فرد نہیں، نظام
بلاول بھٹو پھر ناراض ہوگئے
26ویں آئینی ترمیم کے بعد……!
کیا پارلیمان آزاد ہوگیا؟
26ویں آئینی ترمیم کا بنیادی مقصد
جمہور کی فتح

پاکستان کا شمار ان چند بدقسمت ریاستوں میں کیا جاسکتا ہے, جو اپنے وجود میں آنے کے بعد ہی سے محلاتی سازشوں کا شکار رہی۔ سول اور خاکی بیوروکریسی کے ساتھ ساتھ منصفوں نے ریاست کی بربادی میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ پاکستان کی حقیقی سیاسی لیڈر شپ کو منظرِ ِعام سے ہٹانے کے لیے […]
’’منفی پراپیگنڈے‘‘ کا حل کیا ہے؟
ملک میں غیر یقینی صورتِ حال کا ذمے دار کون؟

ملک اس وقت انتہائی غیر یقینی صورتِ حال سے گزر ہا ہے۔ کل کیا ہو جائے گا کسی کو کوئی علم نہیں۔ افواہوں کا بازار گرم ہے اور ہر کوئی اپنی راگنی گا رہا ہے۔ انتخابی دھاندلی سے مسلط شدہ حکومت کے بس کی بات نہیں کہ وہ ملکی معاملات کو احسن انداز میں چلائے۔ […]
علی امین گنڈاپور کی روپوشی و رونمائی بارے چند چبھتے سوالات

علی امین گنڈاپور اپنے لاؤ لشکر اور سرکاری وسائل کے ساتھ جوں جوں اسلام آباد کی طرف بڑھ رہے تھے، پی ٹی آئی کے ورکروں کا جوش اُس سے دُگنی رفتار سے آسمانوں کی طرف محوِ پرواز تھا۔ وہ راستے بھر جوشیلا خطاب کرتے ہوئے ورکروں میں ایک ولولۂ تازہ بھی پیدا کرتے چلے آ […]
آرٹیکل 63 اے: کیا مولانا کی گاڑی چھوٹ گئی؟

سپریم کورٹ کے پنج رُکنی بنچ نے متفقہ طور پر مئی 2022ء میں دیا جانے والا آرٹیکل ’’63 اے‘‘ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے، جب حکومت پارلیمنٹ میں آئینی ترامیم کا بِل پیش کرنے جا رہی ہے۔ دو ہفتے قبل اس مقصد کے لیے قومی […]
نئی آئینی عدالت کے قیام کا اصل مقصد

آج کل آئینی ترمیم کا بڑا زور و شور ہے۔ اسے منظور کروانے کے لیے بڑے جتن ہو رہے ہیں، لیکن قانونی ماہرین اور وکلا نے اس ترمیم کو ذاتی مفادات کا شاخ سانہ قرار دے کر رد کر دیا ہے۔ ایک ملک گیر تحریک اس آئینی ترمیم کے بطن سے جنم لے رہی ہے، […]
کیا تمام سیاسی پارٹیوں کا عملی منشور ایک جیسا ہے؟

جمہوریت اور سیاسی پارٹیاں لازم و ملزوم ہیں۔ کم از کم ایسا سمجھا جاتا آیا ہے، لیکن ایک عام آدمی کیا یہ سوال کر سکتا ہے یا اس نقطے کو زیرِ بحث لایا جاسکتا ہے کہ کیا جمہوریت میں سیاسی جماعتوں کا وجود ناگزیر ہے؟ جواب کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ بحث بہت طویل اور پیچیدہ […]
مولانا فضل الرحمان: پکا سیاسی کھلاڑی

قومی اسمبلی اور سینٹ میں آئینی ترمیمی بل پیش نہ کیا جاسکا اور سینٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہوگئے۔ اکیلے مولانا فضل الرحمان نے حکومت اور مقتدرہ کو شکست دے کر اقتدار کے لیے لیٹ جانے والی بڑی سیاسی پارٹیوں کو قومی غیرت کا بہترین سبق دیا ہے۔ […]
عوامی نیشنل پارٹی زوال کا شکار کیوں؟

اسفندیار ولی خان کے سپوت اور راہ برِ تحریک خان عبد الولی خان کے نواسے ایمل ولی خان جب سے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ بنے ہیں، تب سے گاہے گاہے اُن پر تنقید ہوتی رہتی ہے۔ تنقید کی وجہ اُن کے متنازع بیانات ہیں۔ وہ ہمیشہ کچھ نہ کچھ ایسا کہتے رہتے ہیں جس […]
میثاقِ پارلیمنٹ: سیاسی حبس میں تازہ ہوا کا جھونکا

بھلا ہو علی امین گنڈا پور کا جنھوں نے اپنے سیاسی مستقبل کے لیے کنواں کھود کر جمہوری قوتوں کو یک جا کر دیا۔ سیاست دانوں کو بھی اپنی عزتِ نفس کا خیال آیا اور لیڈرشپ کے ہاتھوں چابی بھرے کھلونوں یا کٹھ پتلیوں کی طرح پارلیمنٹ میں رقص کرنے کی بہ جائے انھیں اپنے […]
عمران خان اپنا دشمن آپ ہے

مسندِ اقتدار پر براجمان ہونا سیاسی قیادت کی منزلِ مقصود قرار پاتی ہے اور اسی خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے سیاست دان اَن تھک محنت میں مسلسل مصروفِ عمل رہتا ہے۔ سیاست کے میدان کارساز میں اُس کا سامنا اپنے سے چھوٹے بڑے حریف سے ہوتا ہے۔ منزلِ مقصود تک رسائی کے لیے […]
ریاست ممکنہ بغاوت کا راستہ روکنا چاہے گی؟

اس وقت ہمارے ملک میں ایک نظام قائم ہے، جس کو ’’جمہوریت‘‘ کہا جاتا ہے۔ جمہوریت کی ابتدا مغرب سے ہوئی۔ سال ہا سال آپس کی لڑائیوں نے اہلِ مغرب کو ایک نیا نظام بنانے پر مجبور کیا۔ لہٰذا بادشاہتوں کا خاتمہ ہوا۔ کچھ بادشاہوں کو البتہ فقط نمایشی طور پر زندہ رکھا گیا، جیسا […]
پاکستانی طلبہ سیاست کا تنقیدی جائزہ

بنگلہ دیش میں طلبہ احتجاج کے بعد پاکستان میں بھی ڈھیر سارے سیاسی لوگ طلبہ کو جوش دلا رہے ہیں کہ وہ باہر نکلیں اور ملک میں تبدیلی کے لیے جدوجہد کریں۔ طلبہ کو وہ لوگ اُکسا رہے ہیں جو خود سیاسی میدان میں ڈنڈے سوٹے کھا کر اب احتجاج کی سیاست کو ترک کرکے […]
تحریکِ انصاف کی روپوش لیڈر شپ کا کڑا امتحان

بانیِ پی ٹی آئی عمران خان نے اپنے روپوش پارٹی راہ نماؤں کو ہدایت کی ہے کہ وہ روپوشی ختم کرکے باہر نکلیں اور گرفتاری دیں۔ اڈیالہ جیل میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ مَیں خود جیل میں قید ہوں، تو باقی راہ نماؤں کو بھی ڈر چھوڑ کر سا منے […]
پی ٹی آئی سے مستعفی صوبائی وزیر شکیل خان کا باغیانہ پن

شکیل خان ضلع ملاکنڈ کے اُن چند گنے چُنے سیاست دانوں میں شامل ہیں، جنھوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز گراس روٹ لیول سے کیا ہے۔ اُنھوں نے 1998ء میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور اس سال بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ڈھیری جولگرام یونین کونسل میں جنرل کونسلر […]
شعور، لاشعور اور بدلتے سیاسی بیانیے

کامیاب سیاستدان ماہرِ نفسیات بھی ہوتا ہے۔ وہ اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے لوگوں کی نفسیات سے کھیلتا ہے۔ ان کے شعور کو اپنی طرف مائل کرتا ہے اور ان کے دماغوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے۔ شعور، لاشعور اور تحت الشعور انسانی دماغ کے تین افعال ہیں۔ شعور ظاہری اور لاشعور […]