دوستو! یکم اپریل میری ماں کا یومِ وفات ہے۔ اللہ اُن کی قبر نور سے بھر دے، آمین!
مَیں نے زندگی بھر ماں کو دکھ ہی دیے ہوں گے۔ مَیں تھا ہی ایسا بدنصیب…… مگر اب پچھتاوے کے علاوہ میرے پاس کچھ نہیں۔ ایک بھلانا چاہوں، تو دو یاد آتی ہیں۔ ماں نے ہمیشہ نہ خود درگزر سے کام لیا، بلکہ مجھے بابا کی مار سے بھی بچائے رکھا۔ مَیں بچپن میں بہت سرکش قسم کا بچہ تھا، بابا کا "Blue eyed baby”…… اگرچہ میری آنکھیں نیلی نہیں، بلکہ براون تھیں۔
فضل رازق شہاب کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/
ایک واقعہ یاد آیا۔ ہمارے گھر کے معمول سے دُگنے چوڑے برآمدے میں مٹی اور بھوسے کے بنے ہوئے اونچے اونچے غلہ دان بنے ہوئے تھے۔ جب کبھی گاؤں کی زمینوں سے جوار یا چاول آتے، تو اُنھیں میں سٹور کیے جاتے۔ فرش سے ذرا اُوپر اس میں موہریاں سے بنی ہوتیں، جن کو مٹی ہی کے بنے ہوئے کون سے پلگ کردیتے۔
مَیں نے دو تین بار صبح شگئی سکول جاتے ہوئے جولی بھر جوار نکالے اور سیدو بازار میں بیچ کر پیسے سکول کے ٹک شاپ میں اُڑا دیے۔ ٹک شاپ کوئی بنی بنائی شاپ نہیں تھی۔ بخت ولی نامی ایک دُبلا فاقہ زدہ سا شخص چٹائی بچھاتا اور اس پر میٹھی گولیاں، چنا اور مٹھائی سجاتا۔ لڑکے ’’ریسس‘‘ کے وقت آتے، تو جن کے پاس پیسے ہوتے، وہ کچھ نہ کچھ خرید لیتے۔
دیگر متعلقہ مضامین:
مختیار احمد (قمر آپٹکو) کی یاد میں  
بزوگر حاجی صاحب  
حاجی رسول خان (مرحوم) کی یاد میں  
محمد افضل خان لالا کی یاد میں  
تصدیق اقبال بابو (مرحوم)  
ایک صبح میں جھولی میں جوار چُرائے گھر کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا کہ بڑے بھائی سے جا ٹکرایا۔ مَیں نے اُسے بہت منت کی کہ کسی کو مت بتانا……مگر مجھے یقین تھا وہ ضرور بتائے گا۔ مَیں نے بستہ وہیں پھینکا۔ جوار بیچ کر نکل بھاگا اور پیدل گاؤں کی طرف چل پڑا۔
وہ سردیوں کے دن تھے۔ سڑک کے کنارے نالیوں میں پانی جم گیا تھا اور اُس میں بکائن کے درختوں سے گرے ہوئے زرد دانے پھنس گئے تھے۔ میں سردی سے ٹھٹھرتا کانپتا کوئی تین ساڑھے تین گھنٹوں میں گاؤں پہنچا۔ چاچا نے ناگواری سے میری ہیئت دیکھی اور پوچھا، کیوں بھاگ آیا ہے ؟
مَیں جواباً خاموش رہا۔ اتنے میں دروازہ کسی نے کھٹکھٹایا۔ چچا باہر نکلا تو فوراً واپس آیا۔ مجھے گردن سے پکڑ کر باہر کھڑے سپاہی کے حوالے کیا اور کہا کہ یہی ہے وہ شیطان جس کے بارے میں تمھیں فون پر حکم ملا ہے۔
سپاہی مجھے سڑک تک لایا اور کہا سیدھے واپس گھر جاؤ۔اِدھر اُدھر مت ہونا۔ راستے میں ہر قلعے کو تیرے بارے میں حکم ملا ہے۔ مَیں گرتا پڑتا شام کے قریب گھر پہنچا۔ پاؤں سوج کر کپا بن گئے تھے۔ بڑی مشکل سے والدہ نے جوتے اُتارے۔ گرم پانی میں نمک ڈال کر میرے پیر اُس میں رکھ دیے۔ وہ روتی رہیں اور میرے پیر سہلاتے رہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔