یووال نوح ہراری کی سیپئنز کا جائزہ

Blogger Comrade Sajid Aman

انسان یا دنیا کی تاریخ میں شاید اس سے زیادہ بنیادی سوال کوئی نہیں کہ انسان آخر انسان کیسے بنا؟ 
ہم اس مقام تک کیسے پہنچے، جہاں ایک معمولی سا حیوان، جو کبھی خود کئی دوسری انسانی انواع کے درمیان محض ایک کم زور نوع تھا، آج پوری زمین کے ماحول، معیشت، سیاست، جنگ، ٹیکنالوجی اور حتیٰ کہ دوسری جان دار انواع کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے؟
ہم نے شہر، ریاستیں، سلطنتیں، مذاہب، بازار، یونیورسٹیاں، بینک، کمپنیاں اور قومی ریاستیں کیسے بنائیں؟
ہم ایسی چیزوں پر اجتماعی یقین کیسے کرنے لگے، جو فطرت میں کسی درخت، پہاڑ یا دریا کی طرح موجود نہیں، مگر اربوں انسان ان کے لیے اپنی زندگی، دولت بل کہ جان تک قربان کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں؟
اس بنیادی سوال (ہم انسان کیسے بنے؟) کا غیر معمولی انداز میں جواب دینے کی کوشش ’’یووال نوح ہراری‘‘ (Yuval Noah Harari) نے اپنی مشہور کتاب Sapiens- A Brief History of Humankind (سیپینز… نوعِ انسانی کی ایک مختصر تاریخ) میں کی ہے۔ کتاب پہلی مرتبہ 2011 میں عبرانی زبان میں شائع ہوئی اور بعد ازاں انگریزی دنیا میں پہنچی۔ یہ محض روایتی تاریخ کی کتاب نہیں، بل کہ تاریخ، حیاتیات، بشریات، آثارِ قدیمہ، معاشیات، فلسفے اور سماجی علوم کو ایک بڑے فکری بیانیے میں جوڑنے کی کوشش ہے۔ کتاب کا مرکزی سفر زمانۂ قدیم کے شکاری انسان سے شروع ہو کر جدید سرمایہ دارانہ، سائنسی اور صنعتی دنیا تک پہنچتا ہے۔
ہراری کی کتاب کی اصل کشش اس کے موضوع کی وسعت میں ہے۔ عام تاریخ بادشاہوں، جنگوں، سلطنتوں اور سیاسی واقعات کی ترتیب بیان کرتی ہے، جب کہ ہراری سوال کو اس سے بھی پیچھے لے جاتا ہے۔ آخر وہ ذہنی اور سماجی صلاحیت کیا تھی، جس نے انسان کو باقی مخلوقات سے الگ کیا؟
تقریباً 70 ہزار سال پہلے رونما ہونے والی جس تبدیلی کو ہراری علمی یا ادراکی انقلاب (Cognitive Revolution) قرار دیتا ہے، وہ اس کی پوری داستان کا نقطۂ آغاز ہے۔ اس سے پہلے بھی زمین پر مختلف انسانی انواع موجود تھیں۔ ہومو سیپئنز  یعنی عاقل انسان یا ہماری موجودہ انسانی نوع جو موجود ہے، کوئی اکیلی انسانی نوع نہیں تھی۔ نیئنڈرتھل (Neanderthals) سمیت دوسری انسانی انواع بھی زمین پر آباد تھیں… لیکن آج ان سب انواع میں سے صرف Homo sapiens باقی ہیں۔ ہراری کے نزدیک اس کام یابی کی ایک بڑی وجہ انسان کی غیر معمولی اجتماعی تعاون کی صلاحیت تھی۔
یہاں کتاب کا سب سے دل چسپ تصور سامنے آتا ہے۔ زبان صرف اطلاعات پہنچانے کا ذریعہ نہیں بنی، بل کہ ایسی مشترکہ کہانیاں اور تصورات تخلیق کرنے کا ذریعہ بن گئی، جن پر بڑی تعداد میں لوگ یقین اور تعاون کرسکتے تھے۔
ایک شیر کے بارے میں انسان دوسرے انسان کو خبردار کرسکتا ہے، لیکن انسان صرف موجود چیزوں کے بارے میں گفت گو تک محدود نہیں رہا۔ وہ ایسے دیوتاؤں کے بارے میں بات کرسکتا تھا، جنھیں کسی نے دیکھا نہیں۔ ایسے قوانین بناسکتا تھا، جو فطرت میں موجود نہیں، مستقبل کی ریاست کا تصور کرسکتا تھا۔ کسی قوم کے پرچم کے لیے جان دے سکتا تھا اور ایسی کرنسی پر اعتماد کرسکتا تھا، جس کی قدر کاغذ یا دھات میں نہیں، بل کہ اجتماعی اعتماد میں ہوتی ہے۔
ہراری اسے مشترکہ اساطیر یا اجتماعی تخیلات (Shared Myths or Collective Fictions) کے تصور سے سمجھاتا ہے۔ اس کے نزدیک خدا، قوم، ریاست، کمپنی، قانون، پیسا اور انسانی حقوق جیسی بہت سی اجتماعی حقیقتیں اس لیے طاقت ور ہیں کہ لاکھوں کروڑوں انسان ایک ہی تصور پر بہ یک وقت یقین کرتے اور اس کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ خود ہراری کے مطابق یہی انسان کی بڑی اجتماعی طاقت ہے کہ انسان ایسی چیزوں پر اجتماعی یقین کرسکتا ہے، جو طبعی دنیا میں کسی شے کی صورت میں موجود نہیں ہوتیں۔
یہ نکتہ کتاب کی سب سے بڑی فکری قوت بھی ہے اور سب سے زیادہ بحث طلب دعوا بھی۔ کیوں کہ کسی قوم، قانون یا انسانی حق کو ’’خیالی‘‘ کہنا یہ نہیں کہ وہ غیر حقیقی یا بے معنی ہے… وہ بین الاذہانی حقیقت (Intersubjective Reality) ہوسکتی ہے۔ یعنی ایسی حقیقت جو انسانوں کے اجتماعی اعتقاد اور باہمی اتفاق سے قائم ہوتی ہے۔ پیسا اس کی بہترین مثال ہے۔ ایک نوٹ کاغذ کا ٹکڑا ہے، مگر اگر کروڑوں انسان اسے قدر کی علامت مانیں، تو یہی کاغذ خوراک، زمین، تعلیم، صنعت اور اقتدار خریدنے کی صلاحیت حاصل کرلیتا ہے۔
یہیں سے انسان کی اصل اجتماعی طاقت سمجھ میں آتی ہے۔ ایک سو بھیڑیے محدود سطح پر تعاون کرسکتے ہیں، مگر لاکھوں انسان ایک دوسرے کو جانے بغیر ایک ہی نظام کے تحت کام کرسکتے ہیں۔ ایک سپاہی کسی ایسے ملک کے لیے لڑسکتا ہے، جس کے کروڑوں باشندوں کو وہ ذاتی طور پر نہیں جانتا۔ ایک ملازم کسی ایسی کمپنی کے لیے کام کرتا ہے، جس کے مالک سے اُس کی کبھی ملاقات نہیں ہوئی ہوتی۔ ایک شہری ایسے آئین اور قانون کی پابندی کرتا ہے، جسے اُس نے خود نہیں لکھا۔
یہی وہ پیچیدہ اجتماعی تعاون ہے، جس نے انسان کو کرۂ ارض پر غالب نوع بنا دیا۔
لیکن کہانی کا اگلا مرحلہ اس سے بھی زیادہ حیران کن ہے۔ تقریباً 10 سے 12 ہزار سال قبل انسان نے زرعی انقلاب (Agricultural Revolution) برپا کیا۔ شکار اور خوراک جمع کرنے والی زندگی سے انسان زراعت اور مستقل آبادیوں کی طرف منتقل ہوا۔ بہ ظاہر یہ انسانی ترقی کی عظیم ترین کام یابی تھی۔ انسان نے فصلیں اُگائیں، جان ور پالے، بستیاں قائم کیں، آبادی میں اضافہ کیا اور بالآخر شہر اور ریاستیں وجود میں آئیں۔
مگر ہراری یہاں روایتی تصور کو چیلنج کرتا ہے۔ وہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا زراعت واقعی انسان کے لیے اتنی بڑی کام یابی تھی؟
کتاب کے مشہور ابواب میں سے ایک کا عنوان ہی History’s Biggest Fraud (تاریخ کا سب سے بڑا فریب) ہے۔ اس کا استدلال یہ ہے کہ زراعت نے مجموعی انسانی آبادی اور انسانی نوع کی حیاتیاتی کام یابی تو بڑھائی، لیکن ضروری نہیں کہ ہر فرد کی زندگی زیادہ آرام دہ یا خوش گوار ہوگئی ہو۔ مستقل کاشت کاری نے انسان کو ایک جگہ باندھا، محنت میں اضافہ کیا، بیماریوں کے نئے امکانات پیدا کیے، خوراک کے تنوع کو کم کیا اور سماجی طبقاتی تقسیم کو مضبوط کیا۔
یہاں ہراری ایک نہایت اہم فرق سامنے لاتا ہے: ارتقائی کام یابی (Evolutionary Success)، اور انفرادی خوشی (Individual Happiness) ایک چیز نہیں۔ کسی نوع کی آبادی بڑھ جائے، تو وہ ارتقائی اعتبار سے کام یاب ہوسکتی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس نوع کا ہر فرد پہلے سے زیادہ خوش ہے۔
زراعت کے ساتھ فاضل (Surplus) پیداوار پیدا ہوئی۔ فاضل پیداوار نے ایسے لوگوں کو جنم دیا، جو بہ راہِ راست خوراک پیدا نہیں کرتے تھے، جیسے بادشاہ، فوجی، پجاری، منتظم، کاتب، تاجر اور مختلف حکم ران طبقات۔ اس کے نتیجے میں ریاست، طبقاتی نظام، ٹیکس، فوج اور بیوروکریسی نے جنم لیا۔ بڑے اہرام، محلات، شہر اور سلطنتیں اسی اجتماعی تنظیم کا نتیجہ بنیں۔
لیکن لاکھوں انسانوں کو ایک بڑے نظام میں منظم رکھنے کے لیے صرف طاقت کافی نہیں تھی، مشترکہ عقائد بھی درکار تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ہراری تاریخ کے اگلے مرحلے میں مذہب، سلطنت اور پیسے کو انسانی اتحاد کے بڑے ستونوں کے طور پر دیکھتا ہے۔
کتاب کا تیسرا بڑا حصہ انسانیت کا اتحاد (Unification of Humankind) ہے۔ بہ ظاہر انسانی تاریخ جنگوں، تقسیم، قوموں اور مذہبی اختلافات کی تاریخ ہے، مگر ہراری کے مطابق اس کے اندر ایک متوازی عمل بھی چلتا رہا کہ انسان چھوٹی برادریوں سے نکل کر بڑے اور بڑے اجتماعی نظاموں میں ضم ہوتا گیا۔
اس عمل میں زر یا پیسا (Money) ایک غیر معمولی قوت بن کر ابھرا۔ پیسا ایک ایسی عالمی زبان ثابت ہوا، جسے مختلف مذاہب، ثقافتوں اور قوموں کے لوگ سمجھنے لگے۔ ایک مسلمان تاجر، ایک عیسائی سوداگر، ایک ہندو تاجر اور ایک چینی کاروباری شخص مختلف خداؤں اور تہذیبی روایات پر یقین رکھ سکتے تھے، مگر انھیں اگر کسی کرنسی کی قدر پر اعتماد ہو، تو وہ باہمی تجارت کرسکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ہراری پیسے کو انسانی تاریخ کے سب سے کام یاب اجتماعی اعتماد کے نظاموں میں شمار کرتا ہے۔
پھر سلطنتیں (Empires) آئیں۔ ہراری، سلطنتوں کو صرف ظلم اور استحصال کی تاریخ کے طور پر نہیں دیکھتا، بل کہ یہ بھی دکھاتا ہے کہ سلطنتوں نے مختلف اقوام، زبانوں، مذاہب، قوانین اور ثقافتوں کو ایک سیاسی نظام میں جوڑا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سلطنتیں منصفانہ تھیں، بل کہ یہ کہ تاریخ میں سیاسی اتحاد اور ثقافتی اختلاط اکثر طاقت، فتح اور جبر کے راستے سے بھی پیدا ہوا۔
مذہب بھی اسی بڑے تاریخی عمل کا حصہ ہے۔ ہراری، مذہب کو صرف دیوتاؤں پر یقین کے طور پر نہیں دیکھتا، بل کہ ایک ایسا وسیع اخلاقی و سماجی نظام سمجھتا ہے، جو لاکھوں انسانوں کو ایک مشترکہ اُصول کے تحت منظم کرسکتا ہے۔ اسی طرح جدید انسان مرکزیت (Humanism)، لبرل ازم (Liberalism)، اشتراکیت (Socialism) اور دیگر جدید نظریات بھی انسانی اجتماعی تنظیم کی نئی شکلیں بنے۔
یہاں کتاب ایک نہایت اہم سوال اٹھاتی ہے کہ اگر قدیم انسان دیوتاؤں اور مذہبی تصورات کے ذریعے بڑی اجتماعی تنظیمیں بنا سکتا تھا، تو جدید انسان قوم، ریاست، مارکیٹ، سرمایہ، مساوات، آزادی اور انسانی حقوق جیسے تصورات کے ذریعے کیا کر رہا ہے؟ یعنی انسانی تاریخ میں ’’مذہب‘‘ کا تصور صرف مذہبی عبادات تک محدود نہیں رہتا، بل کہ ہر وہ وسیع نظریاتی نظام اس بحث میں آسکتا ہے، جو لاکھوں لوگوں کو مشترکہ اصول پر منظم کرے۔
کتاب کا چوتھا اور شاید سب سے زیادہ فیصلہ کن حصہ سائنسی انقلاب (Scientific Revolution) ہے، جو تقریباً 5 سو سال پہلے شروع ہوا۔ یہاں انسان نے ایک بنیادی ذہنی تبدیلی اختیار کی اور اس نے یہ تسلیم کرنا شروع کیا کہ ہم سب کچھ نہیں جانتے۔
یہ بہ ظاہر ایک معمولی اعتراف ہے، مگر ہراری کے نزدیک یہی جدید سائنس کی طاقت کا سرچشمہ ہے۔ قدیم معاشروں میں علم اکثر مقدس روایات، فلسفیانہ نظاموں یا پہلے سے موجود اتھارٹی کے ذریعے سمجھا جاتا تھا۔ جدید سائنس نے منظم مشاہدے، تجربے، ریاضی اور مسلسل تحقیق کے ذریعے نامعلوم کو تسلیم کیا اور اسے دریافت کرنے کا راستہ اختیار کیا۔
اس کے ساتھ سام راجیت (Imperialism)، سرمایہ داری (Capitalism) اور سائنس کے درمیان ایک پیچیدہ تاریخی تعلق قائم ہوا۔ یورپی طاقتوں نے دنیا کے مختلف حصوں میں توسیع کی، نئی زمینوں، وسائل، نباتات، جان وروں، معاشروں اور راستوں کے بارے میں معلومات جمع کیں اور سرمایہ دارانہ نظام نے مسلسل پیداوار، سرمایہ کاری اور منافع کے ذریعے معاشی ترقی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کیا۔ کتاب میں سائنس، سلطنت اور سرمایہ داری کے اس باہمی تعلق کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
اس کے بعد آتا ہے صنعتی انقلاب (Industrial Revolution)، جس نے انسانی تاریخ کی رفتار ہی بدل دی۔ مشین، بھاپ، بجلی، فیکٹری، ریل، ٹیلی گراف، جدید طب، کیمیا، پٹرولیم اور بعد میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نے انسان کی پیداوار اور رابطے کی صلاحیت کو ناقابلِ تصور حد تک بڑھا دیا۔
لیکن یہاں بھی ہراری ہمیں رُک کر سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اگر انسان کی طاقت ہزاروں گنا بڑھ گئی ہے، تو کیا انسان کی خوشی بھی اسی تناسب سے بڑھی ہے؟
دراصل یہ کتاب کا ایک مستقل سوال ہے کہ کیا تاریخ میں ترقی کا مطلب لازماً خوشی میں اضافہ ہے؟
جدید انسان کے پاس قدیم شکاری انسان کے مقابلے میں کہیں زیادہ سہولتیں ہیں۔ ہمارے پاس جدید طب ہے، بجلی ہے، گاڑیاں، ہوائی جہاز، انٹرنیٹ، مصنوعی ذہانت، عالمی مواصلاتی نظام اور بے شمار مادی سہولیات ہیں… لیکن کیا ہم اپنے آبا و اجداد سے زیادہ مطمئن، زیادہ پُرامن اور زیادہ خوش ہیں؟ ہراری اس سوال کا قطعی اور سادہ جواب دینے کے بہ جائے قاری کو اس پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
یہی کتاب کی اصل خوبی ہے کہ یہ تاریخ کو صرف کیا ہوا؟ (What happened) کے سوال تک محدود نہیں رکھتی, بل کہ کیوں ہوا؟ (Why) اور بالآخر کیا یہ ہمارے لیے اچھا تھا؟ (Was it good for us) جیسے سوالات بھی اٹھاتی ہے۔
جان وروں کے حوالے سے ہراری کا موقف اس سے بھی زیادہ تلخ ہے۔ جدید صنعتی زراعت نے انسان کو خوراک کی بے مثال مقدار پیدا کرنے کے قابل بنایا، لیکن اس کے ساتھ جان وروں کی بڑے پیمانے پر پرورش اور ذبح کا ایک ایسا صنعتی نظام پیدا ہوا، جس پر اخلاقی سوالات اٹھتے ہیں۔ خود ہراری جدید صنعتی حیوانی زراعت کو تاریخ کے شدید ترین اخلاقی مسائل میں شمار کرتا ہے۔
یہاں کتاب انسان کی ’’کام یابی‘‘ کا دوسرا رُخ دکھاتی ہے۔ Homo sapiens نے صرف دنیا کو فتح نہیں کیا، بل کہ اس نے دنیا کو بڑی حد تک تبدیل بھی کر دیا۔ جنگلات، دریاؤں، جان وروں، فصلوں اور ماحول پر انسانی اثرات اس قدر بڑھ گئے کہ انسان اب محض فطرت کا ایک حصہ نہیں رہا، بل کہ فطرت کے توازن کو تبدیل کرنے والی بڑی طاقت بن چکا ہے۔
اور یہی کتاب ہمیں اپنے آخری اور سب سے خوف ناک سوال تک لے جاتی ہے۔ اگر انسان نے قدرتی انتخاب کے عمل کو سمجھ لیا، جینیاتی انجینئرنگ سیکھ لی، مصنوعی ذہانت تخلیق کرلی اور مشینوں کو انسان جیسی بعض ذہنی صلاحیتیں دینا شروع کردیں، تو Homo sapiens کا مستقبل کیا ہوگا؟
کتاب کے آخری ابواب میں حیاتیاتی ٹیکنالوجی (Biotechnology)، جینیاتی انجینئرنگ (Genetic Engineering) اور انسانی مستقبل کے امکانات زیرِ بحث آتے ہیں۔ یہاں تاریخ ماضی کا علم نہیں رہتی، بل کہ مستقبل کی پیش گوئی اور اخلاقی سوال بن جاتی ہے۔
ہراری کے اگلے کام ’’ہوموڈیئس کل کا ایک مختصر انسانی سفر‘‘ (Homo Deus) میں یہی سوال مزید آگے بڑھتا ہے کہ جب انسان بیماری، بھوک اور موت سمیت قدرت کی بہت سی حدود کو چیلنج کرنے کی کوشش کرے گا، تو وہ خود کیا بن جائے گا؟
یہاں ’’سیپئنز‘‘ کی اصل اہمیت سامنے آتی ہے۔ یہ کتاب ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ صرف ماضی میں کیا ہوا؛ یہ پوچھتی ہے کہ ہم جو کچھ آج کر رہے ہیں، اس کا انجام کیا ہوگا؟
تاہم کسی بھی بڑی فکری کتاب کی طرح ’’سیپئنز‘‘ کو بھی تنقیدی نظر سے پڑھنا چاہیے۔ اس کی سب سے بڑی طاقت اس کا وسیع تناظر ہے، مگر یہی اس کی کم زوری بھی بن جاتا ہے۔ پوری انسانی تاریخ کو چند بڑے انقلابات اور تصورات کے ذریعے سمجھانے کی کوشش بعض اوقات پیچیدہ تاریخی حقائق کو حد سے زیادہ سادہ بنا دیتی ہے۔ معروف تنقید یہ بھی سامنے آئی ہے کہ ہراری کا وسیع دائرہ بعض موضوعات کو صرف سطحی طور پر چھونے پر مجبور کرتا ہے۔
اسی طرح ’’اجتماعی افسانے‘‘ (Imagined Orders) متصور اجتماعی نظام کی اصطلاح بھی احتیاط سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ریاست، قوم، قانون، مذہب یا انسانی حقوق کو صرف ’’خیال‘‘ کَہ دینا ان کی سماجی، اخلاقی اور تاریخی حقیقت کی مکمل وضاحت نہیں۔ بہت سے تصورات ابتدا میں انسانی ذہن کی تخلیق ہوتے ہیں، مگر بعد میں حقیقی انسانی اداروں، قوانین اور رویوں کو تشکیل دیتے ہیں۔ لہٰذا ’’خیالی‘‘ اور ’’غیر حقیقی‘‘ میں فرق ضروری ہے۔
اسی طرح زراعت کو ’’’تاریخ کا سب سے بڑا فریب‘‘ کہنا ایک طاقت ور صحافتی اور فکری استعارہ ہے، لیکن زراعت کی تاریخ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ زراعت نے جہاں بیماری، طبقاتی تقسیم اور محنت میں اضافہ کیا، وہیں اس نے بڑے پیمانے پر انسانی آبادی، شہری تمدن، تحریر، اداروں، علم اور تہذیب کی تشکیل کے لیے بنیادی مادی بنا بھی فراہم کی۔
اس کے باوجود ہراری کی کام یابی اس بات میں ہے کہ وہ قاری کو تیار شدہ جواب دینے کے بہ جائے اس کے ذہن میں سوال پیدا کرتا ہے۔ اور شاید یہی ایک اچھی کتاب کی سب سے بڑی پہچان ہے۔
’’سیپئنز‘‘ پڑھنے کے بعد تاریخ بادشاہوں اور جنگوں کی فہرست نہیں رہتی۔ ہمیں احساس ہوتا ہے کہ تاریخ دراصل انسانی تعاون، خوف، خواہش، تخیل، طاقت، علم، تجارت، مذہب، سیاست اور ٹیکنالوجی کے باہمی تعلق کی داستان بھی ہے۔ یہ کتاب ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ انسان فطرت سے باہر کوئی مخلوق نہیں۔ ہم اُسی ارتقائی سلسلے کا حصہ ہیں، جس میں دوسری تمام جان دار انواع شامل ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ انسان نے زبان، تخیل اور اجتماعی تعاون کے ذریعے اپنی طاقت کو غیر معمولی حد تک بڑھا لیا، لیکن طاقت کے ساتھ ذمے داری بھی آتی ہے۔
آج جب مصنوعی ذہانت، جینیاتی انجینئرنگ، روبوٹکس، بگ ڈیٹا اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی انسانی زندگی کے بنیادی ڈھانچے کو بدل رہے ہیں، تو ’’سیپئنز‘‘ کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اس کتاب کو صرف ماضی کی تاریخ سمجھ کر پڑھنا اس کے نصف پیغام کو نظر انداز کرنا ہوگا۔ یہ دراصل ایک آئینہ ہے، جس میں انسان اپنے ماضی، حال اور ممکنہ مستقبل کو ایک ساتھ دیکھ سکتا ہے۔
کتاب کی سب سے بڑی دعوت شاید یہی ہے کہ ہم اپنی کام یابی کو صرف اس پیمانے سے نہ ناپیں کہ ہم نے کتنی دولت، کتنی ٹیکنالوجی، کتنی طاقت اور کتنی آبادی حاصل کی؟
اصل سوال یہ بھی ہے کہ ہم نے اس طاقت کے ساتھ کیا کیا؟
ہم نے دنیا کو اپنے لیے بدلا، لیکن کیا ہم نے خود کو بھی بہتر بنایا؟
ہم نے بیماریوں پر قابو پایا، لیکن کیا ہم نے خوف پر قابو پایا؟
ہم نے سلطنتیں بنائیں، پھر قومیں بنائیں، پھر عالمی منڈی بنائی، لیکن کیا ہم نے واقعی ایک منصفانہ دنیا بنائی؟
ہم نے چاند تک رسائی حاصل کی، جینیاتی کوڈ پڑھ لیا اور مصنوعی ذہانت پیدا کرلی، مگر کیا ہم اس بنیادی سوال کا جواب دے سکے کہ خوشی کیا ہے، اچھی زندگی کیا ہے اور انسان کو انسان کیا شے بناتا ہے؟
یہی وہ مقام ہے جہاں ’’سیپئنز‘‘ ایک تاریخی کتاب سے آگے بڑھ کر ایک فکری چیلنج بن جاتی ہے۔
اس کتاب کی اہمیت اس لیے نہیں کہ اس میں انسانی تاریخ کا آخری یا واحد سچ موجود ہے۔ تاریخ اتنی پیچیدہ ہے کہ کوئی ایک کتاب اس کا مکمل احاطہ نہیں کرسکتی۔ اس کی اہمیت اس لیے ہے کہ ہراری ہمیں تاریخ کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کرتا ہے کہ انسان کو صرف بادشاہوں، جنگوں اور سلطنتوں کی مخلوق کے طور پر نہیں، بل کہ ایک ایسی حیاتیاتی مخلوق کے طور پر بھی دیکھنا چاہیے جو کہانیاں بناتی، اُن پر یقین کرتی، اجتماعی نظام تشکیل دیتی اور پھر انھی نظاموں کو تبدیل کرنے کی طاقت بھی رکھتی ہے۔ اور شاید یہی اس کتاب (سیپئنز) کا سب سے بڑا سبق ہے۔ ہم نے دنیا کو اس لیے فتح نہیں کیا کہ ہم سب سے طاقت ور جان ور تھے۔ ہم اس لیے طاقت ور ہوئے کہ ہم اجنبی انسانوں کی بڑی تعداد کے ساتھ مشترکہ تصورات پر یقین کرتے ہوئے تعاون کرسکے۔
لیکن اب سوال یہ ہے کہ جس نوع نے دنیا کو فتح کرلیا، کیا وہ خود کو بھی سمجھ سکی ہے؟
یہ سوال آج بھی موجود ہے۔ اور جب تک یہ سوال کھلا ہے، ’’سیپئنز‘‘ جیسی کتابیں محض کتابیں نہیں رہتیں، وہ انسان کو اپنے بارے میں دوبارہ سوچنے پر مجبور کرنے والی فکری دستک بن جاتی ہیں۔
کتاب کا بنیادی ڈھانچا چار بڑے حصوں ادراکی انقلاب (Cognitive Revolution)، زرعی انقلاب (Agricultural Revolution)، انسانیت کا اتحاد (Unification of Humankind) اور سائنسی انقلاب (Scientific Revolution) پر قائم ہے۔ اس کے آخری ابواب جدید صنعت، خوشی اور ہومو سیپئنز (Homo sapiens) کے ممکنہ مستقبل تک پہنچتے ہیں۔
آج کی دنیا میں، جہاں مصنوعی ذہانت انسان کی ذہنی صلاحیتوں کو چیلنج کر رہی ہے اور جینیاتی ٹیکنالوجی، انسانی حیاتیات میں مداخلت کے نئے دروازے کھول رہی ہے، شاید اس کتاب کو پڑھنے کا سب سے موزوں وقت ہے۔ کیوں کہ انسانی تاریخ کا سب سے اہم سوال اب یہ نہیں کہ ہم کہاں سے آئے تھے؟ بل کہ یہ ہے کہ ’’ہم کہاں جا رہے ہیں؟‘‘
یہ کتاب تقریباً دنیا کی ہر زبان میں موجود ہے۔ پڑھنے، فکر کرنے اور سوچنے والوں کو اس کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے