ایران اور امریکہ کے درمیان کسی حتمی جنگ بندی یا امن معاہدے کے طے پانے میں ابھی وقت لگ سکتا ہے۔ کیوں کہ معاملات مسلسل اُتار چڑھاو کا شکار ہیں اور دونوں جانب سے معاہدے کی شقوں میں رد و بدل جاری ہے۔ اس تنازع کے حل کے لیے امریکی انتظامیہ خطے کے ممالک سمیت دیگر اسلامی ممالک پر زور دے رہی ہے کہ اس پیچیدہ مسئلے کے حل کے بعد ابراہیمی معاہدوں (Abraham Accords) میں شامل ہوں اور اسرائیل کو تسلیم کریں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ (Truth Social) پر ایک بیان جاری کیا، جس میں اُن کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے ہفتے کے روز سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان، متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، قطر کے وزیرِ اعظم محمد بن عبدالرحمان آل ثانی، پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ترکی کے صدر رجب طیب اردگان، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ سے ٹیلی فونک گفت گو کی۔
ٹرمپ کے مطابق، اس پیچیدہ معاملے کو ایک مربوط شکل دینے کے لیے امریکہ کی تمام سفارتی کوششوں کے بعد یہ لازم ہونا چاہیے کہ مذکورہ تمام ممالک کم از کم بہ یک وقت اس معاہدے (ابراہیمی معاہدے) پر دستخط کریں۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ جن ممالک نے ابراہیمی معاہدے پر دست خط کیے، اُن کے لیے یہ مالی، معاشی اور سماجی ترقی کے ایک نئے انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ یہ ایسی دستاویز ہوگی، جس کا احترام دنیا بھر میں اب تک دست خط ہونے والی کسی بھی دستاویز سے زیادہ ہوگا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہاں تک دعوا کیا کہ پاکستان، سعودی عرب اور قطر خفیہ طور پر اس معاہدے پر آمادگی ظاہر کرچکے ہیں۔ اُنھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی اور بہ حالی کے معاہدے پر مذاکرات جاری ہیں، تاہم اس کی حتمی منظوری ابراہیمی معاہدے کی توسیع سے مشروط ہے، جو درحقیقت معاہدے کی آڑ میں اسرائیل کو تسلیم کرانے کی ایک مذموم کوشش قرار دی جا رہی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں یہ بھی لکھا کہ اگر ایک یا دو ممالک کے پاس اس معاہدے میں شامل نہ ہونے کی کوئی معقول وجہ ہو، تو اُسے قبول کیا جاسکتا ہے۔ ٹرمپ نے یہ خواہش بھی ظاہر کی کہ اگر ایران، امریکہ کے ساتھ معاہدے کے بعد ابراہیمی معاہدے پر دست خط کرتا ہے، تو یہ ایک غیرمعمولی اعزاز ہوگا۔
دراصل یہ معاملہ اُس وقت سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گیا، جب بعد ازاں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ (سابقہ نام ٹوئٹر) پر امریکی سینیٹر لنزے گراہم (Lindsey Graham)، جنھیں پاکستان کی جانب سے اعزاز سے بھی نوازا جاچکا ہے، نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے تنازع ختم ہونے کے نتیجے میں اگر خطے کے عرب اور مسلم ممالک ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو جائیں، تو یہ مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کا سب سے مؤثر معاہدہ ثابت ہوگا۔
لنزے گراہم نے اپنے بیان میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جو ممالک ایسا نہیں کریں گے، اُن کے ساتھ مستقبل کے تعلقات پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
دراصل اس تنبیہ کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا، جہاں پاکستان، سعودی عرب اور قطر کے صارفین اس پر مختلف ردِعمل دے رہے ہیں۔ اکثریت نے امریکی سینیٹر لنزے گراہم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ سوال اٹھایا کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرانے کے لیے کس بنیاد پر دباو ڈال سکتے ہیں؟
لنزے گراہم کے بیان پر سعودی عرب نے ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے 22 مئی 2026ء کو دو ریاستی حل کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد قائم کیا ہے۔ سعودی حکام نے لنزے گراہم سے سوال کیا کہ آپ کو یہ مشورہ دینے کی ترغیب کس نے دی کہ ہم ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہوں؟ کیا آپ ہم پر کوئی احسان کر رہے ہیں یا ہمارے فیصلوں کا تعین کرنا چاہتے ہیں؟ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے ہمارا موقف کسی سودے بازی کا حصہ نہیں اور نہ ہمیں دھمکیوں یا ترغیبات کے ذریعے متاثر ہی کیا جاسکتا ہے۔ ایک آزاد فلسطینی ریاست، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو، کے قیام کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسلام آباد پر ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کے لیے دباو کے بعد پاکستان ایک اہم سفارتی دوراہے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے، جہاں ایران جنگ کے ممکنہ خاتمے سے جڑے وسیع تر معاہدے کے تناظر میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا سوال اٹھایا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے تجویز دی ہے کہ سعودی عرب، قطر اور پاکستان اس معاہدے میں شامل ہوں، جس کی ثالثی اُنھوں نے 2020ء میں اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران میں کی تھی۔ پاکستان کے بعض عہدے داروں نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے، تاہم حکومت یا ملک کی طاقت ور عسکری قیادت کی جانب سے اب تک کوئی متفقہ اور واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔
پاکستان کا سرکاری اور آئینی مؤقف یہی ہونا چاہیے کہ قائداعظم محمد علی جناح نے اپنے ایک خط میں اسرائیل کو ایک ناجائز ریاست قرار دیا تھا، اس لیے اُسی تاریخی اور اُصولی تناظر میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مزید برآں فلسطینی ریاست کے قیام، جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو، کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی محور رہنا چاہیے۔
پاکستان کے لیے اس معاہدے میں شامل ہونا اس لیے بھی آسان نہیں کہ ایک جانب اس تنازع کے حوالے سے خارجہ پالیسی کی واضح راہ نمائی پہلے سے موجود ہے، جب کہ دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں، عوام اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اس کی بھرپور مخالفت کریں گے۔ اگر کسی نے ذاتی یا سیاسی مفادات کے تحت ایسا قدم اٹھانے کی کوشش کی، تو وہ عملاً اپنی سیاسی زندگی کو شدید نقصان پہنچانے کا خطرہ مول لے گا۔ (ختم شد!)
نمایاں اصطلاحات اور ان کی وضاحت:
1) ابراہیمی معاہدہ (Abraham Accords):۔ یہ معاہدہ سنہ 2020 میں امریکہ کی ثالثی سے طے پایا، جس کا مقصد اسرائیل اور چند عرب/مسلم ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانا تھا۔ یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی سمجھا جاتا ہے۔ اس معاہدے کی وجۂ تسمیہ یعنی ’’ابراہیم‘‘ کو یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کا مشترکہ جدِ امجد مانا جاتا ہے۔ اس لیے بھائی چارے اور مذہبی رشتے کی علامت کے طور پر یہ نام رکھا گیا۔
2) ٹروتھ سوشل (Truth Social):۔ یہ دراصل ایک امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہے، جو 2022 میں لانچ ہوا اور اسے ڈونلڈ ٹرمپ کی کمپنی Trump Media & Technology Group نے بنایا۔ یہ پلیٹ فارم خود کو ’’آزاد اظہار‘‘ کا متبادل قرار دیتا ہے اور زیادہ تر قدامت پسند اور ’’پرو-ٹرمپ‘‘ صارفین کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔
تمام نمایاں اصطلاحات کی وضاحت ’’مائیکروسافٹ کوپائیلٹ‘‘ کی مدد سے کی گئی ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










