کبھی خواب نہ دیکھنا (اکیس ویں قسط)

بعد میں ہونے والی پیش رفت سے یہ واضح ہوگیا کہ مجھے ریاستی دارالحکومت سے چکیسر جیسے دور دراز علاقے میں کیوں بھیجا گیا تھا؟ اُسی وقت ایک اور انتہائی قابل ڈرافٹس مین کو بھی الپورئی میں تعینات کیا گیا۔ اُس کا نام عبدالرشید تھا۔ اُسے اگلے احکامات تک وہیں رہنے کی ہدایت دی گئی۔زیرِ […]
کبھی خواب نہ دیکھنا (اُنیس ویں قسط)
غازی عظیم خان پاچہ گل (مرحوم)
بنجاریانو محلہ (مینگورہ سوات)
ابوبکر صدیق کی یاد میں
ایڈوکیٹ شمشیر علی خان
ڈاکٹر عبدالوہاب کی زندگی پر ایک نظر
مشر حلیم وکیل صاحب کی یاد میں
ڈاکٹر پیرداد صاحب کی یاد میں
رحمت اللہ خان کی یاد میں

قارئین! آج رحمت اللہ خان المعروف ’’رحمت لالا‘‘ ولدِ فضل مولا سیدو شریف کے بارے میں نشست لیتے ہیں۔ مینگورہ سوات کی پچھلی نسل کے آبائی شہری جب گراسی گراؤنڈ کے پاس سے گزرتے، تو یقینا رحمت لالا کی خوب صورت شخصیت دیکھے بغیر نہیں گزر پاتے ہوں گے۔ رحمت لالا ایک بہترین فٹ بالر، […]
بختِ رحمان اور جمالیات سے عاری سماج

سوشل میڈیا پر وائرل کانٹینٹ اور شخصیات ہمیں سماجی ترجیحات کے بارے میں بہت کچھ بتاتی ہیں۔ اس تحریر پر بختِ رحمان کی ایک وڈیو نے مائل کردیا، جس میں اُسے موٹر کی اگلی سیٹ پر بٹھایا گیا ہے اور پیچھے موجود لوگ اُس کا جسم نوچ کر تنگ کر رہے ہیں، تاکہ وہ گالیوں […]
’’حیات‘‘ غلام فاروق اور ’’مرحوم‘‘ غلام فاروق

قارئین! غلام فاروق سے شناسائی تو معلوم نہیں کتنی پرانی ہے،مگر کالج میں پہنچا، تو پتا چلا کہ وہ ایک کلاس آگے تھا، آج کے غلام فاروق سے بہت مختلف۔ غلام فاروق ایک سیدھا سادھا، گرم جوش اور منھ پھٹ نوجوان تھا۔ لمبا چوڑا اور وجیہہ شخصیت کا مالک۔ غلام فاروق کی سنگت، زندگی اور […]
کچھ عبدالغفور صاحب کے بارے میں

وہ جو راہ دِکھاتے ہیں، خود بھی منزلیں پاتے ہیں اور دوسروں کو بھی دلاتے ہیں۔ قابلیت اور صلاحیت راستے کی کسی دیوار کو نہیں مانتی۔ مین بازار مینگورہ میں چھولے بیچنے والے خوددار عبدالقیوم کو ایک ہی گلہ تھا کہ ’’مَیں پڑھ نہ سکا۔ کاش! مَیں پڑھ پاتا۔‘‘ اُن کا مصمم ارادہ تھا کہ […]
مینگورہ کا بنگالی خاندان

نعیم اختر صاحب کا مشکور ہوں جنھوں نے مینگورہ بنگالی کورنئی (مینگورہ بنگالی خاندان) کا تعارف بہت آسان اور سادہ سا کیا ہے۔ یقینا مینگورہ شہر کے نوجوانوں کے لیے یہ تعارف آسانی پیدا کرے گا۔ یحییٰ خان اس ’’کورنئی‘‘ (خاندان) کی بنیاد رکھنے والے تھے، جن کے تین بیٹے تھے۔ ان کے نام اجڑ […]
کچھ امان اللہ خان جلو خیل کے بارے میں

نشاط چوک سے مین بازار کی طرف جاتے ہوئے ایک عظیم الشان مسجد، ساتھ اعظم کلاتھ مارکیٹ اور اُس کے بالکل پیچھے اعظم ٹریڈ سنٹر وسیع مارکیٹ اس شہر کے ایک وجیہہ، ہر دِل عزیز، یار باش، سلیقہ مند اور گفت گو کا ہنر رکھنے والے امان اللہ خان صاحب کی عظمت کی یاد دِلاتے […]
کچھ والد بزرگوار محمد عظیم مرزا کے بارے میں

میرے مرحوم والد محمد عظیم مرزا اور میرے چچا شاہزاللہ اپنے باپ حبیب اللہ کے سائے سے بہت کم عمری میں محروم ہوگئے۔وہ اتنے کم عمر بچے تھے کہ اُن کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اُن کے والد کیوں اور کہاں جان کی بازی ہار گئے؟ یہ بات اُن کو بہت بعد میں […]
ملک بیرم خان ’’تاتا‘‘ کی یاد میں

ملک بیرم خان المعروف ’’تاتا‘‘ یکم اکتوبر 1983ء کو میونسپل کمیٹی مینگورہ کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ چار سال مکمل ہونے کے بعد 21 نومبر 1987ء کو ان کی مدتِ ملازمت ختم ہوئی۔ دوبارہ بلدیاتی انتخابات میں اُنھوں نے پھر بھاری اکثریت سے کام یابی حاصل کی اور 29 دسمبر 1987ء کو دوبارہ چیئرمین منتخب ہوئے۔ […]
کچھ پروفیسر اشرف الطاف کے بارے میں

آغاز ہی سے جہانزیب کالج کو بہترین اساتذہ کی خدمات حاصل رہی ہیں۔ کالج کے پہلے پرنسپل حافظ محمد عثمان مشہور ریاضی دان تھے۔ زیادہ تر اکیڈیمک سٹاف غیر مقامی افراد پر مشتمل تھا،مگر وہ بہت تن دہی اور جذباتی انداز سے اس نئے ادارے کو علم کا گہوارا بنانے کے لیے کوشاں تھا۔ وقت […]
امیر دوست خان دھوبی

90ء کے عشرے کی بات ہے، تاج چوک میں قائم مدرسے سے چھٹی ہونے کے بعد واپسی کے وقت ڈاکٹر عبدالوہاب المعروف ’’چاڑا ڈاکٹر‘‘ کی گلی سے گزرتے ہوئے ایک سفید ریش ستار بجانے والے کی دُکان کے سامنے آکر غیر ارادی طور پر میرے قدم رُک جاتے۔ عصر کے دس پندرہ منٹ گزرنے کے […]
محمد غفار المعروف مسٹر طوطا

کہتے ہیں بہت ترقی ہوگئی، کیا کیا ایجاد ہوگیا…… ٹرانسسٹر سے تھری ڈی، کسب گر سے آئی فون، تانگے سے فورتھ جنریشن طیارے، و علی ہذا القیاس۔ ویسے اتفاق سے اس ترقی میں ہمارے معاشرے کا کوئی قصور نہیں۔ ہمارے بھروسے ہوتے، تو صبح نتھنے کالے ہی ہوتے اب تک اور گورے انگریز کالے نتھنوں […]
ڈاکٹر محمد عارف، ایک عہد کا نام

مشہور ہے کہ جب مینگورہ سوات میں والدین خواب دیکھتے، تو دیکھتے کہ اُن کے بچے ڈاکٹر عارف صاحب کی طرح بن گئے ہیں۔ ایک لمبے عرصے تک سرجن ڈاکٹر عارف صاحب مینگورہ کے لوگوں پر ایک سحر کی طرح طاری رہے۔ آپ اُنھیں ایک ’’ہیرو‘‘ کَہ لیں، ’’بنچ مارک‘‘ کَہ لیں یا اُن کے […]