اُردو فکشن کے دیوتا، شوکت صدیقی

کامریڈ تنویر احمد خان (لاہور) نے مجھے شوکت صدیقی سے متعارف کرایا۔ اُن کے گھر کا پتا دیا اور لینڈ لائن فون نمبر بھی۔ شوکت صدیقی صاحب سے خط و کتابت شروع ہوگئی اور کبھی کبھار فون پر بھی بات ہونے لگی۔ بہت ملن سار، سنجیدہ، دبنگ اور انسان دوست شخصیت تھے۔ اُن کی تحریروں […]

لیو ٹالسٹائی کا ناول ’’جنگ اور امن‘‘ (تبصرہ)

تبصرہ: کاشف منظور  ’’وار اینڈ پیس‘‘ (War and Peace) یا ’’جنگ اور امن‘‘ کو عالمی ادب کا غیر معمولی شاہکار سمجھا جاتا ہے۔ یہ عظیم و ضخیم ناول پڑھنا ہی عام قارئین کے لیے ایک کارنامے سے کم نہیں۔ اپنے کلاسرا صاحب اسے کالج کی سمری بریک میں پڑھتے اور ہم عصر طلبہ اور اساتذہ […]

خلیل جبران کا ترجمہ شدہ افسانہ ’’جل پریاں‘‘

ترجمہ: محمد اسماعیل ازہری لکھنوی سورج نکلنے سے ذرا پہلے، جزیروں سے گھرے سمندر کی تہ ہے، جس میں رنگا رنگ موتی بکھرے پڑے ہیں۔ ان موتیوں کے قریب بے یارو مددگار ایک نوجوان لاش پڑی ہے۔ اُس لاش کے قریب سنہرے بالوں والی ایک جل پری ہے، جو اپنی سہیلیوں کے جھرمٹ میں بیٹھی […]

کون سا اقبالؔ…… سرکاری، مذہبی یا لبرل؟

علامہ محمد اقبال کو پاکستان کے دونوں طبقات (مذہبی اور لبرل) کے نمایندے ان کے دس پندرہ اشعار یاد کرکے اُن کی بنیاد پر ’’کٹر ملا‘‘ قرار دیتے ہیں۔ جہاں مذہبی طبقہ اس ’’سرکاری اقبال‘‘ کو اُن چند اشعار کی اپنے سیاق و سباق میں رکھ کر تشریح کرکے کٹر مذہبی قرار دیتا ہے، تو […]

میلان کنڈیرا (Milan Kundera)

تحقیق و تحریر: نجم الدین احمد  میلان کنڈیرا (Milan Kundera) جمہوریہ چیک (Czech Republic) کا نہایت معروف ادیب تھا، جو 1975ء سے فرانس میں ہجرت کی زندگی بسر کر رہا تھا۔ اُسے 1981ء میں فرانس کی باقاعدہ شہریت مل چکی تھی۔ وہ اپنے آپ کو فرانسیسی مصنّف سمجھتا تھا اور اصرار کرتا تھا کہ اُس […]

ظفر اللہ پوشنی کی یاد میں

پیدایش:۔ 05 مئی 1926ء انتقال:۔ 08 اکتوبر 2021ء ظفر اللہ پوشنی صاحب سے رابطہ یعنی پہلا تعارف اُن کی کتاب ’’زندگی زِنداں دلی کا نام ہے‘‘ ہی کے توسط سے ہوا۔ وہ کراچی میں ایڈورٹائزنگ ایجنسی مین ہٹن میں "Creative Director” تھے۔ وہ "Copy Waiter” سے ترقی کرتے کرتے یہاں تک پہنچے تھے۔ بہت سادہ […]

12 جولائی، آغا ناصر کا یومِ انتقال

وکی پیڈیا کے مطابق آغا ناصر (Agha Nasir)، پاکستان کے مشہور براڈ کاسٹر، مصنف اور ہدایت کار، 12 جولائی 2016ء کو اسلام آباد میں انتقال کرگئے۔ 9 فروری 1937ء میں میرٹھ کے قصبے فریدنگر میں پیدا ہوئے۔ بی اے کا امتحان سندھ مسلم کالج پاس کیا اور تاریخ میں ایم اے کی ڈگری جامعۂ کراچی […]

ڈاکٹر معین قریشی (مرحوم)

پیدایش:۔ 15 ستمبر 1942ء انتقال:۔ 20 ستمبر 2021ء ڈاکٹر معین قریشی صاحب سے غائبانہ تعارف تو بہت پُرانا تھا لیکن بالمشافہ ملاقات دسمبر 2019ء میں ہوئی۔ اُنھیں اپنا گھر سمجھانے اور ہمیں سمجھنے میں خاصی دیر لگی۔ خیر، پہنچ ہی گئے ۔ گھر پر ’’سکندر ہاؤس‘‘ کی بارعب تختی لگی ہوئی تھی۔ ظاہر ہے سکندر […]

محشر لکھنویؔ کی یاد میں

آہ، محشر لکھنویؔ صاحب بھی کوچ کرگئے۔ اُستاد محشر لکھنوی کا اصل نام سید محسن رضا نقوی تھا۔ وہ بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے۔ لکھنو سے تعلق تھا۔ اُن کو محشر لکھنوی کے تخلص اختیار کرنے کا مشورہ آغا شورش کاشمیری نے دیا تھا۔ اُس سے پہلے شبنم لکھنوی تخلص کیا کرتے تھے۔ […]

کتابِ میرداد (تبصرہ)

تبصرہ نگار: ارسلان قادر  ایک دن اُوشو سے کسی نے پوچھا کہ کون سی کتاب پڑھنی چاہیے، تو اُوشو کہنے لگے: ’’دیکھیے لوگوں کے گھروں میں لائبریری ہوتی ہے، جب کہ میرا گھر ہی لائبریری تھا، جہاں مَیں رہتا رہا۔ سب کتابیں پڑھ لیں، مگر مَیں آپ کو صرف ایک کتاب پڑھنے کا مشورہ دوں […]

زی لائبریری کی بازیابی

’’زی لائبریری‘‘ (Z-Library) الیکٹرانک کتب کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ہے۔ یہاں سے آپ 24 گھنٹوں میں 10 کتب مفت ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں اور اس سے زیادہ کتب کے لیے رُکنیت خریدنی پڑتی ہے۔ یہ لائبریری بہت عرصے سے بند تھی، کیوں کہ کاپی رائٹس کی خلاف ورزی کی وجہ سے اس کے […]

فنِ ترجمہ نگاری

تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد زوہیب حنیف  ترجمہ ایک ایسا فن ہے جس کے ذریعے سے کسی قوم کی تاریخ، رسم و رواج، اُس کی ثقافت، اندازِ بیاں، اُس قوم کی زباں میں ادا کیے گئے محاورات و ضرب الامثال اور تشبیہات و استعارات کے بارے میں علم ہوتا ہے۔ کہا یہ جاتا ہے کہ […]

کیا پیسا خوشی دیتا ہے؟

ہاں، بالکل خوشی دیتا ہے…… لیکن یہ ’’ہاں‘‘ اتنا سادہ اور آسان نہیں۔ اس ہاں میں کچھ پیچیدگیاں ہیں۔ پیسا کیسے خوشی دیتا ہے……؟ یہ سوال آپ کو اس ہاں کے پسِ پشت پیچیدگیوں میں لے کر جائے گا۔ اکثر لوگوں کا ماننا ہے کہ پیسا ہی اِس دنیا میں بد امنی کی وجہ ہے […]

کانچ کا زِنداں (تبصرہ)

تبصرہ نگار: رومانیہ نور گئے برس اوائلِ دسمبر کی ایک کہر آلود شام تھی، جب ڈاکٹر صہبا جمال شاذلی صاحبہ کی ترجمہ کردہ کتاب ’’کانچ کا زِنداں‘‘ موصول ہوئی۔ مَیں جو ’’میگرین‘‘ اور ’’وِژن لاس‘‘ کے ٹراما میں انتہائی بے زار اور مشکل وقت کاٹ رہی تھی…… ڈاکٹر صاحبہ سے معذرت چاہی کہ جوں ہی […]

امجداسلام امجدؔ اور عربی شاعری کے تراجم

تحقیق و تحریر: محمد افتخار شفیع امجد اسلام امجدؔ نے شاعری، ڈراما نگاری اور کالم نویسی کے میدان میں شہرت حاصل کی، لیکن عام طورپرایک مترجم کے طور پر اُن کے اوصاف نمایاں نہ ہوسکے۔ امجد اسلام امجدؔ شعرا کی اُس محدود تعداد میں شامل ہیں جنھوں نے محمد کاظم کی معاونت سے براہِ راست […]

احساسِ حق داریت

مجھے ایک ’’ای میل‘‘ موصول ہوئی جس میں لکھنے والے نے ایک خاتون کا رویہ بیان کیا اور مجھ سے پوچھنا چاہا کہ آخر یہ رویہ کیا ہے اور وہ ایسا کیوں کررہی ہیں؟ ویسے کسی کا بھی رویہ ہوبہو معلوم کرنا وہ بھی بِنا اُس انسان سے بات کیے، ممکن نہیں…… البتہ کچھ رویے […]

دانت درد جیسے لوگ (عربی ادب سے ترجمہ شدہ نثر پارہ)

ترجمہ: توقیر احمد بُھملہ جب آپ کے کسی دانت میں ناقابلِ برداشت درد شروع ہوجاتا ہے۔ علاج کے باوجود راحت نہیں ملتی، تو صبر اور برداشت کی حد کو توڑتی درد کی ٹیسیں، آپ کی سوچ کو صرف ایک نقطے پر لا پھینکتی ہیں۔ اور وہ سوچ، اذیت دینے والے اس دانت کو نکالنے کی […]

کتاب ’’فکری روایات‘‘ کا اجمالی جائزہ

اردو یا پشتو میں کسی کتاب کا مطالعہ کروں…… اور صرف کیے گئے وقت کو بامعنی پاؤں، تو دوہری خوشی ہوتی ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب کو پڑھنے کے بعد بھی کچھ ایسے ہی احساسات ہیں۔ مصنف جمشید اقبال نے صرف کسی کتاب پر اپنا نام کندہ کرنے اور مصنف کہلائے جانے کے چکر میں اُردو […]

علمیات (Epistemology)

تحریر: میثم عباس علیزی ’’علمیات‘‘ (Epistemology) فلسفہ کی ایک شاخ ہے، جس میں علم کے بارے میں بحث ہوتی ہے لیکن کس طرح……؟ اس کو سمجھنے کے لیے ہم سوالات کے ذریعے سمجھتے ہیں کہ ’’علمیات‘‘ کا تعلق کن سوالات سے ہوتا ہے۔ جیسے : ٭ علم بذاتِ خود کیا ہے، یعنی خود علم کی […]

ضرب المثل شعر جس کا مصرعِ ثانی غلط لکھا اور پڑھا جاتا ہے

پرسوں ماہ نامہ اُردو ڈائجسٹ (مئی 2023ء) کو پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ صفحہ نمبر 173 پر ’’دوانہ مرگیا‘‘ کے زیرِ عنوان درج تھا: ’’راجا رام نرائن موزوںؔ زیادہ تر فارسی میں شعر کہتے تھے۔ شیخ علی حزیںؔ اُن کے استاد تھے۔ نواب سراج الدولہ کے دامنِ دولت سے وابستہ رہے۔ ایک الزام میں ملزم قرار […]

’’ایک فکشن نگار کا سفر‘‘ (تبصرہ)

ترجمہ: رضوان الدین فاروقی  ضیا فاروقی کا شمار اُردو اَدب کے اُن قلم کاروں میں ہوتا ہے، جن کی پشت پر تقریباً نصف صدی کے تجربات کے نقوش کو آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔ جہاں تک اُن کے ادبی سروکار کا معاملہ ہے، تو یہ اُردو زبان و ادب کے اُن شہ سواروں میں […]