سوشل میڈیا، ثقافتی اظہار اور فکری تقسیم

Blogger Doctor Gohar Ali

گذشتہ دو دہائیوں میں خیبر پختونخوا کا سماجی و سیاسی منظرنامہ غیر معمولی تغیرات سے گزرا ہے۔ عسکریت پسندی، ریاستی آپریشنز، نقلِ مکانی، عالمی سیاست کے اثرات، اور اب سوشل میڈیا کی برق رفتار دنیا، یہ سب عوامل مل کر ایک ایسا ماحول تشکیل دے چکے ہیں، جہاں ہر واقعہ فوری طور پر ایک وسیع […]

ہجرت، شناخت اور جرائم (سوات کا بدلتا منظرنامہ)

Blogger Doctor Gohar Ali

سوات کی آبادیاتی ساخت میں  گذشتہ دو ڈھائی دہائیوں میں غیر معمولی رفتار سے تبدیل ہوئی ہے۔ یہ تبدیلی محض عددی اضافہ یا کمی تک محدود نہیں، بل کہ اس نے سماجی تنظیم، ثقافتی ہم آہنگی، شہری نظم و نسق اور جرائم کی نوعیت تک کو متاثر کیا ہے۔ ایک طرف وادی کے اندر ماحولیاتی […]

دولت، جرم اور احتساب کا بحران

Blogger

خیبر پختونخوا میں حالیہ برسوں کے دوران میں منشیات کے کاروبار اور اس کے استعمال میں نمایاں اضافہ ایک پیچیدہ سماجی، معاشی اور سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔ بہ ظاہر ریاستی سطح پر منشیات کے خلاف آگاہی مہمات جاری ہیں، جن کا اظہار پولیس تھانوں کے گیٹوں، چوراہوں اور عوامی مقامات پر آویزاں بینرز اور […]

نصابِ تعلیم: اعتدال سے نظریہ سازی تک

Blogger Doctor Gohar Ali

پاکستان میں نصابِ تعلیم کبھی محض درسی مواد کا مجموعہ نہیں رہا، بل کہ ریاستی ترجیحات، سیاسی اُتار چڑھاو اور قومی بیانیے کی تشکیل کا ایک طاقت ور ذریعہ رہا ہے۔ آزادی کے فوراً بعد کے برسوں میں اگرچہ نصاب میں مذہب اور قومی شناخت کا ذکر موجود تھا، تاہم مجموعی رجحان نسبتاً اعتدال پسند […]

ہنر کی قدر، انسان کی محرومی

Blogger Doctor Gohar Ali

’’بڑھئی‘‘ کے عنوان سے یہ اُردو درسی متن، جو 1980ء اور 1990ء کی دہائی میں اُس وقت کے صوبہ سرحد (NWFP)، موجودہ خیبر پختونخوا، میں پرائمری سطح پر بہ طورِ نصاب پڑھایا جاتا رہا۔ بہ ظاہر محنت، دیانت اور خدمتِ خلق کی اخلاقی اقدار کو اجاگر کرتا ہے۔ بچوں کے لیے لکھی گئی اس سادہ […]

سکول وزٹس: خوش کن دعوے اور تلخ حقائق

Blogger Doctor Gohar Ali

29 نومبر 2025ء کو مجھے سوات ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈی ای اُو، جناب فضل خالق، کے ساتھ چند پرائمری اور مڈل سکولوں کا مشترکہ دورہ کرنے کا موقع ملا۔ ڈپٹی صاحب کا اندازِ معائنہ غیر رسمی مگر پیشہ ورانہ تھا؛ ریکارڈز کی جانچ پڑتال، کلاس رومز کا مشاہدہ اور طلبہ کی علمی قابلیت کا […]

سبق یا تشدد……؟

Blogger Doctor Gohar Ali, Aligrama Swat

اکثر کہا جاتا ہے کہ قوموں کا مستقبل نہ ایوانوں میں لکھا جاتا ہے اور نہ میدانِ جنگ میں،بل کہ اُن چھوٹے کمروں میں جہاں بچے ا، ب، پ سیکھتے ہیں…… مگر جب خیبر پختونخوا کے نجی اسکولوں میں رائج اُردو اور دیگر مضامین کے نصاب کا مطالعہ کیا جائے، تو ایک تشویش ناک حقیقت […]

27ویں ترمیم: مزاحمت و مفاہمت کے بیچ سفر

Blogger Doctor Gohar Ali

پاکستان کی آئینی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب آئین کو سیاسی ضرورت یا طاقت کے توازن کے مطابق ڈھالا جاتا ہے، تو اس کے اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔ 8ویں ترمیم سے 18ویں ترمیم تک کا سفر صرف قانونی ترامیم کی تاریخ نہیں، بل کہ یہ ریاست، سیاست اور اقتدار کے مراکز کے […]

’’بنو قابل‘‘ یا ’’بنو قابلِ سیاست؟‘‘

Blogger Doctor Gohar Ali Swat

گذشتہ دنوں سوات کی تحصیلِ کبل کے معروف کبل گراؤنڈ میں ایک بڑا منظر دیکھنے کو ملا۔ جماعتِ اسلامی پاکستان کے زیرِ اہتمام سوات، بونیر اور شانگلہ کے ہزاروں نوجوان ’’بنو قابل‘‘ پروگرام کے ٹیسٹ میں شریک ہوئے۔ بہ ظاہر یہ نوجوانوں کو آئی ٹی کی جدید مہارتیں سکھانے کا ایک قدم ہے، لیکن اس […]

آؤٹ سورسنگ: علاج یا مزید بحران؟

Blogger Doctor Gohar Ali Swat

حکومتِ خیبر پختونخوا نے حال ہی میں ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے 1500 سے زائد سرکاری تعلیمی اداروں کو آؤٹ سورس کرنے کے ارادے کا اظہار کیا ہے۔ ان اداروں میں پرائمری، مڈل، ہائی اور ہائر سیکنڈری سکولوں کے ساتھ ساتھ متعدد گرلز اور بوائز کالجز بھی شامل ہیں۔ اس فیصلے کے لیے […]

جنت نظیر سوات کی تباہی کی الم ناک داستان

Blogger Doctor Gohar Ali

سوات، جو کہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں واقع ہے، کبھی اپنی قدرتی خوب صورتی، سرسبز پہاڑوں، برف پوش چوٹیوں، دریاؤں اور جھرنوں کی بہ دولت جنت نظیر وادی کہلاتا تھا۔کبھی یہ علاقہ گھنے جنگلات، زرخیز زمینوں، شفاف پانیوں، صحت بخش ماحول اور معتدل موسموں کا حامل تھا…… لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ترقی، […]

ایران اسرائیل جنگ کے پاکستان پر ممکنہ اثرات

Blogger Doctor Gohar Ali

ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک مکمل جنگ کی طرف بڑھتی محسوس ہو رہی ہے اور ایسے میں پاکستان ایک نازک جغرافیائی اور سیاسی دوراہے پر کھڑا ہے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ایک بار پھر مغربی مفادات کی خاطر ’’فرنٹ لائن اسٹیٹ‘‘ کا کردار ادا کرے گا؟ […]

ملاکنڈ یونیورسٹی جنسی ہراسانی معاملہ: چند سوالات

Blogger Doctor Gohar Ali

ملاکنڈ کی ایک نام ور یونیورسٹی میں مبینہ طور پر ایک جنسی ہراسانی کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے نہ صرف تعلیمی حلقوں، بل کہ پورے پختون معاشرے میں ایک ہل چل مچا دی ہے۔اطلاعات کے مطابق، پاکستان اسٹڈیز کے ایک لیکچرار عبدالحسـیب خان، جو کہ ’’یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن‘‘ (MUTA) کے اطلاعاتی سیکرٹری […]

انسانی ہم دردی اور عالمی تضاد

Blogger Doctor Gohar Ali

2005ء کے تباہ کن زلزلے کے دوران میں پاکستان کو دنیا بھر سے امداد ملی، لیکن امریکی امداد اپنی وسعت اور اثرات کے اعتبار سے نمایاں رہی۔ امریکی حکومت نے نہ صرف مالی امداد فراہم کی، بل کہ اپنی فوجی اور طبی ٹیموں کو بھی متاثرہ علاقوں میں بھیجا۔ امریکی ہیلی کاپٹروں نے دور دراز […]

پاک امریکہ تعلقات: آغاز سے تاحال (مختصر جائزہ)

Blogger Doctor Gohar Ali

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ پیچیدہ اور مختلف عوامل پر مبنی ہے، جن میں جغرافیائی سیاست، عسکری اتحاد اور اقتصادی مفادات شامل ہیں۔ ان تعلقات نے کئی دہائیوں میں نشیب و فراز دیکھے، جو نہ صرف دونوں ممالک کے لیے، بل کہ عالمی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتے رہے۔ اس مضمون […]

برٹش سامراجیت، سرتور فقیر اور سواتیوں کی بغاوت

Blogger Doctor Gohar Ali

٭ پس منظر:۔ اَخوند صاحب کی وفات ( 1877-78ء) کے بعد، سوات میں مختلف دعوے داروں کے درمیان اقتدار کے حصول کے لیے کئی سالوں تک اندرونی جھگڑے اور سازشیں جاری رہیں۔ (Hay, The Yousafzai State of Swat, 513)برطانوی حکومت کے لیے بڑے خطرات میں امیر افغانستان (امیر عبدالرحمان) کا سوات پر دعوا اور سوویت […]

اخوند عبد الغفور (سیدو بابا): ’’پوپ آف سوات‘‘

Blogger Doctor Gohar Ali

٭ تعارف:۔ سوات کے مذہبی اور سیاسی اُفق پر اخوند آف سوات کا کردار انتہائی نمایاں اور موثر رہا ہے۔ اُن کے روحانی اثر و رسوخ نے نہ صرف سوات، بل کہ اس کے آس پاس کے علاقوں میں بھی گہرے نقوش چھوڑے۔ انگریزوں نے اُنھیں ان کے سیاسی، مذہبی اور سماجی اثرات کی بنا […]

امبیلہ مہم اور اخوند سوات (سیدو بابا) کا کردار

Blogger Doctor Gohar Ali

٭ تاریخی پس منظر:۔ 1849ء میں برطانوی ہندوستان نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کو فتح کرنے کے بعد وہاں اپنی حکومت قائم کی۔ اس کے ساتھ ہی سید احمد بریلوی کی تحریک سے جڑے مجاہدین نے ستھانہ اور ملکا کو اپنے مراکز بناکر انگریزوں کے خلاف اپنی جد و جہد جاری رکھی۔ برطانوی حکام نے […]

اخوند عبد الغفور اور سوات میں پہلی اسلامی ریاست کا قیام

Blogger Doctor Gohar Ali

٭ بیک گراؤنڈ:۔ سید احمد بریلوی کی شہادت کے بعد سوات اور ملحقہ علاقوں میں ایک نئی سیاسی تاریخ کا آغاز ہوا۔ 1831ء میں سید احمد بریلوی کی بالاکوٹ میں شہادت کے بعد، سوات اور گردونواح میں ایک نئی لیکن مختلف اسلامی مذہبی اتحاد تشکیل پایا، جس میں طریقت اور شریعت کے درمیان ایک منفرد […]

سید احمد بریلوی کا دورۂ سوات

Blogger Doctor Gohar Ali

سید احمد (شہید) بریلوی (1786ء تا 1831ء) جو شاہ ولی اللہ دہلوی کی تعلیمات سے متاثر ہوکر ہندوستان میں اسلامی اقدار کے احیا کے علم بردار بنے، شمال مغربی ہندوستان کے علاقوں، خاص طور پر پنجاب اور خیبرپختونخوا، میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکومت کے مظالم کے خلاف جہاد کے لیے سرگرم ہوئے۔سید احمد (شہید) […]