کچھ انجینئر مغل باز خان کے بارے میں

Blogger Hilal Danish

کچھ لوگ اپنے نام سے پہچانے جاتے ہیں، کچھ اپنے عہدے سے، کچھ اپنی دولت سے اور کچھ اپنی شہرت سے… مگر معاشرے میں چند لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں، جن کی اصل پہچان اُن کا کردار، علم، ظرف اور لوگوں کے دلوں میں اُن کے لیے احترام ہوتا ہے۔
آج کی نشست بھی ایک ایسی ہی شخصیت کے تعارف کے لیے مختص ہے۔
انجینئر مغل باز خان… چارباغ کی خوب صورت وادی سے تعلق رکھنے والا یہ نام صرف ایک انجینئر کا نام نہیں، بل کہ علم، پیشہ ورانہ قابلیت، تدبر، شرافت اور مسلسل خدمت کے ایک طویل سفر کی علامت ہے۔
چارباغ نے کئی قابل اور باصلاحیت فرزند پیدا کیے، مگر انجینئرنگ کے میدان میں اس سرزمین کے قابلِ فخر ناموں کا ذکر ہو، تو صاحب زادہ ہدایت اللہ جان کے بعد انجینئر مغل باز خان کا نام بھی احترام سے لیا جاتا ہے۔
ایک چھوٹے سے قصبے سے بڑے خواب تک:
انجینئر مغل باز خان 12 ستمبر 1962ء کو سوات میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چارباغ سے حاصل کی اور بعد ازاں جہانزیب کالج سیدو شریف کا رُخ کیا۔ 1985ء میں پشاور یونیورسٹی سے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی اور پھر علم کی جست جو انھیں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور لے گئی، جہاں اُنھوں نے سول انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ سلسلہ یہاں نہیں رُکا۔ اُن کی علمی پیاس نے اُنھیں ’’انوائرمنٹل ڈیزائننگ‘‘ میں ایم ایس سی تک پہنچایا۔
یوں چارباغ کی مٹی سے شروع ہونے والا یہ سفر انجینئرنگ، ماحولیات، منصوبہ بندی، تکنیکی تعلیم اور انتظامی اُمور کے وسیع میدانوں تک پھیلتا چلا گیا۔
ڈگری ہاتھ میں آئی تو سفر شروع ہوا:
تعلیم مکمل ہونے کے بعد انجینئر مغل باز خان نے عملی زندگی کا آغاز ’’اے سی سی‘‘ کی ایک کنسلٹنگ فرم سے کیا، تاہم چند ماہ بعد وہاں سے علاحدگی اختیار کرلی۔ اگست 1993ء میں ’’ڈی ایچ وی کنسلٹنس‘‘ (DHV Consultants) کے ساتھ ’’پاٹا پراجیکٹ‘‘ (PATA Project) میں ’’واٹر مینجمنٹ آفیسر‘‘ (Water Management Officer) کی حیثیت سے ذمے داریاں سنبھالیں اور مارچ 1996ء تک اس منصوبے سے وابستہ رہے۔
یکم اپریل 1996ء سے ’’ڈی ایچ وی‘‘ (DHV Consultants) ہی کے ماحولیاتی بہ حالی کے ایک منصوبے میں ’’پراجیکٹ انجینئر‘‘ (Project Engineer) کے طور پر خدمات انجام دیں اور 30 جون 2000ء تک اس شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا… مگر اُن کی شخصیت صرف سرکاری یا نجی ملازمت تک محدود نہیں رہی۔ 1997ء میں اُنھوں نے ایک مقامی غیر منافع بخش تنظیم کی بنیاد رکھی۔ 30 جون 2000ء تک اس کے چیئر پرسن اور بعد ازاں 4 نومبر 2002ء تک ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔
یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اُن کے نزدیک ترقی کا مطلب صرف اپنی ذات کو آگے لے جانا نہیں، بل کہ لوگوں اور معاشرے کے لیے کچھ کرنا بھی تھا۔
کوہستان سے سوات تک، اور سوات سے پورے صوبے تک:
4 نومبر 2002ء سے 31 دسمبر 2004ء تک پالس کنزرویشن اینڈ ڈویلپمنٹ پروجیکٹ، کوہستان میں پروگرام آفیسر برائے بہ حالی و ترقی کے طور پر خدمات انجام دیں۔
یکم دسمبر 2005ء کو ڈائریکٹوریٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر شمولیت اختیار کی اور گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی مینگورہ میں تدریس کے ساتھ شعبہ جاتی ذمے داریاں بھی نبھائیں۔
اگست 2011ء تک وہ اس ادارے میں اسسٹنٹ پروفیسر اور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔
ستمبر 2011ء سے مارچ 2017ء تک ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ مین پاور ٹریننگ (KP-TEVTA) میں ڈپٹی ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی کی حیثیت سے ذمے داریاں نبھائیں۔ بعد ازاں ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی سمیت اہم انتظامی ذمے داریاں سنبھالیں اور مختلف ادوار میں اضافی چارج بھی نبھاتے رہے۔ اس کے علاوہ گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی سوات میں ایسوسی ایٹ پروفیسر اور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔
یکم جنوری 2020ء سے (KP-TEVTA) پشاور میں ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی/ پروکیورمنٹ (P&D/Procurement) کی حیثیت سے ذمے داریاں ادا کرتے رہے اور بالآخر 11 ستمبر 2022ء کو باعزت طور پر سبک دوش ہوگئے۔ یہ سبک دوشی کسی سفر کا اختتام ضرور تھی، مگر ایک کردار کا اختتام نہیں۔
اصل عہدہ وہ ہے جو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی باقی رہے:
سرکاری ملازمت میں عہدے انسان کو پہچان دیتے ہیں، مگر سبک دوشی کے بعد عہدے ختم ہوجاتے ہیں اور انسان کا کردار باقی رہتا ہے۔ انجینئر مغل باز خان کی خوش نصیبی یہ ہے کہ اُن کی پہچان کسی سرکاری عہدے کی محتاج نہیں۔ اُن کے بہترین اخلاق، متوازن مزاج اور شایستہ رویے نے اُنھیں ہر عمر اور ہر طبقے میں قابلِ احترام بنایا ہے۔ وہ چھوٹوں کے ساتھ چھوٹے اور بڑوں کے ساتھ بڑے ہیں۔ بردبار، سنجیدہ، باوقار اور معاملہ فہم شخصیت کے مالک ہیں۔ گفت گو میں شایستگی، فیصلوں میں دانائی اور معاملات میں تحمل اُن کی شخصیت کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ صوم و صلات کے پابند اور نیک سیرت انسان کی حیثیت سے اُن کی ذاتی زندگی بھی اُن کے کردار کی آئینہ دار ہے۔
جہاں رشتے الجھیں، وہاں ایک دانا آواز کام آتی ہے:
خاندان میں بھی انجینئر مغل باز خان کا مقام محض ایک بڑے فرد کا نہیں، بل کہ ایک دانش مند ثالث کا ہے۔ رشتوں کے معاملات ہوں، باہمی اختلافات ہوں، یا کوئی پیچیدہ مسئلہ… اُن کی معاملہ فہمی اور متوازن سوچ اُنھیں ایک ایسی شخصیت بناتی ہے، جس کی بات سنی جاتی ہے۔ وہ اختلاف کو ہوا دینے کے بہ جائے انھیں ختم کرنے، فاصلے بڑھانے کے بہ جائے کم کرنے اور جذبات کے بہ جائے حکمت سے فیصلہ کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ خاندان میں اُن کی رائے کو احترام اور اعتماد حاصل ہے۔
کچھ لوگ چلے جاتے ہیں، مگر اپنے پیچھے ایک معیار چھوڑ جاتے ہیں:
انجینئر مغل باز خان کی زندگی کو صرف ڈگریوں، عہدوں اور ملازمتوں کی فہرست میں قید کرنا اُن کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ اُن کی زندگی کا اصل حسن اُس سفر میں ہے، جو چارباغ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے شروع ہوکر انجینئر، اُستاد، منتظم، منصوبہ ساز اور ایک معتبر سماجی شخصیت تک پہنچا۔ اُنھوں نے انجینئرنگ کو پیشہ بنایا، تعلیم کو ذریعہ بنایا، اداروں میں ذمے داریاں نبھائیں، نوجوانوں کے ساتھ کام کیا، مختلف منصوبوں میں حصہ لیا اور اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ ملک و قوم کے ایک اہم شعبے یعنی تکنیکی تعلیم اور انسانی وسائل کی ترقی کے لیے وقف کیا… اور پھر جب سرکاری ملازمت کا باب بند ہوا، تو بھی اُن کی اصل پہچان برقرار رہی۔ کیوں کہ جو لوگ عہدے سے بڑے ہوں، اُنھیں سبک دوشی کنارہ کش نہیں کرسکتی۔
چارباغ کی مٹی ایسے فرزندوں پر بہ جا طور پر فخر کرتی ہے۔ انجینئر مغل باز خان بھی انھی قابلِ فخر فرزندوں میں سے ایک ہیں۔ اُن کی داستان ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ زندگی میں کام یابی صرف یہ نہیں کہ انسان کتنی بلندیاں حاصل کرتا ہے… بل کہ اصل کام یابی یہ ہے کہ بلندی پر پہنچ کر انسان کتنا انسان رہتا ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں انجینئر مغل باز خان کی شخصیت اپنے عہدوں، ڈگریوں اور پیشہ ورانہ کام یابیوں سے کہیں آگے نکل جاتی ہے۔ وہ ایک انجینئر ضرور ہیں، مگر اُن کی اصل انجینئرنگ شاید انسانوں کے درمیان رشتوں، احترام اور اعتماد کو جوڑنے کی ہے۔ یہی اُن کا اصل تعارف ہے… اور یہی اُن کی سب سے بڑی کام یابی بھی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے