سبحانی جوہر (جنھیں مرحوم لکھتے ہوئے بڑے دکھ کا احساس ہوتا ہے) ایک نہایت زندہ دل، خوش باش اور زندگی سے خوشیاں کشید کرنے والے انسان تھے۔ یار دوستوں کی محفل میں اپنی قابلیت اور غیرمعمولی ذہانت کی بہ دولت بہت نمایاں رہتے تھے۔ ہر موضوع پر بلاتھکان بولتے اور اپنا موقف اتنے مدلل انداز میں بیان کرتے کہ ان کی رائے کو رد کرنا مشکل ہو جاتا تھا۔
وہ اپنی شخصیت کا بہت خیال رکھتے اور شخصی جاذبیت اور خوش لباسی کے ساتھ ہمیشہ اپنے چہرے کو تروتازہ رکھتے۔ سال میں ایک بار اپنے یارِ دیرینہ تصدیق اقبال بابو کے ساتھ لاہور اور پنجاب کے دوسرے شہروں میں مقیم اپنے دوستوں کے پاس سیر و تفریح کے لیے جایا کرتے تھے۔
30 دسمبر 2020ء کو حسبِ روایت وہ اپنے دو دوستوں تصدیق اقبال بابو اور روح الامین نایاب کے ساتھ عازمِ لاہور ہوئے۔ تینوں وہاں اپنے ایک دوست کے مہمان خانے میں ٹھہر ے ہوئے تھے، لیکن بدقسمتی سے 31 دسمبر صبح کے وقت گیس لیکج کی وجہ سے وہاں آگ بھڑک اُٹھی اور اس حادثے میں دونوں جل کر شدید زخمی ہوئے۔ ہسپتال میں ان کا علاج جاری تھا، لیکن 6 جنوری 2021ء میں تصدیق اقبال بابو اور 8 جنوری کو سبحانی جوہر زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔ اس حادثے میں ان کے ساتھ موجود نایاب صاحب گرچہ جل زخمی تو ہوئے تھے، مگر معجزاتی طور پر زندہ بچ گئے۔
تصدیق اقبال بابو (مرحوم) ایک سرکاری اسکول میں ہیڈ ماسٹر تھے۔ اُنھیں اُردو زبان پر غیرمعمولی عبور حاصل تھا اور سوات کے ایک مقامی اخبار میں ادبی کالم لکھتے تھے۔ وہ بھی اپنے دوست کی طرح اس دنیائے رنگ و بو کی مسرتوں سے اپنا حصہ وصول کرنا چاہتے تھے، لیکن وہ اپنی زندگی کی محض چالیس بیالیس بہاریں ہی دیکھ سکے۔
سبحانی جوہر گورنمنٹ افضل خان پوسٹ گریجویٹ کالج مٹہ (سوات) میں انگریزی زبان و ادب کے اسسٹنٹ پروفیسر تھے۔ اپنی فلسفیانہ اور دانش ورانہ سوچ کی وجہ سے کالج کے اساتذہ اور اپنے شاگردوں میں کافی مقبول تھے۔ وہ بہ یک وقت اُردو، پشتو اور انگریزی زبانوں پر عبور رکھتے تھے اور جب ان میں سے کسی زبان میں لکھتے، تو یوں محسوس ہوتا جیسے یہی زبان ہی اُن کا اصل مضمون ہے۔ انگریزی زبان و ادب کے تو وہ استاد تھے، لیکن اُردو میں بھی جب قلم اُٹھاتے، تو اُن کے علمی و ادبی جوہر کھل کر سامنے آتے۔
زیرِ تبصرہ ناول "Miss Shufta” اُن کا لکھا ہوا ناول ہے جو حال ہی میں شایع ہوا۔ اس ناول کی کہانی دو محبت کرنے والے کرداروں ’’ڈینئیل‘‘ اور ’’شفتا‘‘ کے گرد گھومتی ہے۔ ناول کے مرکزی کردار ڈینئیل کا بچپن مذہبی ماحول میں گزرتا ہے۔ اس میں دینی مدارس کے مخصوص سخت ماحول کے بارے میں کئی گفتنی اور نا گفتنی باتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ ناول میں اُس علاقے کے رسم و رواج اور اُن حساس روایات کو کہانی کا حصہ بنایا گیا ہے جس میں عزت اور وقار جیسے عوامل کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ سبحانی جوہر خود بھی اسی طرح کے مذہبی ماحول میں پروان چڑھے تھے اور اُنھیں مذہب اور دینی مدارس کے بارے میں غیرمعمولی علم حاصل تھا۔ تاہم اس کے باوجود وہ بہت روشن خیال اور جدید علوم سے آشنا تھے ۔
ناول کا پلاٹ نہایت دلچسپ ہے، لیکن زبان و بیاں پر کلاسیکل اُسلوب غالب ہے، جس سے سبحانی جوہر کے وسیع اور وقیع مطالعہ کا اندازہ ہوتا ہے۔ درحقیقت یہ ڈینئیل اور شفتا کی محبت کی ایک الم ناک لیکن دلچسپ کہانی ہے۔
سبحانی جوہر کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ سوات جیسے ادبی مراکز سے دور علاقے میں اُنھوں نے پہلی دفعہ انگریزی میں ناول لکھا ہے اور اس میں شک نہیں کہ اُنھوں نے ناول کی فنی خوبیوں کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے زبان و بیان پر اپنی گرفت مضبوط رکھی ہے۔ جب بھی سوات کی ادبی تاریخ کا تذکرہ کیا جائے گا، انگریزی فکشن کے حوالے سے اُن کا نام ہمیشہ کے لیے یاد رکھا جائے گا۔
یہ دلچسپ ناول شعیب سنز پبلشرز اینڈ بک سیلرز مینگورہ (فون: 0946729448) نے اپنی روایت کے مطابق خوب صورت گٹ اَپ کے ساتھ شایع کیا ہے۔
اسے پشاور میں یونیورسٹی بک ایجنسی خیبر بازار، اسلام آباد میں سعید بک بینک جناح سپر مارکیٹ، لاہور میں المیزان پبلشرز اُردو بازار اور کراچی میں فضلی سنز اُردو بازار سے طلب کیا جاسکتا ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔