ریاست ماں ہے، مگر سگی یا سوتیلی؟

ریاست ماں کے جیسی ہوتی ہے…… مگر جیسے یہ بتانا ضروری ہوتا ہے کہ کون سے بھائی ہو…… ہابیل یا قابیل؟ ٹھیک اسی طرح ریاست کو ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ کون سی ماں ہے…… ’’سگی‘‘ یا ’’سوتیلی‘‘؟ یادش بہ خیر، میاں محمد نواز شریف کی مرکز میں حکومت تھی اور پی ٹی آئی […]
ضلع اَپر سوات کے قیام کی بہ جائے تحصیلِ بحرین کی تقسیم؟

باوثوق ذرائع کی خبر تو نہیں، تاہم افواہ ضرور ہے اور اس پر یقین اس لیے آتا ہے کہ گذشتہ بلدیاتی انتخابات کے وقت ایسے مشورے انفرادی سطح پر بااثر افراد سے کیے گئے تھے کہ موجودہ تحصیل بحرین کو دو تحصیلوں میں تقسیم کیا جائے۔ شاید اب بھی کہیں بلدیاتی الیکشن قریب ہیں، اس […]
روسی خبر رساں ایجنسی کا والئی سوات بارے بیان

’’تصویر میں نظر آنے والا شخص20 ویں صدی کا طاقت ور ترین حکم ران تھا۔‘‘ یہ روسی خبر رساں ایجنسی ’’تاس‘‘ کا تبصرہ ہے، جو اُس نے 28 جولائی 1969ء کو ریاست کے ادغام پر کیا تھا۔ ایک ایسا حکم ران (میاں گل عبدالحق جہانزیب) جس سے کوئی بھی شخص دفتری اوقات میں مل سکتا […]
سرکاری ملازمین اور پنشنرز کا استحصال

اطلاعات ہیں کہ مالی خسارے کے باعث نئے مالی سال 2024، 25ء کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ نہ کرنے پر غور شروع کر دیا گیا ہے، تاہم شدید مجبوری کے عالم میں 5 تا 10 فی صد اضافے پر غور کیا جاسکتا ہے۔ وجہ یہ بتائی جا رہی ہے […]
محمد کاظم، ادب کا چھپا رُستم

تحریر: اسلم ملک انجینئرنگ کے ایک طالب علم نے اپنے طور پر عربی پڑھی اور اتنی مہارت حاصل کرلی کہ مولانا مودودی کی چھے کتابوں کا ترجمہ کر ڈالا۔ ’’تفہیم القرآن‘‘ کے ترجمے کی بات چلی، تو عربوں تک نے اصرار کیا کہ ترجمہ ’’محمد کاظم‘‘ ہی سے کرائیں۔ محمد کاظم نے مڈل کلاسوں میں […]
مور پنڈیٔ کاکا (مدین) کی یاد میں

عبد الرحیم میاں، جنھیں عام طور پر مور پنڈیٔ کاکا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اخوند خیل میاں گان کے چشم و چراغ تھے۔ اُن کی پیدایش 1872ء کے آس پاس تیرات مدین سوات میں ہوئی اور 1949 عیسوی بہ مقام مور پنڈیٔ (مدین) میں ہوئی۔ عبد الرحیم کاکا کے والدِ بزرگوار کا […]
سوات، 1965-66ء کے خوف ناک زلزلے

غالباً 1965ء یا 66ء کا سال تھا۔ موسمِ سرما کے دن تھے۔ہم افسر آباد کی پرانی حویلیوں میں سے ایک میں مقیم تھے کہ اچانک بغیر کسی وارننگ کے زلزلے شروع ہوگئے۔ یہ زلزلے کئی دن تک مسلسل جاری رہے۔ دن رات لوگ کمروں کے اندر جانے سے ڈرتے تھے۔ رات کو کھلے صحن میں […]
اہلِ حاجی بابا سیرئی کا ڈی پی اُو سوات کے نام کھلا خط

محترم ڈاکٹر زاہد اللہ خان ڈی پی اُو سوات، السلام علیکم! اُمید ہے آپ بہ خیر و عافیت ہوں گے۔ سرِ دست ہم اہلِ حاجی بابا سیرئی آپ کو سوات میں چارج سنبھالنے پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ اس کے بعد آپ کی توجہ اپنے محلے اور علاقے کو درپیش چند مسائل کی طرف مذکورہ […]
پشتو فلموں میں فحاشی و عریانی کیسے در آئی؟

مشہور قول ہے کہ اگر برائی نہ ہوتی، تو اچھائی کا اندازہ کیسے ہوتا……! اچھائی اور برائی معاشرے کا حصہ ہیں۔ اس طرح پشتو فلموں میں بھی وقت کے ساتھ ایسے لوگ آئے، جن کا مقصد پشتون تہذیب و ثقافت کی فروغ کی بجائے مال بنانا تھا۔ پیسے کے لالچ میں وہ اس قدر اندھے […]
ہماری دھرتی، نام اور تقسیم

موجودہ بحرین کے جنوب میں اوپر پہاڑی پر ایک گاؤں ہے اور اب بھی کافی حد تک قدیم داردی گاؤں کی صورت میں موجود ہے۔ اُس کو توروالی میں ’’پُران گام‘‘، پشتو میں ترجمہ کرکے ’’زوڑ کلے‘‘ اور اُردو میں ’’پرانا گاؤں‘‘ کہتے ہیں۔ ’’پُران گام‘‘ کے نام سے اس گاؤں کا ہونا اس بات […]
ایران اسرائیل تنازع، اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

چند دِن قبل اسرائیل نے دمشق (شام) میں ایرانی سفارت خانے کو نشانہ بناکر ایک ایرانی اعلا فوجی عہدے دار کو مار دیا۔ اسرائیل کا یہ حملہ اگرچہ تمام عالمی قوانین کی خلاف ورزی تو تھا ہی، لیکن ساتھ میں کھلے عام بدمعاشی کی بدترین مثال بھی تھا…… جس نے ایران کو ایک ایسے دوراہے […]
جعلی ادویہ اور ہم

تقریباً تین ہفتے قبل ایف آئی نے کوئٹہ میں کریک ڈاؤن کرتے ہوئے بڑی مقدار میں جعلی ادویہ برآمد کی تھیں۔ یہ کامیاب کارروائی ایک خفیہ اطلاع پر عمل میں لائی گئی تھی، جس کے دوران میں ایک بڑے سٹور پر چھاپے کے دوران میں ایک سو سے زاید اقسام کی جعلی ادویہ پکڑی گئیں۔ […]
فلسفہ کی تاریخ (اٹھائیس واں لیکچر)

تحریر و ترتیب: میثم عباس علیزئی (’’فلسفہ کی تاریخ‘‘ دراصل ڈاکٹر کامریڈ تیمور رحمان کے مختلف لیکچروں کا ترجمہ ہے۔ یہ اس سلسلے کا اٹھائیس واں لیکچر ہے، مدیر) ٭ غار کی تمثیل (Allegory of the cave):۔ افلاطون نے اپنی علمیاتی نظریے یا معرفت شناسی (Epistemology) کو آسانی سے سمجھانے کے لیے ایک تمثیلی مثال […]
سونے کا بنا دنیا کا پہلا ہوٹل

سماجی رابطے کی مشہور ویب سائٹ ’’فیس بُک‘‘ پر متحرک صفحے "Factz Verse” کے مطابق تصویر میں دکھائی دینے والا یہ شان دار ہوٹل ویت نام میں قائم ہے جسے ’’سونے کا بنا دنیا کا پہلا ہوٹل‘‘ مانا جاتا ہے۔ اس ہوٹل کے نہ صرف گیٹ بلکہ ٹوائلٹ، نشستیں، دیواریں، کمرے حتی کہ چائے پینے […]
واپڈا سے جلد جان چھوٹنے والی ہے

میرے سامنے اس وقت تازہ ترین بجلی کا بِل پڑا ہے، جس کے مطابق گذشتہ ماہ میں کُل 28 صرف شدہ یونٹ کی بجلی کی قیمت فی یونٹ 37.50 روپے کے حساب سے 1057 روپے درج کی گئی ہے، جب کہ ٹیکس وغیرہ اور ’’فیول ایڈجسٹمنٹ‘‘ کی مد میں رقم شامل کرنے کے بعد بل […]
اندھیری رات کے آنسو

معاشرے میں پھیلے بگاڑ، خرابیوں اور مسائل کے حل کے لیے ہم انفرادی طور پر کچھ نہیں کرسکتے…… لیکن ہم کم از کم اپنی اصلاح کرسکتے ہیں۔ اپنی خرابیوں کو ٹھیک کرسکتے ہیں۔اپنی زندگی کو شریعت کے مطابق ڈھالتے ہوئے، ریاستی قوانین کا احترام کرتے ہوئے، اپنی شخصیت کو بہترین اخلاق کا نمونہ بناتے ہوئے […]
شہید بشیر احمد بلور کی یاد میں

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہوگئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں غالبؔ اس شعر میں یہی یاد دلاتے ہیں کہ دنیا آباد ہونے سے اَب تک نہ جانے کتنے نازنیں پیوندِ خاک ہوئے، لیکن دلوں میں یاد کے چراغ تو خال خال ہی کے روشن ہیں۔ غالبؔ سے […]
محمد سلیم الرحمان کا ادبی مقام

’’سویر‘‘ سے سلیم صاحب کے تعلق کا آغاز شمارہ نمبر 23 سے ہوا۔ اس میں تیرھویں صدی عیسوی کی دو فرانسیسی کہانیوں ’’نکولیت اور اوکاسن کی کہانی‘‘ اور ’’دو دوستوں کی کہانی‘‘ کا سلیم صاحب کے قلم سے ترجمہ شامل تھا۔ ان کہانیوں کے بارے میں والٹر پیٹر کے مضمون کا ترجمہ اور ’’سورج کے […]
خواب اور لاشعور

ہم جو بھی کام کرتے ہیں، ہمارے ذہن کی ظاہری سطح پر اُس کی گرفت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر جب کوئی کتاب پڑھ رہے ہوتے ہیں، تو ہم اپنا دماغ استعمال کرتے ہیں۔ ہمارا شعور بھی اُسی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ اس شعور کے باطن میں کچھ نظریات، کچھ خیالات موجود ہوتے ہیں […]
امیر خسرو کے چند فارسی نعتیہ اشعار مع ترجمہ

اے چہرۂ زیبائے تو رشک بتانِ آزری ہر چند وصفت می کنم درحسن ِزاں زیبا تری (ترجمہ): اے کہ تیرا چہرہ بتانِ آزری (آزر کے بنائے ہوئے پتھر کے حسین مجسمے، مراد، حسین ترین صورت) کے لیے ناقابلِ رشک ہے۔ تیری جتنی بھی تعریف کروں، تو اُس سے بڑھ کر حسین ہے۔ آفاقہا گردیدہ ام […]
’’بچہ گود لے لو‘‘…… ایک نیا فراڈ

لٹیرے، ٹھگ باز، چور، ڈاکو اور فراڈیے سبھی ایک قبیل سے تعلق رکھتے ہیں۔ سب ایک جیسے بے حِس، ظالم اور سنگ دل ہوتے ہیں۔ یہ لوگوں کی بے خبری میں ہی اُنھیں اُن کی دولت سے محروم نہیں کرتے، بلکہ اُنھیں جذباتی طور پر بھی بلیک میل کرکے اُن کی دولت لوٹ لیتے ہیں۔ […]