بجٹ کا موسم آتے ہی ایوانوں کی رونقیں اور غریب کے چولھے کی سردی، دونوں ہی اپنے عروج پر پہنچ جاتے ہیں۔ رواں مہینے کی پانچ تاریخ (5 جون) کو سالانہ بجٹ پیش کیا جانے والا ہے، لیکن اس کی آمد سے قبل ہی جو خبریں اور فیصلے سامنے آ رہے ہیں، وہ غریب سرکاری ملازم کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں۔
ایک طرف تو جمہوریت کے دعوے دار اور عوام کے نام نہاد نمایندے ہیں، جو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے یک دم متحد ہو جاتے ہیں اور اپنی مراعات اور تن خواہوں میں آٹھ سو فی صد تک کا ناقابلِ یقین اضافہ کرلیتے ہیں، تو دوسری طرف جب انھی کے ووٹر، یعنی ملک کی مشینری چلانے والے سرکاری ملازم، اپنے جائز حق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، تو انھیں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی کڑی شرائط کا لالی پاپ دے کر ٹرخا دیا جاتا ہے۔ یہ دہرا معیار اور بے حسی کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے کہ جن کے پاس پہلے ہی سے سب کچھ ہے، ان کے لیے خزانے کے منھ کھول دیے جاتے ہیں اور جو دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں، انھیں معاشی ڈسپلن کا درس دیا جاتا ہے۔
ہمارے معاشی اور انتظامی نظام کا سب سے بڑا المیہ تنخواہوں میں پایا جانے والا شدید محکمہ جاتی اور سکیل وائز تفاوت ہے۔ یہ ایک ایسی ناانصافی ہے، جو ملازمین کے دلوں میں مایوسی اور احساسِ محرومی کو جنم دے رہی ہے۔ ملک میں ایسے مراعات یافتہ محکمے موجود ہیں، جہاں محض ساتویں سکیل کے ایک کلرک یا ملازم کی ماہانہ مراعات اور تن خواہ، قوم کے معمار یعنی 17ویں سکیل کے ایک استاد سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ یہ کیسا نظام ہے، جہاں علم اور قابلیت کی توقیر کرنے کے بہ جائے مخصوص محکموں کو نوازا جاتا ہے؟ اس تفاوت نے سرکاری محکموں کے درمیان ایک ایسی خلیج پیدا کر دی ہے، جسے مٹانا اب وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔ جب تک اس محکمہ جاتی تفریق کا خاتمہ نہیں ہوتا، تب تک نظام میں اخلاص اور کارکردگی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا۔
بات صرف مختلف محکموں کے درمیان فرق تک محدود نہیں، بل کہ غلط پالیسیوں کے باعث ایک ہی محکمے کے اندر بھی یہ تفاوت ہر سال بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ یقیناً میرٹ اور محنت کی اپنی جگہ ایک اہمیت ہے۔ اگر ایک شخص اپنی قابلیت کے بل بوتے پر 17ویں سکیل پر فائز ہوتا ہے اور دوسرا تیسرے سکیل میں بھرتی ہوتا ہے، تو سالانہ انکریمنٹ اور دیگر مراعات کا زیادہ حصہ بڑے افسر کو ملنا منطقی نظر آتا ہے… لیکن یہاں بنیادی نقطہ یہ ہے کہ جب بجٹ کے موقع پر مہنگائی کا طوفان آتا ہے، تو وہ سکیل کی تفریق نہیں کرتا۔ گیس کے بل، بجلی کے نرخ اور پٹرول کی قیمتیں 17ویں سکیل کے افسر اور تیسرے سکیل کے غریب ملازم کے لیے یک ساں بڑھتی ہیں۔ دکان دار آٹے کا تھیلا یا چینی کا کلو دیتے وقت گاہک کا سکیل نہیں دیکھتا۔ جب مہنگائی کا بوجھ سب پر برابر پڑتا ہے، تو پھر بجٹ میں ریلیف دیتے وقت یہ ظالمانہ فارمولا کیوں اپنایا جاتا ہے؟
ہر سال فی صد کے حساب سے تن خواہیں بڑھانے کا روایتی طریقہ سراسر ناانصافی پر مبنی ہے۔ اس فارمولے کے تحت پہلے سے لاکھوں روپے وصول کرنے والے بڑے افسران کی تن خواہوں میں تو تیس، چالیس ہزار روپے کا بھاری اضافہ ہو جاتا ہے اور وہ مزید لکھ پتی بن جاتے ہیں، جب کہ سکیل ایک سے لے کر پانچ تک کے معمولی ملازم کے حصے میں اونٹ کے منھ میں زیرے کے مصداق محض چار یا پانچ ہزار روپے کا برائے نام اضافہ آتا ہے۔ کیا معاشی انصاف اسی کا نام ہے؟
اس ظالمانہ تفریق کو ختم کرنے کا واحد حل یہ ہے کہ بجٹ میں سکیل ایک سے لے کر بائیس تک کے تمام ملازمین کی تن خواہوں میں ’’لم سم‘‘ یعنی ایک مقررہ اور یک ساں رقم کا اضافہ کیا جائے۔ اگر حکومت تن خواہ بڑھانا چاہتی ہے، تو وہ تمام ملازمین کے لیے یک ساں بیس ہزار سے تیس ہزار روپے کا اضافہ کرے، خواہ وہ سکیل ایک کا ملازم ہو یا سکیل بائیس کا افسر۔ اس طریقے سے غریب ملازم کو مہنگائی کے کوڑے سے بچنے کے لیے ایک حقیقی سہارا مل سکے گا اور اس کی بنیادی ضرورتیں پوری ہوسکیں گی۔
آج کا معمولی سرکاری ملازم جس کس مہ پرسی کی زندگی گزار رہا ہے، اس کا اندازہ ایوانوں میں بیٹھ کر فیصلے کرنے والے حکم ران کبھی نہیں کرسکتے۔ تن خواہ کا ایک بڑا حصہ مکان کے کرائے، بچوں کی فیسوں اور بجلی کے بلوں کی نذر ہو جاتا ہے، جس کے بعد راشن کے لیے ادھار کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ موجودہ بے تحاشا مہنگائی کے دور میں ایک ادنا ملازم کے لیے سفید پوشی کا بھرم رکھنا محال ہوچکا ہے۔ ایسے میں اگر آنے والے بجٹ میں بھی پرانے اور فرسودہ فارمولوں کے تحت بڑے افسران کو نوازا گیا اور غریب کو ٹرخایا گیا، تو یہ معاشی قتل کے مترادف ہوگا۔
وقت کا تقاضا ہے کہ اس بار بجٹ بناتے وقت روایتی اوزاروں کو ایک طرف رکھ کر خالصتاً انسانی اور ہم دردانہ بنیادوں پر فیصلے کیے جائیں اور تن خواہوں کے اس تفاوت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے، تاکہ ہر ملازم عزت کے ساتھ جینے کا حق پاسکے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










