29 نومبر 2025ء کو مجھے سوات ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈی ای اُو، جناب فضل خالق، کے ساتھ چند پرائمری اور مڈل سکولوں کا مشترکہ دورہ کرنے کا موقع ملا۔ ڈپٹی صاحب کا اندازِ معائنہ غیر رسمی مگر پیشہ ورانہ تھا؛ ریکارڈز کی جانچ پڑتال، کلاس رومز کا مشاہدہ اور طلبہ کی علمی قابلیت کا جائزہ وغیرہ۔ اُن کی ’’سٹوڈنٹ-سنٹرڈ اپروچ‘‘، خوش اخلاقی اور بچوں سے پشتو میں بہ راہِ راست مکالمے نے بہ طورِ مبصر مجھ پر نہایت مُثبت اثر چھوڑا۔ تاہم، اس دورے نے کئی ایسے پہلو بھی آشکار کیے، جو ہمارے تعلیمی نظام کی ساختی کم زوریوں کی جانب توجہ دلاتے ہیں۔
دورے کے دوران سامنے آنے والی خامیوں میں سے چند یہ تھیں:
1) اساتذہ کی غفلت:۔ بعض پرائمری سکولوں میں استاد کلاس رومز سے باہر بیٹھے موبائل فون استعمال کرتے پائے گئے۔
2) اوور کراؤڈنگ اور جگہ کی قلت:۔ چند کلاسوں میں دو الگ سیکشنز کے طلبہ کو ملا کر بٹھایا گیا تھا، جہاں جگہ نہ ہونے کے باعث کئی بچوں کو کھڑکیوں اور دیواروں کے کناروں پر بیٹھنا پڑا۔
3) عمارتوں کی خستہ حالی:۔ کچھ سکولوں کی دیواریں، چھتیں اور فرش شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھے؛ جگہ جگہ گندگی اور مکڑیوں کے جالے موجود تھے۔
4) انتظامی بے ضابطگی:۔ ایک سکول میں ہیڈ ماسٹر بغیر کسی تحریری اجازت کے غیر حاضر تھے، جب کہ زیادہ تر بچوں کو سکول سے باہر کھیلتا پایا گیا، جس کو ’’سپورٹس ڈے‘‘ کَہ کر توجیہہ دی گئی۔
5) غیر تدریسی سرگرمیوں کا دباو:۔ کئی اساتذہ تدریسی ڈیوٹیوں کے بہ جائے امتحانی اُمور یا دیگر سرکاری ذمے داریوں (پولیو، مردم شماری، الیکشن ڈیوٹیز) میں مصروف تھے۔
6) طلبہ کی نگرانی اور سہولیات کا فقدان:۔ بعض کلاسوں میں بچے بغیر استاد کے موجود تھے؛ شدید سرد موسم کے باوجود متعدد طلبہ مناسب گرم لباس سے محروم تھے۔
اس ضمن میں ہیڈ ماسٹرز کی شکایات بھی توجہ طلب تھیں۔ ایک ہیڈ ماسٹر نے ’’آرڈر بک‘‘ دکھائی، جس میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی درج تھی، مگر ایک اُستاد نے سائن کرنے سے انکار کیا۔ یہ صورتِ حال یا تو انتظامی اختیار کی کم زوری کا ثبوت ہے، یا کچھ اساتذہ کے سیاسی و خاندانی اثر و رسوخ کا۔
اس طرح اساتذہ کی قلت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ کئی ٹیچرز امتحانی ڈیوٹیوں، انڈکشن پروگرام، پولیو مہم یا مردم شماری میں مصروف ہونے کے باعث اپنی کلاسیں نہیں لے پا رہے تھے، جس کی وجہ سے کلاسیں یک جا کرنا ناگزیر ہو گیا تھا۔
ان مشاہدات کی روشنی میں کچھ بنیادی سوالات جنم لیتے ہیں کہ
٭ اساتذہ کو تدریسی فرائض سے ہٹا کر غیر متعلقہ سرکاری اُمور میں لگانا کب تک جاری رہے گا؟
٭ ایک ہی تعلیمی سال میں دو بڑے امتحانی سیشنز (Annual-I اور Annual-II) لینا، جب کہ اساتذہ پہلے ہی قلت اور ڈیوٹیوں کے دباؤ کا شکار ہیں، کیا مناسب حکمتِ عملی ہے؟
٭ غیر ضروری چھٹیوں، بدعنوانی یا مسلسل امتحانی ڈیوٹیوں میں مصروف رہنے والے ہیڈ ماسٹرز اور اساتذہ کے خلاف مانیٹرنگ یا محکمۂ تعلیم کی جانب سے کوئی موثر کارروائی کیوں نظر نہیں آتی؟
یہ سوالات ہمارے تعلیمی ڈھانچے کی کم زوریوں کے وہ نقائص ہیں، جنھیں محض نوٹسز یا رپورٹس سے درست نہیں کیا جا سکتا۔ اگر تعلیم کو حقیقی معنوں میں بہتر بنانا ہے، تو مضبوط حکم رانی، فعال نگرانی اور ذمے داری کے واضح احساس کی بنیاد رکھنی ہوگی۔ مضبوط سکول وہی ہے، جہاں اُستاد موجود ہو، کلاس فعال ہو اور بچے محفوظ و باوقار ماحول میں سیکھ رہے ہوں…… دعوؤں کے سہارے نہیں، عملی اصلاحات سے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










