غالباً1961ء کا سال تھا۔ اگست کا مہینا تھا اور برسات کا موسم تھا۔ ہم یعنی ’’سٹیٹ پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ‘‘ کا عملہ اپنے سربراہ محمد کریم صاحب کے ساتھ آلوچ میں ایک دن رات گزارنے کے بعد واپس سیدو شریف کی طرف آرہے تھے۔ ڈھیرئی پہنچے، تو شدید بارش ہونے لگی۔ سڑک کچی تھی اور بارش نے سڑک کو دلدل میں تبدیل کرلیا تھا۔ جس ’’پک اَپ‘‘ گاڑی میں ہم آرہے تھے، وہ فور ویل نہیں تھی۔ فورڈ کمپنی کی بنی ہوئی تھی۔یختنگی کے قریب کیچڑ میں ایسی پھنس گئی کہ ہمارے دھکوں کے باوجود ایک فٹ بھی آگے نہ بڑھ سکی۔ ناچار ہم پیدل بھیگتے ہوئے یختنگی ریسٹ ہاؤس چلے گئے۔ رات بھر بارش ہوتی رہی۔ ریسٹ ہاؤس کی وہ خوف ناک رات میں آج تک نہ بھول سکا۔
فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/
صبح مطلع صاف ہوا۔ سورج نکل آیا، تو گاڑی بھی تازہ دم ہوچکی تھی۔ ہم کو واپسی میں الپورئی جانا تھا، جہاں تحصیل دار سید کریم خان سے ہماری پہلی ملاقات ہوئی۔ اُنھوں نے ہمیں گرم جوشی سے ریسیو کیا۔
سید کریم خان کے ساتھ پُرتکلف ’’لنچ‘‘ کے بعد ہم نے واپسی کا راستہ لیا اور رات گئے سیدو شریف پہنچے۔ اگلے دن جب ہماری سربراہ محمد کریم والئی سوات کے دفتر میں حاضری ہوئی اور اُنھوں نے ’’آؤٹ آف شیڈول‘‘ دورے کا سبب پوچھا، تو سب سے پہلے اُنھوں نے محکمے کے لیے نئی فور بائے فور گاڑی کا آرڈر دے دیا جو ایک ہفتے کے اندر اندر پہنچ گئی۔ اس سے ریاست کے استعداد کا اندازہ لگائیے۔
اب چلتے ہیں واپس سید کریم خان کی طرف۔
الپورئی سے واپسی پر مَیں نے بابا کو سید کریم خان کے بارے میں بتایا، تو اُنھوں نے مجھے بتایا کہ موصوف باجکٹہ بونیر کے رہنے والے ہیں۔ اُن کے ایک بھائی کو غالباً بادشاہ صاحب نے ’’خان بہادر‘‘ کا خطاب دیا تھا۔ وہ بونیر کو سوات کے ساتھ الحاق میں بہت موثر کردار ادا کرنے والے تھے۔
دیگر متعلقہ مضامین: 
ضلع بونیر کا مختصر سا تعارف 
پیر بابا اور بونیر 
محمد افضل خان لالا کی یاد میں  
فلائنگ کوچ مولوی صیب  
بزوگر حاجی صاحب  
حاجی رسول خان کی یاد میں  
نوابِ دیر شاہ جہان خان اور تعلیم و صحت  
سید کریم ریاست کی کئی تحصیلوں میں بہ طورِ تحصیل دار فرائض انجام دے چکے تھے۔ پھر اُن کو فوج میں "Induct” کرکے صوبے دار میجر بنا دیے گئے۔ پھر بعد میں مذکورہ رینک سے سبک دوش ہوگئے۔ اس لیے بونیر میں عمومی طور پر لوگ اُنھیں صوبے دار میجر صاحب کَہ کر یاد کیا کرتے۔
الپورئی میں مذکورہ ملاقات کے کئی سال بعد جب ریاست کا ادغام ہوچکا تھا، اُن سے بونیر میں ملاقات ہوئی۔ مَیں نے اُن سے تعارف کروایا، تو بابا کے بارے میں پوچھ لیا۔ اُس موقع پر وہ بابا کو محبت و احترام سے یاد کرتے رہے۔
موصوف نے والئی سوات سے ادغام کے بعد بھی تعلق برقرار رکھا۔ جب جنرل ضیاء الحق نے مجلسِ شورا قائم کرنے کا ارادہ کیا، تو چوں کہ وہ والی صاحب کا بہت احترام کرتے تھے، تو اُن سے سوات کی نمایندگی کرنے والے قابل افراد کے نام طلب کرلیے۔بونیر سے اُنھوں نے سید کریم خان کا نام "Recommend” کیا تھا۔
سید کریم خان بہت جہاں دیدہ اور ہوش یار شخص تھے۔ نہایت مہمان نواز اور بے تکلف انسان تھے۔سیاست کے داو پیچ کے ماہر تھے، مگر بہ ظاہر بہت سادہ لگتے تھے۔
سید کریم خان کے دو بیٹے اور ایک پوتا سیاست میں بہت کامیاب رہے تھے۔ عبدالمتین خان قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ استقبال خان صوبائی حکومت میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ بعد میں وہ پارٹی سے ناراض ہوکر جمیعت العلماء میں چلے گئے تھے۔
سید کریم خان بونیر کے خوانین اور بزرگوں میں ایک ممتاز حیثیت کی حامل شخصیت تھے۔ وہ دین کے معاملے میں بھی بہت سخت اور باعمل تھے۔
ایک دفعہ ہم ایک سفارش کے سلسلے میں بونیر کے چند بڑوں کو پشاور لے کر جا رہے تھے۔اُن میں ریگا کے نادر خان اور کلپانئ کے اشتر خان اور سید کریم خان بھی تھے۔سارے راستے وہ ویگن کے آخری سیٹ پر قرآنِ شریف کی تلاوت کرتے رہے اور بروقت نماز ادا کرتے رہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالا اُن تمام مشران کو جنت الفردوس میں اعلا مقام عطا فرمائے، آمین!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔