14 مئی 2006ء کو پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان لندن میں ہونے والا وہ 8 صفحاتی معاہدہ جس میں مشرف حکومت کی طرف سے متعارف کرائی گئی تمام آئینی ترامیم، جمہوریت میں فوج کی حیثیت، نیشنل سیکورٹی کونسل، احتساب اور عام انتخابات کے بارے میں دونوں جماعتوں کے مشترکہ نکتۂ نظر کو بیان کیا گیا ہے۔ اسی دستاویز کو میثاقِ جمہوریت (Charter of Democracy) کہتے ہیں۔ مذکورہ دستاویز پر دونوں جماعتوں کے سربراہان کے دستخط سے پہلے ایف آئی اے کے سابق سربراہ رحمان ملک (مرحوم) کی رہایئش گاہ پر مذکرات ہوئے، جس میں پی پی پی کی طرف سے بے نظیر بھٹو، مخدوم امین فہیم (مرحوم)، رضا ربانی، سید خورشید شاہ، اعتزاز احسن اور راجہ پرویز اشرف، جب کہ پی ایم ایل این کی طرف سے نواز شریف، شہباز شریف، اقبال ظفر جھگڑا، چودھری نثار علی خان، احسن اقبال اور غوث علی شاہ شریک ہوئے۔
اختر حسین ابدالی کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/akhtar-hussain/
معاہدے کے چیدہ چیدہ نِکات:
٭ چارٹر آف ڈیموکریسی میں ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں یعنی مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی نے 1973ء کے آئین کو اس شکل میں بحال کرنے کا مطالبہ کیا، جس شکل میں اسے مشرف نے اکتوبر 1999ء کو معطل کیا تھا۔
٭ ’’لیگل فریم ورک آرڈر 2002ء‘‘ اور آئین میں ساتویں ترمیم کے تحت مشترکہ طریقۂ انتخاب، اقلیتوں اور خواتین کی نشتوں میں اضافہ، ووٹنگ کی عمر میں کمی اور پارلیمینٹ کی نشستوں میں اضافہ جیسی ترامیم کو ختم کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔
٭ صدر جنرل مشرف کی طرف سے متعارف کرائی گئی اس آئینی ترمیم کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا جس میں تین مرتبہ وزیرِ اعظم منتخب ہونے پر پابندی عاید کی گئی تھی۔
٭ نیشنل سیکورٹی کونسل کے خاتمے کی سفارش کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ ڈیفنس کیبنٹ کمیٹی کی سربراہی وزیرِ اعظم کے پاس ہو۔
٭ ملک کے جوہری اثاثوں کا ڈیفنس کیبنٹ کمیٹی کے تحت موثر کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تشکیل کرنے کی سفارش کی گئی، تاکہ مستقبل میں جوہری رازوں کی چوری کا امکان ختم کیا جا سکے۔
٭ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔
٭ ایک ایسا کمیشن بنانے کی سفارش کی گئی جو 1996ء کے بعد سے فوج کی طرف سے جمہوری حکومتوں کو ہٹانے سمیت کارگل جیسے واقعات کی تحقیقات کرے اور متعلقہ ذمے داروں کا تعین کرے۔
٭ چارٹر کی شق 32 کے تحت آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلی جنس اور تمام دیگر خفیہ ایجنسیوں کو منتخب حکومت کے ماتحت بنانے اور تمام خفیہ اداروں کے سیاسی شعبہ جات کو ختم کرنے کی سفارش کی گئی۔
٭ معاہدۂ جمہوریت کے تحت ایک ایسی کمیٹی بنانے کی سفارش کی گئی جو فوج اور خفیہ اداروں میں وسایل کے ضیاع کو روکنے کے بارے میں سفارشات مرتب کرے۔
٭ معاہدہ کی ایک اور شق کے تحت ملٹری لینڈ اور کنٹونمنٹ کو وزارتِ دفاع کے تحت کرنے اور ایک ایسا کمیشن بنانے کی سفارش کی گئی جو 12 اکتوبر 1999ء کے بعد فوج کو الاٹ کی گئی زمین کے کیسوں کا جایزہ لے۔
٭ یہ بھی سفارش کی گئی کہ ملک کے دفاعی بجٹ کو منظوری کے لیے پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔
٭ سفارش کی گئی کہ فوج اور عدلیہ کے تمام افسروں کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ ارکانِ پارلیمنٹ کی طرح اپنی جائیداد اور آمدنی کے سالانہ گوشوارے جمع کرائیں گے۔
٭ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آیندہ وہ کسی فوجی حکومت میں شامل ہوں گے اور نہ حکومت میں آنے اور منتخب حکومت کے خاتمے کے لیے فوج کی حمایت طلب کریں گے۔
٭ سفارش کی گئی کہ سیاسی بنیادوں پر کام کرنے والے نیب کی جگہ ایک آزادانہ احتساب کمیشن بنایا جائے جس کی سربراہ کو وزیرِ اعظم قایدِِ حزبِ اختلاف کے مشورے سے مقرر کرے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔