’’د سوات پختو ادب او ثقافت‘‘ ڈاکٹر محمد علی دیناخیل کا پشتو زبان میں ایک وقیع اور جامع تحقیقی مقالہ ہے، جس میں سولھویں صدی سے لے کر 2012ء تک پانچ صدیوں پر محیط سوات میں مختلف ادوار میں پروان چڑھنے والے پشتو ادب، ادبی تحریکات، ثقافت، تہذیب، لوک ادب، علمی شخصیات، شعر و نثر کے ارتقا، علمی و ادبی سرگرمیوں، سماجی روایات اور معاشرتی زندگی کے گوناگوں پہلوؤں کا عمیق جائزہ لیا گیا ہے۔ 703 صفحات پر مشتمل یہ مقالہ 2020ء میں افغانستان کے علمی و تحقیقی اشاعتی ادارے "Academy of Sciences Afghanistan” سے کتابی صورت میں شائع ہوا ہے۔
سوات کی تاریخی ، ادبی اور ثقافتی حیثیت:۔
سوات برصغیر کے اُن چند تاریخی خطوں میں شامل ہے، جن کی تہذیبی، مذہبی اور ثقافتی تاریخ ہزاروں برس پر محیط ہے۔ تاریخی دستاویزات میں سوات کا اولین تذکرہ یونانی مورخ ’’آرین‘‘ (Arrian) کے ہاں ملتا ہے، جس نے سکندرِ اعظم کی مہمات کا احوال قلم بند کیا ہے۔ تاریخ کے مطابق 327 قبلِ مسیح میں سکندرِ اعظم نے اپنی فتوحات کے دوران میں سوات کا رُخ کیا اور اس علاقے کو اپنی مہم کا حصہ بنایا۔ بعد کے ادوار میں سوات مختلف تہذیبوں، مذاہب اور ثقافتی اثرات کا مرکز بنا رہا۔
چینی سیاحوں اور زائرین کے سفرناموں سے معلوم ہوتا ہے کہ سوات ایک طویل عرصے تک بدھ مت کا عظیم مرکز رہا، جہاں بدھ تہذیب، فنِ تعمیر اور مذہبی علوم نے نمایاں ترقی کی۔ بعد ازاں ہندو مت بھی اس خطے میں رائج ہوا اور طویل عرصے تک یہاں کے باشندوں کے مذہبی اور سماجی رویوں پر اثر انداز رہا۔
گیارھویں صدی میں جب سلطان محمودِ غزنوی کی افواج اس خطے میں داخل ہوئیں، تو سوات کی سیاسی اور مذہبی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ ان فتوحات کے نتیجے میں اسلام اس علاقے میں متعارف ہوا اور بہ تدریج مقامی آبادی نے اسلام قبول کرنا شروع کیا۔ اسی زمانے میں پشتون قبائل کے ابتدائی گروہ بھی اس خطے میں پہنچے، تاہم سوات کی سماجی اور سیاسی ساخت میں بنیادی تبدیلی سولھویں صدی میں اُس وقت رونما ہوئی، جب یوسف زئی پشتون یہاں آکر آباد ہوئے۔ انھوں نے قدیم سواتیوں پر غلبہ حاصل کیا اور اس خطے میں ایک نئی سماجی، سیاسی اور ثقافتی ترتیب قائم کی۔
یوسف زئی قبائل کی آمد سوات کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ کیوں کہ اسی دور سے سوات میں پشتون تہذیب اور پشتو زبان و ادب کے منظم آثار نمایاں طور پر سامنے آنا شروع ہوتے ہیں۔ پشتون روایات، سماجی اقدار، لوک ادب، شعری روایت اور ثقافتی رسوم نے اسی دور میں مضبوط بنیادیں حاصل کیں، جن کے اثرات بعد کے ادوار میں مزید واضح ہوتے گئے۔
1915ء میں سوات میں باقاعدہ ریاست کے قیام نے خطے کی سیاسی اور انتظامی تاریخ میں ایک نئی جہت پیدا کی۔ ریاستِ سوات کے ابتدائی دور میں فارسی سرکاری اور دفتری زبان کے طور پر رائج رہی، لیکن جون 1937ء میں پشتو کو ریاست کی سرکاری اور دفتری زبان کا درجہ دے دیا گیا۔ یہ فیصلہ پشتو زبان و ادب کی ترقی کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل ثابت ہوا۔ ریاستی سرپرستی میں پشتو زبان کی متعدد کتابیں شائع کی گئیں، جنھیں عوام میں مفت تقسیم کیا جاتا تھا۔ اسی طرح ادبی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے عظیم الشان مشاعروں کا انعقاد کیا جاتا تھا، جن میں سوات کے علاوہ پورے پختونخوا کے ممتاز شعرا شرکت کرتے تھے۔ ان مشاعروں کا کلام بعد میں کتابی صورت میں بھی شائع کیا گیا، جو آج پشتو ادب کے اہم تاریخی مآخذ شمار ہوتے ہیں۔
1969ء میں ریاستِ سوات کا پاکستان کے ساتھ الحاق عمل میں آیا۔ اگرچہ یہ ایک اہم سیاسی تبدیلی تھی، تاہم اس کے بعد ایک عرصے تک انتظامی اور آئینی نوعیت کا خلا محسوس کیا گیا۔ اس صورتِ حال اور دیگر سماجی و سیاسی عوامل کے باعث مختلف مسائل، تحریکیں اور نئے رجحانات جنم لیتے رہے۔ سیاسی، سماجی اور ثقافتی سطح پر رونما ہونے والی ان تبدیلیوں نے نہ صرف سوات کے معاشرتی ڈھانچے کو متاثر کیا، بل کہ یہاں کے ادب اور فکری زندگی پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔
اگر سوات کی تاریخ کو مجموعی تناظر میں دیکھا جائے، تو اسے کئی اہم ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
یوسف زئی قبائل کی آمد سے ریاستِ سوات کے قیام تک کا دور۔
ریاستی دور (1915ء تا 1969ء)، پاکستان کے ساتھ الحاق کے بعد کا دور۔
اکیسویں صدی کا جدید دور۔
ہر دور اپنی جداگانہ سیاسی، سماجی اور ثقافتی خصوصیات کا حامل ہے اور ہر عہد نے پشتو ادب کو نئے موضوعات، نئی جہات اور نئے فکری رجحانات سے روشناس کرایا ہے۔
سوات کی تاریخ کے ان تمام ادوار میں پشتو ادب مسلسل ارتقا پذیر رہا ہے۔ ادب نے نہ صرف اپنے زمانے کے فکری، سماجی اور ثقافتی رجحانات کی عکاسی کی، بل کہ معاشرے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو محفوظ کرنے کا فریضہ بھی انجام دیا۔ کسی بھی دور کے ادبی سرمایہ کا مطالعہ اُس زمانے کے رسم و رواج، تہذیبی اقدار، سماجی ڈھانچے، سیاسی حالات اور فکری میلانات کو سمجھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
ڈاکٹر محمد علی دیناخیل کی یہ اہم تحقیقی تصنیف دراصل سوات کی پانچ صدیوں پر محیط اسی ادبی، ثقافتی اور سماجی ارتقا کی ایک جامع داستان ہے۔ مصنف نے تاریخی شواہد، ادبی متون، ثقافتی روایات اور مستند حوالہ جات کی مدد سے یہ واضح کیا ہے کہ مختلف ادوار میں سوات کے معاشرے میں کون کون سی تبدیلیاں رونما ہوئیں، اُن تبدیلیوں نے ادب اور ثقافت کو کس طرح متاثر کیا اور پشتو ادب نے ان حالات کی ترجمانی کس انداز میں کی؟ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب محض ایک ادبی تحقیق نہیں، بل کہ سوات کی اجتماعی تاریخ، تہذیبی شناخت اور ثقافتی ارتقا کا ایک مستند اور جامع دستاویز بھی ہے۔ مستند حوالہ جات اور علمی وسعت کے باعث پشتو ادب اور سوات کی ثقافتی تاریخ کے مطالعے میں یہ مقالہ ایک بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتا ہے۔ (جاری ہے)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










