قارئین! معلوم نہیں سوات کے موجودہ حالات کو دیکھ کر مجھے ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق کا یہ مشہور فقرہ کیوں یاد آتا ہے…… جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’’جب اُلجھن پیدا ہوجائے اور اس کا حل مشکل ہو جائے، تو اُلجھن کو مزید مرکب یا ثقیل بناؤ۔‘‘
ایسا لگ رہا ہے کہ دہشت گردی اور طالبان پراجیکٹ کو نئی پٹڑی پر ڈالنے میں ان کے سرپرست کسی الجھن اور کشمکش کا شکار ہوگئے ہیں…… اس لیے آج کل یہ کھیل کھیلا جا رہا ہے۔
ان کے پچھلے کئی مہینوں سے جاری کرتوتوں کو دیکھ کر بندہ یہ قیاس کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ کیا اس دفعہ مقتدر حلقے دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کے نئے مرحلے کے اثرات، مضمرات اور نتایج زیادہ ہولناک سمجھتے ہیں جو ان کی طاقت کی بنیادیں بھی ہلا سکتے ہیں…… یا یہ اب تک سمت کا تعین نہیں کرسکے کہ کس ’’بلاک‘‘ کا ساتھ دیں اور کس کے خلاف صف میں کھڑے ہوجائیں…… یا پھر یہ انتظار ہے کہ کون سا فریق منھ مانگے معاوضہ دینے پر تیار ہوتا ہے، کیوں کہ پچھلے ایک سال سے اس بابت جو ہو رہاہے، وہ صرف الجھن اور بے دل شراکت داری کی عکاسی کر رہا ہے۔
سوات میں دہشت گردی کی تازہ لہر اور عمومی نفسیاتی مسایل:

سوات میں دہشت گردی کی تازہ لہر اور عمومی نفسیاتی مسایل


اول اول صوبائی اور وفاقی دونوں حکومتیں، سوات اور پختونخوا کے دیگر علاقوں میں طالبان کی موجودگی کو مسترد کر رہی تھیں۔ حتیٰ کہ کچھ ہفتے پہلے وفاقی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ اس معاملہ کو بلاوجہ ہوا دی جا رہی ہے…… لیکن اب وزیرِ دفاع کَہ رہے ہیں کہ سوات میں پھر سے وہ حالات بننے کے خدشات پیدا ہورہے ہیں، جب لوگ کہتے تھے کہ اَب اسلام آباد کچھ زیادہ دور نہیں۔ وزیرِ داخلہ نے چند سال بعد دوبارہ اُس قسم کے حالات کا پیدا ہونا تشویش ناک قرار دیا ہے۔
دوسری طرف صوبائی حکومت طالبان کی طرف سے لوگوں کو بھتا دینے کے لیے بھیجے گئے خطوط کے بارے میں بھی مختلف تاویلیں اور دلیلیں پیش کرتی رہی۔ حتیٰ کہ اس سال اگست کے مہینے میں طالبان نے ان کے تعاقب میں گئے ہوئے پولیس ڈی ایس پی کو زخمی کرکے فوج کے میجر سمیت اِغوا کیا اور بعد میں حکومت نے ان کو مقامی افراد پر مشتمل جرگے کے ذریعے چھڑوایا۔ اس کے بعد وی ڈسی کے چیئرمین برہ بانڈئی کے ادریس خان کو دھماکے سے اُڑایا گیا، لیکن ستم ظریفی دیکھے کہ اب تک صوبائی حکومت اس مسئلے پر لیپاپوتی کرتی رہی اور دو ٹوک موقف اپنانے سے گریزاں رہی ۔
صوبائی حکومت کے موجودہ ترجمان بیرسٹر سیف جو کسی زمانے میں جنرل مشرف کے مصاحبوں میں شمار ہوتے تھے، اور ان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد شاید ان کے اشارے پر ان کو ایم کیو ایم سے سنیٹر بنوائے گئے، آج کل موصوف اسٹیبلشمنٹ کے آنکھ کا تارا ہیں۔ حکومت جس کی بھی ہوم وہ بے روزگار نہیں ہوتے۔ اس لیے آج کل حقیقی آزادی کے متوالوں کی انقلابی حکومت کے ترجمان ہیں۔ کیوں نہیں ہوں گے، موصوف مستحق بھی تو ہیں۔ کیوں کہ وہ خود کَہ رہے ہیں کہ ’’مَیں سابق جہادی ہوں۔‘‘ ’’کامریڈز اِن آرمز‘‘ کی ذہنیت اور مسایل ان سے بہتر کون جان سکتا ہے!
سوات اولسی پاسون اور عوامی مزاحمت غیر متوقع اور انہونی نہیں: 

سوات اولسی پاسون اور عوامی مزاحمت غیر متوقع اور انہونی نہیں


بیرسٹر صاحب نے پہلے یہ عذر پیش کیا کہ طالبان یہاں کوئی جنگ یا دہشت گردی کی نیت سے نہیں آئے تھے، بلکہ ایک کمانڈر کچھ سماجی تقاضوں کی وجہ سے خاندان کے افراد سے ملنے آیا تھا۔ خیر، یہ رہنے دیں، اگر آپ ان کی پشاور اور سوات میں کی گئی پریس کانفرنسوں کو سنیں، تو آپ پر واضح ہوگا کہ ان کی اپنی باتوں میں کئی تضادات ہیں۔
اس سے تو پشاور کے وہ پرانے زمانے کے کوچوان یاد آتے ہیں جو لاری اڈے میں کچھ کہتے تھے اور ریل سٹیشن میں کچھ۔ موصوف ایک سانس میں کہتے ہیں کہ مذاکرات ضرور ہوئے ہیں، لیکن ڈیل کوئی نہیں ہوا۔ پہلے موصوف طالبان کی سوات میں موجودگی سے انکاری تھے، اَب کَہ رہے ہیں کہ ہم اُن کی قیادت سے اپیل اور درخواست کرتے ہیں کہ یہ اپنے لوگوں کو بلائے۔
پہلا سوال یہ اُٹھتا ہے کہ اگر ڈیل یا سمجھوتا نہیں ہوا تھا، تو یہ لوگ آئے کیسے؟ اس وقت ریاست اور اس کے ادارے گھاس چرنے گئے تھے؟
دوسری طرف کہتے ہیں کہ یہ جو سوات میں دہشت گردی کے چند واقعات ہوئے ہیں، یہ مذاکرات میں تعطل کی وجہ سے ہوئے ہیں…… یعنی جب مذاکرات میں تعطل آیا، تو طالبان نے دوبارہ اپنی سرگرمیاں شروع کردیں۔ پاکستان کی سرزمین پر دہشت گردی کرنے والوں کو پکڑ کر قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی بجائے حکومتی ترجمان ان کی واپسی کے لیے اپیلیں اور درخواستیں کرتے پھرتے ہیں۔
جرگہ یا سرکاری دربار:

جرگہ یا ’’سرکاری دربار‘‘؟


دوسری سانس میں موصوف کہتے ہیں کہ افغانستان میں ہمارے جو دس پندرہ ہزار لوگ تھے، ان کی واپسی کے لیے بھی کچھ کرنا چاہیے۔ بیرسٹر صاحب، پہلے تو آپ یہ بتائیں کہ دس پندرہ ہزار وہاں کیوں اور کیسے گئے؟ آج تک ہماری ریاست نے کبھی اتنی فکر مندی اُن شہریوں کے لیے بھی دکھائی ہے جو محنت مزدوری اور زرِ مبادلہ کمانے کے لیے بیرونِ ملک جاتے ہیں اور معمولی دستاویزی غلطی کی وجہ سے وہاں پھنس جاتے ہیں؟ کیا آپ کے ذکر شدہ مخصوص لوگ کوئی خاص مخلوق ہیں جو کسی خاص مشین کے ذریعے گئے یا بھیجے گئے تھے، جس کی فکر ریاست کو اتنی ستاتی ہے؟ کیا یہ لوگ اس سر زمین پر دہشت گردی میں ملوث نہیں تھے اور کیا اب سرینڈر ہو رہے ؟ اگر سرینڈر ہورہے ہیں، تو ہتھیار ڈالنے والوں کے ساتھ مذاکرات کرکے ان کی شرطیں نہیں مانی جاتیں، بلکہ دریا دلی سے ان کو معافی (غیر مشروط نہیں) دی جاتی ہے۔
اس کے باوجود وزیرِاعلا اپنے حلقۂ نیابت گبین جبہ میں ہیلی کاپٹر سے اُتر کر پہلے سے جمع کے گئے افراد سے کہتے ہیں کہ اتنے دور افتادہ علاقے میں کھڑے ہونے کا مطلب ہے کہ یہاں امن قایم ہے۔ حالاں کہ سوات کے عوام کے اُٹھنے سے پہلے وزیرِ اعلا کا اپنا بھائی سوات سے باہر تھا۔
دوسری طرف پی ٹی آئی کے رہنما مراد سعید کی باتیں سنیں، تو تضاد اور بھی گہرا ہوجاتا ہے۔ اگر سوات میں امن قایم ہے، تو پھر مراد سعید 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم کس کو اور کیوں دے رہا تھا؟ اس کے علاوہ بریگیڈئر محمد شاہ نے گذشتہ روز ایک یوٹیوب چینل پر انٹرویو میں کہا ہے کہ طالبان نہیں ہیں بلکہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں سیاست کر رہی ہیں۔ بریگیڈئر شاہ کی تعریف کی ضرورت نہیں۔ جاننے والے سب جانتے ہیں کہ وہ کس کا نمایندہ ہے؟
بائی پاس جعلی مقابلے میں قتل شدہ باپ اور بھائی کے لیے انصاف مانگتا وقاص:

میرے والد اور بھائی کے قاتلوں کے خلاف ایف آئی آر کاٹی جائے، وقاص


اب اس صورتِ حال سے عوام کے ذہنوں میں شکوک و شہبات کا جنم لینا اور ریاستی اداروں پر اعتماد ختم ہونا فطری عمل ہے۔ اب عوام فورسز کی دوبارہ تعیناتی کے لیے تیار ہیں نہ اپنے گلی کوچوں میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ہرکاروں کی موجودگی کے لیے۔ عوام اب پولیس کے علاوہ باقی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے انخلا کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اب عوام کا ایک نعرہ یہ بھی ہے: ’’اولس او پولیس پوھہ شہ اور ترھہ گر‘‘ یعنی عوام اور پولیس جانیں اور دہشت گرد۔
اب اس اندھیر نگری میں امید کی کرن صرف ’’سوات اولسی پاسون‘‘ کے نام سے عوامی بیداری ہے، جس نے وزیرِاعلا تک کو سوات کے دورے پر مجبور کیا اور پارلیمان کو بھی سوئی چبھوادی۔ 14 اکتوبر کو بیک وقت سوات چارباغ، شانگلہ اور بونیر میں امن کے لیے بڑے مظاہرے ہوئے۔ گذشتہ جمعہ کو سوات مدین اور بونیر سواڑی میں مظاہرے ہوئے جس میں حسبِ معمول عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ جمعہ 28 اکتوبر کو بریکوٹ سوات میں عوامی مظاہرے کا اعلان ہوا ہے۔ اب سوات اور دوسرے پختون خطوں میں امن کی ضمانت صرف سیاسی طور پر عوامی بیداری اور کسی اور کے انتظار کی بجائے اپنی جد وجہد جاری رکھنے میں ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔