نشاط چوک مینگورہ میں ہونے والا حالیہ احتجاجی مظاہرہ محض چند افراد کی آواز نہیں، بل کہ اس مٹی سے جڑے ہر اُس ماں، باپ اور بھائی کی چیخ ہے، جس کا لختِ جگر اس سفید زہر کی بھینٹ چڑھ چکا ہے، یا چڑھنے کے قریب ہے۔
وادیِ سوات، جو کبھی اپنی مسحور کن خوب صورتی، اُبلتے چشموں اور امن و آشتی کے حوالے سے پوری دنیا میں جانی جاتی تھی، آج ایک ایسے پوشیدہ اور مہلک دشمن کے خلاف نبرد آزما ہے، جو ہماری نئی نسل کی رگوں میں زہر گھول رہا ہے۔ یہ دشمن کوئی بیرونی حملہ آور نہیں، بل کہ منشیات کا وہ بھیانک کاروبار ہے، جس نے ہمارے پھول جیسے جوانوں کو اپاہج اور ہمارے ہنستے بستے گھروں کو ویران کر دیا ہے۔ سوات کے غیور عوام، سماجی کارکنوں اور مشران نے اس ناسور کے خلاف جس عوامی مہم کا آغاز کیا ہے، وہ دراصل اس مہم جوئی کی بازگشت ہے، جو کسی بھی زندہ معاشرے کی بقا کے لیے ناگزیر ہوتی ہے۔ جب قانون کی گرفت کم زور پڑ جائے اور معاشرتی اقدار کو دیمک چاٹنے لگے، تو پھر عوام کو خود اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے سڑکوں پر نکلنا پڑتا ہے۔
اگر گہرائی سے دیکھا جائے، تو یہ مسئلہ صرف سوات تک محدود نہیں، بل کہ یہ پورے ملک کے تعلیمی اداروں، گلی محلوں اور دیہاتوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ منشیات کی روایتی اقسام سے ہٹ کر اب جس کیمیائی نشے نے ہماری درس گاہوں کا رُخ کیا ہے، وہ انسانی اعصاب کو چند ہی دنوں میں مفلوج کر دیتا ہے۔ یہ زہر اتنی خاموشی سے پھیلتا ہے کہ جب تک والدین کو احساس ہوتا ہے، تب تک پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے۔
تعلیمی ادارے، جنھیں علم و دانش اور تہذیب کا گہوارہ ہونا چاہیے تھا، وہاں اس مکروہ دھندے کا پھیلنا اس بات کی دلیل ہے کہ ہم ایک قوم کے طور پر اپنے بنیادی فرائض سے غافل ہوچکے ہیں۔ اس صورتِ حال میں سوات کے عوام کا جاگ اٹھنا اور اس ظلم کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرنا ایک روشن علامت ہے، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس دھرتی میں ابھی تک اچھائی کی رمق باقی ہے اور لوگ اپنی اقدار کا سودا کرنے پر تیار نہیں۔
کسی بھی معاشرے میں جب منشیات فروش کھلے عام گھومنے لگیں اور ان کا کاروبار دن دونی رات چوگنی ترقی کرنے لگے، تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ انھیں کہیں نہ کہیں سے پشت پناہی حاصل ہے۔ یہ پشت پناہی چاہے انتظامیہ کی سستی کی صورت میں ہو، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی چشم پوشی کی شکل میں ہو، یا پھر چند بااثر افراد کی مالی منفعت کے مرہونِ منت ہو، بہ ہرحال یہ مٹی کے ساتھ غداری کے مترادف ہے۔ جب تک ہم اس زہر کے اصل منبع اور اس کے بڑے سوداگروں پر ہاتھ نہیں ڈالیں گے، تب تک محض چند چھوٹے پیادوں کو گرفتار کرنے سے یہ لہر رکنے والی نہیں۔ سوات کی موجودہ عوامی تحریک کا سب سے بڑا حسن ہی یہ ہے کہ اس نے بہ راہِ راست ان قوتوں کو للکارا ہے، جو اس دھندے کے پیچھے چھپی ہوئی ہیں۔ عوام کا یہ مطالبہ بالکل بہ جا ہے کہ اب زبانی جمع خرچ اور لیت و لعل سے کام نہیں چلے گا، بل کہ اب عملی اور فیصلہ کن اقدامات کا وقت آ چکا ہے۔
اس سنگین بحران کا ایک ادبی اور نفسیاتی پہلو یہ بھی ہے کہ ہمارا نوجوان آخر اس دلدل کی طرف مائل کیوں ہو رہا ہے؟ جب معاشرے میں روزگار کے مواقع ختم ہو جائیں، نوجوانوں کو تخلیقی اور صحت مند سرگرمیوں کے میدان میسر نہ ہوں، اور ہر طرف ایک مایوسی کی فضا چھائی ہو، تو کم زور اعصاب کے مالک افراد اس ذہنی دباو سے فرار حاصل کرنے کے لیے ان مہلک راستوں کا انتخاب کرلیتے ہیں۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ فرار عارضی ہے اور اس کا انجام ابدی اندھیروں کے سوا کچھ نہیں۔ اس لیے جہاں قانون کا کوڑا برسانا ضروری ہے، وہاں ہمیں اپنے خاندانی نظام کو بھی مضبوط کرنا ہوگا۔ والدین کو اپنے بچوں کی بدلتی ہوئی عادات پر کڑی نظر رکھنی ہوگی اور ان کے ساتھ ایک دوست کا رشتہ استوار کرنا ہوگا، تاکہ وہ اپنی الجھنیں کسی اجنبی یا منشیات فروش کے سامنے ظاہر کرنے کے بہ جائے اپنے گھر والوں کے ساتھ بانٹ سکیں۔
سوات کے مشران اور نوجوانوں نے مل کر جس بیداری کی شمع روشن کی ہے، اسے اب پورے ملک کی سطح پر پھیلانے کی ضرورت ہے۔ یہ صرف ایک شہر یا ایک ضلع کی جنگ نہیں، یہ ہماری آنے والی نسلوں کی بقا کی جنگ ہے۔ اگر ہم نے آج اس عوامی پکار پر لبیک نہ کہا اور انتظامیہ نے روایتی سرد مہری کا مظاہرہ جاری رکھا، تو کل کو ہر گھر سے جنازے اٹھیں گے اور پھر پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔
سوات کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اس وادی پر کوئی مشکل وقت آیا، یہاں کے لوگوں نے مل کر اس کا مقابلہ کیا اور سرخ رو بھی ہوئے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس وادیِ امن کو منشیات کے تاجروں سے پاک کرکے ایک بار پھر اس کے اصل روپ میں بہ حال کیا جائے، جہاں کی ہواؤں میں زہر نہیں، بل کہ صنوبر اور چنار کی خوش بو رچی ہوئی ہو۔ بیداری کا یہ سفر شروع ہوچکا ہے اور اس کا منطقی انجام صرف اور صرف اس زہر کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










