مٹتے ہوئے اسلام کا پھر نام جلی ہو
لازم ہے کہ ہر فرد حسین ابن علی ہو
سرزمینِ ہند پر جتنی اہم اور تاریخ ساز شخصیات رونما ہوئیں، ان میں علمائے دیوبند سرِفہرست ہیں۔ انھیں میں ساداتِ عظام اور خانوادۂ مدنی میں بھی بہت سی قابلِ ذکر ہستیاں ظہور پذیر ہوئیں ، جو سب کے سب علم و تقویٰ کے حامل تھے، لیکن خالقِ کائنات نے اس خاندان پر مزید احسان یہ فرمایا کہ آخری دور میں ایک ایسی عہد ساز، رجال کار شخصیت کو وجود بخشا، جسے آگے چل کر ایک مجاہدِ جلیل، محدثِ کبیر ، جانشینِ شیخ الہند، خلیفۂ گنگوہی اور مدرسِ مسجدِ نبویؐ متعارف ہونا تھا، یعنی شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی ذاتِ بابرکت ۔
آپ اگر ایک طرف تقویٰ و طہارت میں شانِ قطبیت رکھتے تھے، تو دوسری جانب ارشاد و طریقت میں شانِ مجددیت کے حامل تھے۔ ایک طرف دریائے علم و عمل کے شناور تھے، تو دوسری جانب میدانِ سیاست کے شہسوار بھی تھے۔ نیز ایک طرف اتباعِ سنت، اخلاقِ نبوت، سیرتِ صحابہؓ اور اُسوۂ مشائخ کا سرچشمہ تھے، تو دوسری جانب جذباتِ حریت، ترقیِ ملت، حبِ وطن، ہمدردیِ خلقِ خدا، غم خواریِ نوعِ انسانیت اور ایثار و قربانی جیسے عمدہ شمائل و خصائل سے سرشار تھے۔ اس لیے کہ آپ کا قلب حاملِ شریعت اور عمل تفسیرِ شریعت تھا۔ ذکر اللہ آپ کی روح، اتباعِ شریعت آپ کی جان، ایثار آپ کی فطرت، حلم و بردباری آپ کی جبلت ،اور جود و عطا آپ کی خصلت تھی۔ مختصر یہ کہ آپ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ (1)
انہوں نے ایک بار تاریخی جملہ کہا تھا کہ حفاظتِ اسلام کے نعرے تو بہت کیے جاتے ہیں مگر عملی اقدامات سے ہم خود کو گریزاں کرتے ہیں۔ اسلام کوئی مجسمہ نہیں کہ جس کی حفاظت کے لیے لاؤ لشکر کی ضرورت ہو۔ آپ اپنے اندر اسلام کو سمو لیجیے۔ آپ بھی محفوظ رہیں گے اسلام بھی محفوظ رہے گا۔ (2)
اسمِ گرامی حسین احمد بن سید حبیب اللہ بن سیدپیرعلی صاحب، آپ حسب ونسب کے اعتبار سے حسینی الاصل ہیں۔ سلسلۂ نسب حضرت علی زین العابدین کے واسطہ سے حضرت حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے جاملتا ہے۔ تقریباً 19 پشت پہلے آپ کا خاندان ہندوستان ہجرت کرکے آیا تھا۔
آپ کی ولادت 19 شوال 1296 ہجری بمطابق 1879ء بمقام بانگر موضع اناؤ، اتر پردیش، ہندوستان میں ہوئی…… جہاں آپ کے والدِ محترم اسکو ل کے ہیڈ ماسٹرتھے۔ آپ کاتاریخی نام چراغ محمد ہے۔ (3)
٭ خاندان:۔ سید حسین احمد مدنی کے 4 بھائی تھے۔ سید محمد صدیق، سید احمد، سید جمیل احمد، سید محمود، بھائیوں میں آپ درمیانے تھے۔
آپ کی تین بہنیں تھیں:
٭ سیدہ زینب (4 برس کی عمر میں فوت ہوئی)
٭ سیدہ نسیم زہرہ (ڈیڑھ سال کی عمر میں فوت ہوئی)
٭ سیدہ ریاض فاطمہ (24 سال کی عمر میں مدینہ میں فوت ہوئیں) (4)
٭ آغازِ تعلیم:۔ آپ کی ابتدائی تعلیم اپنے والدِ بزرگوار کی زیرِ نگرانی ہوئی، جب پانچ برس کے قریب ہوئے، تو آپ کی والدہ ماجدہ نے آپ کو قاعدۂ بغدادی اور عم پارہ پڑھایا…… اور قرآنِ مجید کے پانچ پارے ان ہی سے پڑھے۔ گھریلو تعلیم کے ساتھ ساتھ اسکول کی تعلیم بھی حاصل کی۔ اس طرح سے کہ اس میں امتیازی پوزیشن حاصل کی اور جب آپ 13 سال کے ہوئے، تو آپ 1309 ہجری میں دارالعلوم دیوبند تشریف لائے اور اپنے بڑے بھائی مولانا صدیق احمد صاحب اور مشفق استاذ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن صاحب دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ کی نگرانی میں رہ کر حصولِ علم اور کسبِ فیوض میں منہمک رہے۔ آپ اپنے زمانۂ طالب علمی میں اپنے تمام زملائے درس و رفقائے زمن میں سب سے لائق و فائق اور ممتاز رہے، اور ہمیشہ امتحانات میں اعلیٰ نمبرات سے فوزیاب اور کامیاب رہے، یہاں تک کہ ساڑھے چھے سال تک تعلیم پاکر علوم و فنون میں بامِ عروج حاصل کرکے 1316 ہجری میں دارالعلوم سے فارغ ہوئے۔ اس قلیل عرصہ میں آپ نے 17 فنون پر مشتمل درسِ نظامی کی 67 کتابیں پڑھیں۔ علمِ نبوت کے نیرِ اعظم بن کر دارالعلوم کے در و دیوار کو منور کیا۔ (5)
٭ اساتذۂ کرام:۔ دارالعلوم دیوبند میں تقریباً سات سال کے عرصہ میں متعدد اساتذۂ کرام سے علم حاصل کیا، جن میں ممتاز و مشہور اساتذۂ کرام شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی، حضرت مولانا عبدالعلی صاحب، حضرت مولانا خلیل احمد سہانپوری، حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمان صاحب عثمانی، حضرت مولانا حبیب الرحمان صاحب عثمانی،حافظ محمد احمد صاحب (فرزند حضرت ناتوی) مولانا غلام رسول ہزاری حکیم محمد حسن (شیخ الہند کے چھوٹے بھائی) اور دیگر مشاہیر رحمہم اللہ سے آپ نے علم حاصل کیا ۔
مولانا ذوالفقار صاحب حضرت شیح الہند ؒ کے والدمحترم سے فصول اکبری پڑھی، حضرت شیخ الہند ؒ سے علمِ منطق کی ابتدائی کتابیں، شرح عقائد، ہدایہ آخرین، نخبۃ الفکر، تفسیر بیضاوی، صحیح بخاری، سنن ابواؤد، جامع ترمذی، موطا امام مالکؒ اور موطا امام محمد، تفسیربیضاوی، شرح عقائد وغیرہ متعدد کتابیں اور حضرت مولانا عبدالعلی صاحب (حضرت نانوتویؒ کے شاگرد) سے مسلم شریف، نسائی، ابن ماجہ وغیرہ پڑھیں۔ (6)
٭ دستار بندی:۔ 1328ہجری مطابق 1910ء میں عظیم الشان جلسۂ دستار بندی منعقد ہوا۔ اکابر کے مجمع (حضرت تھانوی، حافظ احمد صاحبؒ اور مولانا حبیب الرحمان صاحب عثمانیؒ کے علاوہ متعدد اہلِ علم عوام و خواص) میں حضرت شیخ الہندؒ نے اپنے دستِ مبارک سے اولاً علامہ انور شاہ کشمیریؒ اور شیخ الاسلام حضرت مدنیؒ کی دستار بندی فرمائی۔
٭ بیعت و سلوک:۔ 1316 ہجری ہی میں عالم ربانی شیخ کامل شریعت و طریقت کے مجمع البحرین حضرت رشید احمد گنگوہیؒ کی خدمت میں حاضرہوئے اور آپ کے دست حق پر بیعت کی۔ دارالعلوم دیوبند سے فراغت حاصل فرما کر گھر تشریف لے آئے، تو آپ کے والد محترم اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ مدینہ منورہ ہجرت کی۔ آپ نے 1316 ہجری میں اپنے والدین کے ہمراہ مدینہ منورہ ہجرت کی۔ مکہ مکرمہ میں اپنے شیخ کے حکم سے حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کی خدمت میں جو آپ کے شیخ کے شیخ تھے حاضر ہوکر روحانی تربیت حاصل کی، 1319 ہجری میں حضرت گنگوہی نے آپ کو اپنی خدمت میں طلب فرمایا۔ دو ماہ چار دن حضرت گنگوہی کی خدمت میں رہے۔ اجازت اورخلافت سے سرفراز فرمایا اورآپ کے سرپر دستارِ خلافت باندھی، 1320 ہجری میں دوبارہ مدینہ منورہ حاضرہوگئے اور مدینہ منورہ میں تدریسی خدمات کا آغاز فرمایا۔ (7)
٭ تحریکِ آزادی میں خدمات:۔ آپ نے ہندوستان کی تحریکِ آزادی میں تحریکِ ریشمی رومال، تحریکِ خلافت اور جمعیۃ علمائے ہند کے پلیٹ فارم سے قائدانہ کردار ادا کیا۔ حضرت شیخ الہندؒ کے وصال کے بعد ملّی قیادت کا فریضہ انجام دیا اور ان کے مشن کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا اور حصولِ آزادی کی خاطر چار بار قید و بند کی آزمائش سے ہمکنار ہوئے اور تقریباً ساڑھے سات سال اسیرِ فرنگ رہے۔ آپ نے آزادی کے لیے جہاں بے شمار قربانیاں دیں اور کوششیں کیں، ان سب میں آپ کی بنیادی فکر یہ رہی کہ آپس میں اختلاف نہ ہو، ملک کے اس وفادار اور جانباز سپاہی نے جب سے حصولِ آزادی کے لیے جد و جہد کی زمام کو تھاما، تب ہی سے ملک میں بسنے والے تمام طبقات اور جماعتوں کے مابین تشدد و اختلاف اور تفریق و امتیاز کو ختم کرنے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے، اور ہر اعتبار سے تمام مذاہب کے ماننے والوں کو جمہوریت، اور اتحاد ویکجہتی کا وہ سنہرا درس دیا، جو ناقابلِ فراموش ہے اور کسی دیدہ ور سے مخفی بھی نہیں، نیز تمام برادرانِ وطن کے سامنے اپنی اس فکر کا اظہار بے دریغ الفاظ میں کرتے ہوئے کہا: ’’ہندوستان کبھی بھی سیاسی اور ملکی معاملات میں ہندو مسلم تفریق و امتیاز کا قائل نہیں ہوا ہے۔ اس کی حکومتیں مسلم حکمرانوں کے زیرِ اثر رہی ہوں یا ہندو فرمانرواؤں کے زیرِ نگیں، کبھی بھی افتراق و امتیاز سے آشنا نہیں ہوسکیں۔‘‘
آپ کی یہ جمہوری فکر یہیں پر تام نہیں ہوتی…… بلکہ تحریکِ آزادی کی شبانہ روز جد و جہد کوجمہوری رنگ و روغن سے آشنا کرنے کے لیے 1945ء میں سہارنپور کی سرزمین سے تمام طبقات کو اُخوت وبھائی چارگی اور جمہوریت کا درس ان الفاظ میں دیتے ہوئے کہا: ’’میرے محترم! وطن اور ابنائے وطن کی بربادی اور اس کے اسباب کسی خاص مذہب، کسی خاص برادری، کسی خاص شخص تک محدود نہیں ہوسکتے۔ وطن اور ملک کی بربادی جملہ ساکنینِ ملک کو برباد کرے گی اور کررہی ہے۔ ناؤ ڈوبتی ہے، تو اس کے تمام سوار ڈوبتے ہیں۔ گاؤں میں آگ لگتی ہے، تو سبھی گھر جلتے ہیں۔ اسی طرح یہ غلامی و محکومیت جملہ اہلِ وطن کو موت کے گھاٹ اُتار رہی ہے۔ کیا اس میں فقط ہندو مرے، یا فقط مسلمان مرے؟ نہیں، سبھوں کی بربادی ہوئی۔ ایسے وقت میں ہر ادنیٰ سمجھ والا بھی اپنے داخلی و خارجی جھگڑوں کو چھوڑکر ضروری سمجھتا ہے کہ مصیبتِ عامہ کو سب سے پہلے زائل کردینا چاہیے۔ اس وقت تک چین نہ لینا چاہیے اور نہ اپنے داخلی و خارجی جزئی جھگڑوں کو چھیڑنا چاہیے، جب تک یہ مصیبت نہ ٹل جائے ۔‘‘
حضرت شیخ الاسلامؒ کے سوانحی اوراق میں موجود یکجہتی اور جمہوری فکر کی بابت آپ کا یہ لطیف استدلال آج بھی ہمارے لیے خضرِ طریق کی حیثیت رکھتا ہے کہ: ’’وَاَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْھِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّ اللہِ وَعَدُوَّکُمْ‘‘ یہ آیت صاف صاف بتلا رہی ہے کہ مسلمانانِ ہند کے لیے اتحاد ضروری ہے۔ کیون کہ وہ فوج جس کے ذریعہ ہم دشمن کو لڑاسکتے ہیں اور اس کے پتھریلے دماغ کو پگھلا سکتے ہیں۔ وہ اہلِ ہند کے لیے ظاہری حیثیت سے اتحادِ ہند ومسلم اور صرف اتحادِ ہندو مسلم ہے، اس لیے یہ اتحاد اور قومی یکجہتی مذہبی حیثیت سے جائز ہی نہیں، بلکہ ضروری بھی ہوگا۔‘‘ (8)
٭ سیرت و اخلاق:۔ ڈاکٹر عبد الرّحمان شاجہان پوری فرماتے ہیں کہ: علم عمل کی دنیا میں عظیم الشان شخصیات کے ناموں کے ساتھ مختلف خصائل و کمالات کی تصویریں ذہن کے پردے پر نمایاں ہوتی ہیں، لیکن مولانا محمود الحسن حسین احمد مدنی کا نام زبان پر آتا ہے، تو ایک کامل درجے کی اسلامی زندگی اپنے ذہن و فکر، علم اور اخلاق و سیرت کے تمام خصائل و کمالات اور محاسن و مہامد کے ساتھ تصویر میں ابھرتی اور ذہن کے پردوں پر نقش ہوجاتی ہے۔ اگر مجھ سے کوئی پوچھے کہ اسلامی زندگی کیا ہوتی ہے؟ تو میں پورے یقین اور قلب کے کامل اطمینان کے ساتھ کِہ سکتا ہوں کہ حسین احمد مدنی کی زندگی کو دیکھ لیجیے۔ اگرچہ یہ ایک قطعی اور آخری جواب ہے، لیکن میں جانتا ہوں کہ اس جواب کو عملی جواب تسلیم نہیں کیا جائے گا اور ان حضرات کا قلب اس جواب سے مطمئن نہیں ہوسکتا، جنہوں نے اپنی دورِ افتادگی و عدم مطالعہ کی وجہ سے یا قریب ہوکر بھی اپنی غفلت کی وجہ سے، یا اس وجہ سے کہ کسی خاص ذوق و مسلک کے شغف و انہماک، یا بعض تعصبات نے ان کی نظروں کے آگے پردے ڈال دیے تھے اور وہ حسین احمد مدنی کے فکر کی رفعتوں، سیرت کی دل ربائیوں اور علم و عمل کی جامعیتِ کبریٰ کو محسوس نہ کرسکے تھے اور ان کے مقام کی بلندیوں کا اندازہ نہ لگا سکے تھے۔ (9)
٭ ازواج و اولاد:۔ حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کو اپنے معاصرین میں جہاں بے شمار امتیازات و خصوصیات حاصل ہیں، تو وہیں یہ بھی کہ آپ نے اپنی زندگی میں کل چار نکاح کیے: چناں چہ آپ کا پہلا نکاح موضع قتال پور ضلع اعظم گڑھ میں ہوا، جن سے دو لڑکیاں ہوئیں۔ ایک کا بچپن ہی میں انتقال ہوگیا، اور جب آپ مالٹا میں اسیر ہوئے، تو آپ کے اہلِ و عیال ملکِ شام منتقل ہوگئے۔ وہیں پر دوسری بیٹی آسودۂ خاک ہوگئی۔ آپ کا دوسرا نکاح قصبہ بچھرایوں ضلع مراد آباد میں ہوا، ان سے دو صاحبزادے ہوئے: اخلاق احمد اور اشفاق احمد، لیکن خدا کا کرنا یہ ہوا کہ پہلا 8 سال اور دوسرا ڈیڑھ سال کی عمر میں فوت ہوگیا، اور اہلیہ محترمہ کا بھی مدینہ منورہ میں ہی وصال ہوگیا۔ پھر آپ نے دوسری اہلیہ کے انتقال کے بعد انہی کی چھوٹی بہن سے نکاح کیا، جن سے حضرت مولانا سید اسعد مدنی اور ایک صاحبزادی ہوئی۔ پھر قیامِ سلہٹ کے زمانہ میں صاحبزادی بھی جاں بحق ہوگئی۔ حضرت مولانا سید اسعد مدنی کی والدہ ماجدہ بھی 1355 ہجری میں دیوبند میں مالکِ حقیقی سے جا ملیں۔ پھر اس کے بعد آپ کی چوتھی شادی اپنے چچازاد بھائی کی منجھلی صاحبزادی سے ہوئی، جن سے حضرت مولانا محمد ارشد مدنی دامت برکاتہم، اور مولانا اسجد مدنی اور پانچ صاحبزادیاں ہوئیں۔ (10)
٭ وفات:۔ 13 جمادی الاول بمطابق 5 دسمبر 1957ء بروزِ جمعرات، بوقت دوپہر بمقام دیوبند، بھارت میں انتقال ہوا۔ تاخیر سے بچنے کے لیے ساڑھے بارہ بجے شب قاری محمد طیب قاسمی کے ایما پر شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔ (11)
مت سہل اسے جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتا ہے
حوالہ جات:
1:۔ بنوری.آئی ڈی یو.پی کے.کام، شیخ الاسلام حضرت سید مولانا حسین احمد مدنی
2:۔ روزنامہ سیاست.کام، شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رح کا ایک یادگار پیغام
3:۔ فیضان قاسمی.کام، شیخ الاسلام حضرت مدنی بحیثیتِ محدث، 4 اگست 2020ء
4:۔ اُردو ویکی پیڈیا.کام حسین احمد مدنی شیخ العرب والعجم
5:۔ بنوری.آئی ڈی یو.پی کے.کام، شیخ الاسلام حضرت سید مولانا حسین احمد مدنی
6:۔ فیضان قاسمی.کام، شیخ الاسلام حضرت مدنی بحیثیتِ محدث، 4 اگست 2020ء
7:۔ ایضاً
8:۔ بنوری.آئی ڈی یو.پی کے.کام، شیخ الاسلام حضرت سید مولانا حسین احمد مدنی
9:۔ اُردو ویکی پیڈیا.کام حسین احمد مدنی شیخ العرب والعجم
10:۔ بنوری.آئی ڈی یو.پی کے.کام، شیخ الاسلام حضرت سید مولانا حسین احمد مدنی
11:۔ اردو ویکی پیڈیا.کام، حسین احمد مدنی شیخ العرب والعجم۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔