرنے کی طرف زیادہ توجہ دیے ہوئے ہیں۔
سیاسی مقام کو بڑھانے کے لیے حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے پر الزامات در الزامات اور کیچڑ اچھالنے کے سوا کچھ نہیں کر رہے… عوام کی فکر اور نہ ملکی مسائل کی طرف توجہ۔ اللہ خیر کرے، معلوم نہیں اس ملک کو کس طرف لے جایا جا رہا ہے…؟
یہ ایسا ہے کہ جہاز سمندر میں ہچکولے کھا رہا ہو، مگر ناخدا جہاز کو منجدھار سے نکالنے کی ترکیب ہی نہیں کر رہا ہو اور ناخدا یہ سمجھ رہا ہو کہ سمندر کی لہریں تک ہار کر بیٹھ جائیں گی، تو جہاز خود بہ خود صحیح سمت میں چلنے لگے گا، لیکن ایسا ممکن نہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ملک کو جس طرف لے جایا جا رہا ہے، اُس کی ذمے داری حکومت اور حزبِ اختلاف دونوں پر عائد ہوتی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ملک کو اُس دوراہے پر کھڑا کرنے والے صرف اور صرف حکم ران ہی ہوسکتے ہیں، چاہے وہ ماضی کے حکم ران ہوں یا موجودہ… اس لیے ان گھمبیر حالات کا ملبہ مکمل طور پر فوجی حکم رانوں پر نہیں ڈالا جاسکتا۔
2022ء کے بعد پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت نے اپنے دورِ اقتدار میں جو کچھ کیا اور آج موجودہ حکومت جو کچھ کر رہی ہے، اس سے لگتا یہ رہا ہے کہ حکم رانوں کو ملک سے زیادہ اپنے مفادات اور اقتدار کی طوالت عزیز ہے۔
حکم رانوں نے آئین اور قانون کی روح کے مطابق انتخابات سے روگردانی کی، تحریکِ انصاف کے ایم این ایز کے استعفوں کو منظور کرانے کے لیے حیلے بہانوں سے کام لیا۔ قومی انتخابات کے دوران میں تحریکِ انصاف سے انتخابی نشان چھین لیا گیا، جس میں محترم عدالت نے بھی حکم رانوں کا ساتھ دیا۔
مختلف انتخابی نشان کے ساتھ برتری حاصل کرنے والی تحریکِ انصاف کی جیتی ہوئی نشستیں دوسروں کو دی گئیں، جب کہ اُن کی خواتین کی مخصوص نشستیں بھی دیگر سیاسی جماعتوں میں تقسیم کی گئیں، جس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان اور عدالتوں نے حکم رانوں کا ساتھ دیا۔
تحریکِ انصاف کی حکومت میں جمعیت علمائے اسلام اور پاکستان پیپلز پارٹی نے مارچ کیے، لیکن حکومت نے اُن کی راہ میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی، بل کہ اُنھیں سہولیات فراہم کیں، لیکن پاکستان تحریکِ انصاف کو اپنے حقوق کے لیے احتجاجی مارچ سے بہ زور روکا جا رہا ہے۔
تحریکِ انصاف کے ایم پی ایز اور ایم این ایز کو گرفتار، اِغوا کرنے سمیت اُن پر قاتلانہ حملے بھی کیے گئے۔ موٹر ویز کو نامعلوم مدت کے لیے بند کر دیا گیا، جب کہ دارالحکومت اسلام آباد کو کنٹینروں کا شہر بنا دیا گیا اور مارچ کے شرکا کو مارنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔
کسی کو معلوم نہیں کہ کون کیا کر رہا ہے، کیوں کر رہا ہے اور کس کے کہنے پر کر رہا ہے؟ عوام بے حال ہیں، وہ ان موذی سانپوں سے بچنے کی تدبیریں کر رہے ہیں، مگر ان سانپوں کا گھیرا اس قدر تنگ ہوچکا ہے کہ عوام کا ان سے چھٹکارا مشکل ہوگیا ہے۔
ملک کے انھی حالات کو دیکھ کر عوام اس اُمید اور آس میں ہیں کہ وہ وقت ضرور آئے گا کہ ایک دن یہ آگ بجھ جائے گی، بس آپ یوں سمجھیں کہ دنیا امید پر قائم ہے، لیکن اُمید کے ساتھ عملی قدم بھی اُٹھانا پڑے گا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے