درولئی پُل پر ’’سیاست‘‘ بھونڈی حرکت ہے

پتا نہیں ہر بات کو ہمارے ’’درولئی‘‘ (بحرین، سوات) کے بھائی کیوں پارٹی سیاست کا شکار بناتے ہیں؟دراصل مَیں نے درولئی کے بڑوں سے 23 نومبر کو جرگے میں وعدہ کیا تھا کہ مَیں اس پل کے بارے میں اُن کو ایک ہفتے میں بتادوں گا۔ کیوں کہ جب مجھے پتا چلا کہ ’’ورلڈ بنک‘‘ […]
سیاسی بدہضمی

ہے نا مزے کی بات کہ حکومت اسلام آباد دھرنے میں لاشوں پر سیاست کرتے ہوئے ایک طرف لاشیں نہ گرانے کی بات کر رہی ہے، اور دوسری طرف اپوزیشن سیکڑوں لاشوں کی تعداد کو 14 تک محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ایک طرف سیاسی پارٹی کو گند، شرپسند اور فتنہ قرار دینے کی […]
آئرن لیڈیز

آج کی نشست میں ایک تبصرہ اُن دو خواتین پر کرنے کو جی چاہتا ہے، جو غیر ملکی ہیں۔ دونوں ہی اپنی دلیری، نظریاتی قوت اور اخلاقی برتری کی وجہ سے بین الاقوامی میڈیا کی ڈارلنگ بنی ہوئی ہیں۔ خاص کر سوشل میڈیا آج کل اُن کے بغیر نا مکمل ہے۔ اُن دو خواتین میں […]
اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سیاسی ڈائیلاگ چہ معنی دادرد؟

اگر پی ٹی آئی کے ورکرز جناب عمران خان کو ابھی تک انقلابی لیڈر سمجھتے ہیں، تو واقعی وہ بہت بھولے اور معصوم ہیں۔ عمران خان کی یہی سب سے بڑے خوش قسمتی ہے کہ اُن کے پارٹی ورکرز اُن سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ اتنی زیادہ کہ اُن کی یہ محبت اَب عقیدت […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (تیئس ویں قسط)

جب مَیں نے اپنی سوانح عمری لکھنی شروع کی، تو میرے اکثر قارئین نے اصرار کیا کہ مجھے کچھ نہیں چھپانا چاہیے، لیکن سوچتا ہوں کہ مَیں اپنی زندگی کے انتہائی تاریک گوشوں کے بارے میں، اپنی بری عادات اور اپنی ناکامیوں کی وجوہات کے بارے میں کیسے بات کروں، جب کہ میرے پاس بہترین […]
سیاسی رواداری وقت کی اہم ترین ضرورت

ہمارے ملک میں ہمارے اربابِ اختیار نے یقینا کچھ بہتر اور کچھ بہت بہتر کام کیے، لیکن اس کے ساتھ کچھ برے اور کچھ بہت ہی برے کام بھی کیے۔ برے کاموں میں سے جو بہت برا کام تھا، وہ ہے ’’سیاسی انارکی۔‘‘بے شک مذہبی شدت پسندی زیادہ خطرناک ہے، لیکن یہ بات قابلِ غور […]
فائنل کال کی ناکامی کی وجوہات

اگر کسی کے ذہن میں اب بھی یہ خیال موجود ہے کہ جناب علی امین گنڈاپور اور محترمہ بشریٰ بی بی نے اسلام آباد پر چڑھائی عمران خان کی رہائی کے لیے کی تھی، تو اُسے اپنے اس خیال یا یقین پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔علی امین گنڈا پور نے اسلام آباد پہنچنے کے […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (بائیس ویں قسط)

عین وقت پر سفید جیپ اپنے بونٹ پر ریاستی پرچم لہراتی ہوئی گراؤنڈ میں داخل ہوئی۔ مَیں نے ان کے لیے دروازہ کھولا۔ والی صاحب نے مجھ سے مصافحہ کیا، پھر حاکم اور آفرین خان سے مصافحہ کیا۔ دونوں نے گارڈ آف آنر کے بعد والی صاحب سے جرگے سے ملاقات کی درخواست کی۔آکسٹرا نے […]
سوات موٹر وے، سرتور فقیر اور چرچل پکٹ

اچھی اور صاف ستھری سڑکیں فاصلوں کو سمیٹ کر خوش گوار بنا دیتی ہیں۔ راولپنڈی سے مینگورہ شریف تک جانے کے لیے ویگن پر 7 سے 8 گھنٹے تک کا تھکا دینے والا سفر درکار ہوتا تھا۔ جو اَب سوات موٹر وے بننے سے سمٹ کر 4 گھنٹے تک محیط ہو کر رہ گیا ہے۔ […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (اکیس ویں قسط)

بعد میں ہونے والی پیش رفت سے یہ واضح ہوگیا کہ مجھے ریاستی دارالحکومت سے چکیسر جیسے دور دراز علاقے میں کیوں بھیجا گیا تھا؟ اُسی وقت ایک اور انتہائی قابل ڈرافٹس مین کو بھی الپورئی میں تعینات کیا گیا۔ اُس کا نام عبدالرشید تھا۔ اُسے اگلے احکامات تک وہیں رہنے کی ہدایت دی گئی۔زیرِ […]
حضرت موسیٰ اور حضرت شعیبؑ کے واقعے پر ایک نظر

حضرت موسیٰ علیہ السلام جب خوف کے عالم میں مدین کی طرف نکلے، کچھ وقت بعد جب مدین کے قریب پہنچے، تو دیکھا کہ ایک کنویں کے پاس کچھ چرواہے جمع ہیں، جو اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں۔ دو لڑکیاں اپنے جانور لیے الگ سے انتظار میں کھڑی ہیں۔وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ […]
مسکرائیے…… آپ مردان میں ہیں!

مردان میری جانمیرے ڈھول سانورےپہ خیر راغلے، پہ خیر راغلےمردان خوش دِل، خوش حال و خوش جمال لوگوں کا شہر ہے۔ آپ چاہے کتنے تھکے ماندے، پریشان حال اور دل گرفتہ ہوں، مردان کے ماتھے کا جھومر اوور ہیڈ پر لگا اشتہار ’’مسکرائیے…… آپ مردان میں ہیں!‘‘ایک بار تو آپ کو مسکرانے پر مجبور کر […]
دادرستان کا المیہ

کسی زمانے میں داردی رسوم و ثقافت اور جغرافیائی حدبندیوں کی وجہ سے معروف داردستان جہاں لسانی و نسلی طور پر متنوع رہا ہے، وہی پہ یہ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے بیچ نقلِ مکانی کرنے کی ایک بڑی راہ داری بھی ہوا کرتا تھا۔ اس خطے پر تین بڑے خطوں ایرانی، ہندی اور […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (بیس ویں قسط)

لیکن مَیں نے اس کی بالکل پروا نہیں کی۔ مجھے والی صاحب کے الفاظ یاد تھے۔ انھوں نے یقین دہانی کی تھی کہ اگر مجھے کوئی مسئلہ درپیش ہو، تو میں ذاتی طور پر ان کے پاس جا سکتا ہوں۔ پہلے چار پانچ مہینے جیسے ایک دن کی طرح گزر گئے۔ ہم نے ریاست کے […]
چمپئنز ٹرافی: سیاست اور تنازع
کبھی خواب نہ دیکھنا (سترھویں قسط)
افغانستان، پوست کی کاشت کی بہ حالی
ٹرمپ کی جیت کیسے ممکن ہوئی؟
اسموگ اور ’’چینی ایئر کوالٹی ایکشن پلان‘‘

مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کییہ مصرع مجھے حکومتی پالیسوں کے بعد یاد آیا۔ کیوں کہ پنجاب میں سموگ سے بچاو کے لیے سکول بند، کالج بند، پارکس بند، دفاتر آدھے بند اور اب لوگوں کے گلے بھی بند ہونا شروع ہوگئے ہیں۔پاکستان میں اسموگ اتنی زیادہ ہوگئی ہے کہ خلا سے بھی نظر […]
ججوں کا مراعات میں اضافہ ہدفِ تنقید
چیٹ جی پی ٹی اور اقلیتی زبانوں کا مستقبل