تحریر: عبدالمعین انصاری
٭ شادی مذہبی ضرورت:۔ مہابھارت میں لکھا ہوا ہے کہ ایک بڑے پنڈت نے شادی نہیں کی۔ اس کا گزر اتفاقاً اس کنویں پر سے ہوا جس میں اس کے باپ دادا لٹکے ہوئے تھے۔ برہمن نے اُن لٹکے ہوئے لوگوں سے پوچھا، تم کون ہو اور کیوں لٹکے ہوئے ہو؟ ان لٹکے ہوئے لوگوں نے جواب دیا، ہمارے کرم تو ایسے تھے کہ ہم سورگ میں چلے جاتے…… مگر ہمارے بیٹے نے بیاہ نہیں کیا۔ اُس جرم میں ہم لٹکے ہوئے ہیں۔ یہ سن کر برہمن نے فوراً اپنا بیاہ ’’باسک ناگ‘‘ کی لڑکی سے کیا اور اس کے شادی کرتے ہی اس کے باپ دادا کنویں سے نکل کر سورگ میں چلے گئے۔
منو کا کہنا ہے کہ جو برہمن، چھتری، ویش ’وید‘ نہ پڑھے، یجہ نہ کرے اور بیٹا پیدا نہ کرے…… وہ نرک میں جاتا ہے۔ نرک کا نام پت اور اتر کے معنی محافظ کے ہیں۔ چوں کہ بیٹا باپ کو نرک سے بچاتا ہے، اس لیے پتر کہلاتا ہے۔ راسخ العقیدہ ہندوؤں کے نزدیک بیٹے کے بغیر رہنا بہت برا سمجھا جاتا ہے…… مگر ہندو معاشرے میں ایسے مردوں کی کمی نہیں جو کہ ’’برہم چاری‘‘ یعنی شادی نہیں کرنا چاہتے ہیں…… مگر عجیب بات ہے کہ وہ بھی اپنی بہنوں وغیرہ کی شادی کرانا ضروری سمجھتے ہیں۔ مثلاً آریہ سماجیوں کا کہنا ہے کہ اگرکوئی مرد برہم چاری رہے، تو اچھا ہے…… مگر عورت کے لیے ضروری ہے کہ اس کے دس بچے ہوں (عجیب بات ہے) شاید اس لیے دیانند سرستی نے شادی نہیں کی۔ اکثر ہندوؤں کا خیال ہے کہ شادی ضرور کرنا چاہیے۔
٭ شادی کے طریقے:۔ ہندو سماج میں شادی کے آٹھ طریقے ہیں:
٭ باہم رضامندی سے۔
٭ لڑکی داماد کو دینا۔
٭ رقم کے بدلے لڑکی دینا۔
٭ دھرم کی ترقی کے لیے لڑکی دینا۔
٭ کچھ رقم لے کر لڑکی کو بیاہنا۔
٭ لڑکا اور لڑکی کا مرضی سے ملاپ ہونا۔
٭ جبراً یا فریب سے شادی کرنا۔
٭ بے ہوش یا شراب پی ہوئی لڑکی سے بالجبر ہم بستر ہونا۔
ان آٹھ قسموں میں جس کا بھی بیاہ ہوگا وہ جایز ہوگا، اور وہ اولاد ترکہ حاصل کرے گی…… لیکن تعزیزاتِ ہند میں ساتویں اور آٹھویں قسم کا بیاہ کرنے پر سزا دی جاسکتی ہے۔
٭ شادی کی گوت:۔ کچھ عرصہ پہلے تک ہندوؤں میں کوئی ذات ایسی نہیں ہے جو کہ ہر ذات میں شادی کرنا جایز سمجھتی ہو۔ منو کے قانون کے مطابق برہمن کا برہمن کی لڑکی سے، چھتری کا چھتری کی لڑکی سے، ویش کا ویش کی لڑکی سے بیاہ ہونا چاہیے…… اور اس کی پوری پوری پابندی کی جاتی تھی۔ البتہ ایک ذات کی ایک گوتر میں شادی نہیں کی جاتی ہے…… بلکہ جدا گوتر کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ یہ دستور بھی ہے کہ شادی کسی خاص گوتر میں کی جاتی تھی، صرف اسی گوتر میں شادی کی جاتی تھی اور دوسری گوتر میں شادی نہیں کی جاتی تھی۔
مثلاً برہمنوں کی ’’سناڈھ‘‘ اور ’’کنوجیہ‘‘ دو مشہور گوتر ہیں۔ سناڈھ میں مزید دو ذیلی گوتر ہیں، ایک کو ’’ساڑھے تین گھر‘‘ اور دوسرے کو ’’دس گھر‘‘ کہتے ہیں۔ ساڑھے تین گھر والے دس گھر کی لڑکیوں سے بیاہ جایز سمجھتے ہیں…… لیکن اپنی لڑکیوں کا دس گھر والوں میں بیاہ نہیں کرتے۔
ایک دوسری مثال میں بلند شہر میں کنوجہ ، سناڈھ اور گوڑ برہمن ایک دوسرے کی لڑکیوں سے شادیاں کرتے تھے…… لیکن گذشتہ صدی کی ابتدا سے کنوجیہ اور گور برہمن، سناڈھ کی لڑکیوں سے شادیاں کرتے رہے…… مگر اپنی لڑکیاں سناڈھ کو دینا بند کردیں۔
چھتریوں اور راجپوتوں میں لڑکا اور لڑکی کی شادی کے لیے ضروری ہے کہ ان کی گوتریں علاحدہ ہوں۔ مثلاً بڑھیلا، رگھنی اور بیس کی لڑکیاں لیتے ہیں اور امیتھیا کو لڑکیاں دیتے ہیں۔
اودھ کا چندیل، چوہان، گھروار، ریکوار، جنبوار اور ڈہکری کی لڑکیاں لے لیتا ہے اور گوڑ، سوم بنسی پنوار کو لڑکیاں دیتا ہے۔
اعظم گڑھی کا چندر بنسی بسین، سکروار، نندوک، راٹھور، پلوار، گوتم، اوجینی، چندیل، بیس، سنگیل اور متیا کی لڑکیاں لے لیتا ہے اور گارگ بنسی، رگھبنسی، سورج بنسی اور چوہان کو اپنی لڑکیاں دیتا ہے۔
علی گڑھ میں گہلوٹ، کچھواہا راٹھور، برگوجر، سولنکھی، باچھل، بیس، جنگہاڑا، پندر کی لڑکیاں لے لیتے ہیں اور چوہان برگوجر، بنوار ، تومار اور ڈھکرا کو اپنی لڑکیاں دیتے ہیں۔
اکثر ہندو اپنی گوتر میں شادی جایز نہیں کہتے ہیں…… لیکن ساکل دیبی برہمن اپنی گوتر میں شادی کرتے ہیں۔ اس طرح کایستھ کہتے ہیں کہ صرف اپنی گوتر میں شادی کرنا جایز ہے، غیر گوتر میں نہیں…… اور آگرہ اور اودھ میں اسی دستور پر عمل کیا جاتا ہے۔ یعنی سری باستب سری باستب میں، سکسینہ سکسینہ میں اور گوڑ گوڑ میں شادی کرتے ہیں۔
عموماً ہندوؤں کا خیال ہے کہ دور دراز مقامات پر لڑکیوں کو بیاہنا چاہیے۔ اس کے برعکس متھرا کے لوگ کہتے ہیں کہ متھر کی بیٹی گوکل کی گائے کرم پھوٹے تو انت کو جائے۔
٭ رشتہ داروں میں شادی:۔ لیکن اس کا ہر گز مطلب یہ نہیں کہ تمام ہندو غیروں میں شادی کرتے ہیں، اس کے برعکس بھی ہوتا ہے۔ برہمو سماج والے ماں، بیٹی، بہن، چچی، نانی اور ناتن کے علاوہ ہر عورت سے شادی کرلیتے ہیں۔
بہار میں چچیرا، ممیرا، پھوپیرا، مسیرا یہ چار رشتوں کے علاوہ شادی ہوجاتی ہے۔
مدراس، وسط ہند، بمبئی، کرناٹک اور میسور کی بعض قومیں بھانجی سے، ارناڈں میں بڑی سگی بیٹی سے، کونڈ سگی خالہ سے، دہما تھاتا میں سوتیلی ماں سے، کودیا بیوہ ماں سے، دام مارگیوں کا شادی کے لیے عورت ہونا کافی ہے، چاہے وہ بیٹی ہو، بہن ہو یا ماں…… سب کے ساتھ شادی جایز ہے۔ جب کہ سنیاسی شادی جایز نہیں سمجھتے۔
٭ جنم پتری:۔ اکثر ہندو شادی بیاہ اپنی ذات کی کسی گوت میں کرتے ہیں، یعنی برہمن کی برہمن سے، چھتری کی چھتری سے، ویش کی ویش سے اور شودر کی شودر سے۔ ذات کے علاہ جنم پتری کا ملنا بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔ یعنی کسی ذات کے لڑکے کا جنم پتر اسی ذات کی لڑکی میں مل جائے، اس کے ساتھ ہی بیاہ کرنا چاہیے۔ اگرچہ زیادہ تر ہندو اپنے بچوں کا جنم پتر ملانے کے بعد ہی بیاہ کرتے ہیں اور جنم پتری کے ملنے کا مطلب سمجھا جاتا ہے کہ دونوں میں محبت اور عمر دراز ہوگی۔ ہندو معاشرے میں جنم کنڈلی ملنے کے باوجود ناچاقی اور طلاق کے واقعات عام ہیں۔ اس کے علاوہ بیواؤں کی کمی نہیں…… لیکن عام طور پر ہندو بھی جنم پتری پر اعتقاد نہیں رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود جنم پتری کو ایک سماجی ضرورت اور مجبوری سمجھا جاتا ہے۔ اکثر اچھے رشتے کی صورت میں لوگ جنم پتری نہ ملنے کی صورت جنم پتر بنانے والے برہمن کچھ روپیا دے کر جنم پتری کی خرابیاں دور کروا لیتے ہیں۔ تعلیم یافتہ اور بعض ہندو قومیں مثلاً سادہ کے علاوہ وہ قومیں جو عورت کی دوسری شادی کراتی ہیں، وہ بھی جنم پتری پر یقین نہیں رکھتیں۔
٭ دوسری ذاتوں میں شادی:۔ عام حالات میں ہندو شادی بیاہ صرف ذات کے اندر جایز سمجھتے ہیں…… لیکن بعض حالات میں اس کے برعکس بھی عمل ہوتا رہا ہے۔ مثلاً برطانوی عہد میں جزیرہ انڈومان سزا کے طور پر بھیجے جانے والے لوگ گوتر یا ذات کی پروا نہیں کرتے تھے اور کسی بھی ذات کی عورت سے شادی کرلیتے تھے۔ مثلاً کانپور کے کنوجیہ برہمن بھڑ بھونجا کی لڑکی سے، کمایوں کے ڈوم کھاسی راجپوت کی لڑکی سے، بمبئی کے کنبھی مرہٹہ کی لڑکی سے، آسام کے کایستھ بیدیا کی لڑکی سے، پنجاب کے سنار اور نائی اور کھاسی کنیٹ کی لڑکی سے، سادہارن برہمو سماج کے برہمن، کایستھ اور بیدیا آپس میں ایک دوسرے کی لڑکی سے بیاہ کرتے ہیں۔ جاٹ، گوجر اور راجپوت کے گوتر کے لوگ چماروں اور دیگر کم تر اقوام کی لڑکیاں خرید کر ان کے ساتھ بیاہ کرتے ہیں۔ ذات پر کوئی بھی اعتراض نہیں کرتا تھا…… لیکن اس کے برعکس بنگال میں کوئی ایسی لڑکی سے شادی کرنا چاہے جو اس کی ذات کی نہیں، تو اُسے ذات سے باہر نکال دیا جاتا ہے۔
٭ بیویوں کی تعداد:۔ عام طور پر ہندوؤں میں ایک ہی شادی کا دستور اور ایک بیوی ہوتے ہوئے دوسری شادی نہیں کرتے ہیں…… لیکن اس کے برعکس راجہ دسرتھ کی تین رانیاں تسلیم کی جاتی ہیں۔ مہا بھارت میں اکثر لوگوں کی کئی بیویاں بتائی گئی ہیں۔ سوتیا ڈاہ کی کہاوتیں بھی یہی بیان کرتی ہیں۔ ’’کاٹھ کی سوت بری ہوتی ہے‘‘ یا ’’مورا جیا نہ پتیاوی سوت کا پاؤں ہلتا جائے۔‘‘ بھوبن ہار ذات میں بیویوں تعداد مقرر نہیں، ہر شخص اپنی مرضی مطابق جتنی چاہے شادیاں کرے۔ 1871ء میں کلکتہ سے بھووداہ شایع ہوا۔ اس میں بتایا گیا کہ ایک موضع میں چار افراد ایسے ہیں جن کی بیویوں کی تعداد ۶۵، ۵۶، ۵۵، ۴۱ ہے۔ ایک شخص جس کی عمر صرف 20 سال ہے، اس کی 16 بیویاں تھیں۔ 1896ء میں جگندرو ناتھ بٹھیاچارجی نے لکھا ہے کہ اگلے زمانے اعلا درجہ کی کلیں (اعلا خاندان ) والے سو بیویاں رکھتے تھے…… اور اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جن کے پاس بہت سی بیویاں ہیں اور بیویوں کے نام، پتے اور رہایش کے لیے رجسٹر رکھا جاتا ہے۔
٭ پولندری بیاہ:۔ کایستھ کہتے کہ ایک عورت کا ایک شوہر ہونا چاہیے۔ ان میں کوئی عورت بدچلن ہو، تو اُسے اور اُس کے رشتے کو برادری والے فوراً ذات سے باہر کردیتے ہیں۔ بدچلن عورت کی دوبارہ شادی نہیں ہوسکتی…… اور نہ اس کے یا اس کے رشتہ داروں کے ساتھ کھانا کھاسکتا ہے۔ اِس کے برعکس ڈیرہ وون کی پہاڑی قوموں، پنجاب کے بعض قبایل اور جنوبی ہند میں ایک عورت کے کئی شوہر ہوتے ہیں اور یہ شادی ’’پولندری بیاہ‘‘ کہلاتی ہے۔
٭ طلاق:۔ راسخ العقیدہ ہندو طلاق کو جایز نہیں سمجھتے۔ اگرچہ اب اسے قانونی طور پر تسلیم کرلیا گیا ہے…… لیکن اس کے برعکس سادہ کی تمام کم تر ذاتیں جب چاہتی ہیں، اپنی بیویوں سے قطع تعلق کرلیتی ہیں۔ برودھ، جموں اور وسطِ ہند کی بعض قومیں ایک دوسرے سے جب چاہتی ہیں قطع تعلق کرلیتی ہیں۔ ہوشنگ آباد میں جادم راجپوت کی عورتیں اپنی زندگی میں دس شوہروں کی تبدیلی کا حق رکھتی ہیں۔ چھتیس گڑھ کی تمام اقوام اور آسام میں کھاسی قوم کی عورتیں جب چاہیں، شوہر کو تبدیل کرلیتی ہیں ۔
٭ بیوہ کی شادی:۔ راجپوتوں اور جاٹوں کی بہت سی ذاتیں مشترک ہیں۔ راجپوت بیواؤں کی شادی نہیں کرتے۔ جب کہ جاٹوں میں بیواؤں کی شادی کا رواج رہا ہے۔ اس طرح راجپوتوں اور جاٹوں میں فرق بیواؤں کی شادی کا ہے۔ راسخ العقیدہ ہندو بیوہ کی شادی کو جایز نہیں سمجھتے…… لیکن دیگر علاقوں میں جاٹوں کے علاوہ دوسری قومیں بیواؤں سے شادیاں کرتی ہیں ۔ مدراس کی بعض ذاتیں مثلاً وسط ہند کے بنجارے، مارواڑ کے راجپوت، پنجاب کے جاٹ کی پہاڑی قومیں، برودہ اور اوڑیسہ کی تمام ذاتیں بیواؤں کی شادی کرتی ہیں ۔
٭ نیوگ:۔ شوہر بیمار ہو یا کسی وجہ سے اولاد پیدا کرنے کے قابل نہ رہے یا وہ مرچکا ہو، تو وہ نیوگ کے ذریعہ اولاد پیدا کرسکتی ہے۔ نیوگ اور بیاہ میں فرق یہ ہے کہ بیاہ میں تعلق زندگی بھر رہتا ہے اور کبھی قطع نہیں ہوسکتا۔ مرد کو عورت کی کفالت اور عورت کو مرد کی خدمت کرنی پڑتی ہے…… لیکن نیوگ میں مرد اور عورت جنسی تعلق کے علاوہ کچھ اور سروکار نہیں رکھتے۔ یہ تقریباً شیعوں کے متعہ کی طرح ہے۔
ہندو ناٹکوں میں ایسی بہت سی کہانیاں ملتی ہیں، جن میں عورتوں نے لب دم یا موت سے پہلے شادی کی اور ان عورتوں نے نیوگ کے ذریعے پیدا کی اور وہ اولاد مرنے والے کہلائی اور اس اولاد نے اپنے باپ کو نرک سے بچایا۔ اس طرح کشمیر میں ٹھاکر قوم کی عورتیں اگرچہ دوبارہ شادی نہیں کرتیں…… لیکن اگر اولاد نہیں ہو، تو کسی شخص سے تعلق پیدا کرلیتی ہیں اور اس کے نقطہ سے جو اولاد پیدا ہوتی ہے…… اس کو مرے ہوئے شوہر کی قرار دیتی ہیں۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔