ریاست سوات کے اداروں کا دائرہ کار

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ایک شام، والی صاحب نے اپنی گاڑی رکوائی اور ایک گارڈ کو اشارہ کیا کہ وہ اوپر جاکر ایک افسر کو لے آئے، جو افسر آباد میں رہتا تھا۔ چناں چہ وہ افسر جلدی سے نیچے […]
ریاستِ سوات کے ملازمین اور پاکستانی سیٹ اَپ

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)سوات کے انضمام کے بعد، نئے نظام کے تحت کام کرتے ہوئے، نچلے عملے نے اس بھائی چارے، قربت اور خاندانی ماحول کی کمی محسوس کی، جو ریاستی افسران اور ملازمین کے درمیان موجود تھی۔ ریاست […]
جب تنخواہ کم تھی اور اطمینان زیادہ

ریاستی دور کی ملازمت بھی ایک ایڈونچر سے کم نہیں تھی۔ صبح شیو کرنے کے بعد موسم کی مناسبت سے مغربی لباس پہننا، ٹائی یا بُو لگانا، صاف ستھرا نظر آنے کا اہتمام کرنا اور اگر حضور کے دفتر میں پیشی کا موقع ملا ہے، تو دعائیں مانگنا۔یہ دراصل میری ملازمت کے ابتدائی برسوں کی […]
ریاست سوات: انضمام کے وقت کی صورتِ حال

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے ، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)سوات ریاست کے انضمام کے اعلان (جولائی 1969ء) کے فوری بعد کا دور ’’سٹیٹَس کو‘‘ (Status Quo) کہلایا، لیکن نئی انتظامیہ نے سرعت سے اپنی اتھارٹی کا استعمال شروع کر دیا۔ ایک کرنل سب مارشل […]
والی سوات کی تعلیم سے محبت

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے ، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)میانگل جہانزیب کی تعلیم کے لیے بے پناہ اور بے مثال محبت تھی۔ ایسا لگتا ہے جیسے ان کے سامنے تین نِکاتی ایجنڈا تھا، یعنی تعلیم، صحت اور مواصلات۔ یہی ان کی ترجیحات کی فہرست […]
نسوار سے جڑی یادیں

چلیں، آج اس گھمبیر ماحول میں کچھ ہلکی پھلکی بات کی جائے۔نسوار کی برکتیں اتنی زیادہ ہیں کہ اس مختصر وقت میں ناممکن ہے کہ اُن کا احاطہ ہوسکے۔ ہمارے سیدو شریف میں سیدو بابا مسجد کے پہلو میں ایک سپر سٹور تھا (شاید اب بھی ہو)، اُس کی ابتدا نسوار ہی سے ہوئی تھی۔ […]
سیدو بابا لنگر

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے ، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)’’لنگر‘‘ یعنی زائرین کو کھانا فراہم کرنے کا نظام ہر پیر کے آستانے یا ان کی وفات کے بعد ان کی درگاہ کی ایک نمایاں خاصیت ہے۔ لوگ وہاں بڑی تعداد میں جمع ہوتے ہیں […]
ایک بوڑھی خاتون اور والی سوات

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے ، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)مجھے نہیں معلوم کہ سوات کے حکم ران کی شاہی رہایش گاہ کے لیے باورچی خانے کے سامان کی فراہمی کیسے ہوتی تھی؟ لیکن ایک دن ایک سکول فیلو، جو مجھ سے ایک کلاس سینئر […]
ریاست سوات: فوج کی درجہ بندی

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے ، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)وقت گزرنے کے ساتھ، نئی نسل کا سابق ریاستِ سوات کی یادوں کے ساتھ تعلق بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ نوجوان نسل ریاست کے نظامِ حکومت، عدلیہ کے نظام، تعلیم اور صحت کے شعبوں اور […]
ہمارا بچپن

ہمارے بچپن کے افسر آباد میں مختلف طبقات کے لوگ رہتے تھے۔ یہ ایک بالکل "Harmonious” بستی تھی۔ ایک بات جو اُن دنوں کی مجھے یاد ہے۔ ہم اپنے کھیلوں میں حقیقت سے زیادہ "Phantasies” کے رنگ بھرتے اور خود کو یقین دلاتے کہ ہاں ایسا ہی ہورہا ہے، جیسا ہم دیکھنا یا دکھانا چاہ […]
ریاست سوات میں عورتوں کے حقوق

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے ، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)بہت سے لوگ، خاص طور پر تاریخ کے شائق طلبہ، مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ریاست نے عورتوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے کیا کیا ہے اور کیا عورتوں کے بنیادی حقوق […]
ریاست سوات کی سند ملکانہ

گذشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر سابقہ ریاستِ سوات کے دور میں حکم ران کے دستخطوں سے جاری شدہ اُن سندات کو شیئر کیا جا رہا ہے، جن میں کسی بھی علاقے کے صاحبِ جائداد شخص کو اپنی زمینوں (دفتر) اور مزارع (فقیروں) کا ملک مقرر کرنے کا ذکر ہوتا ہے اور بس۔ ان […]
والی سوات اور سمندر خان سمندرؔ

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے ، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)سمندر خان سمندرؔ پشتو کے ایک معروف اور ہمہ جہت شاعر تھے۔ ان کی پیدایش جنوری 1901ء میں نوشہرہ کے گاؤں بدرشی میں ہوئی۔ ان کے کارناموں میں ’’دَ قرآن ژڑا‘‘ نامی کتاب بھی شامل […]
ریاست سوات دور کا ایک نوعمر قاتل

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے ، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)وہ ساتویں جماعت کا طالب علم تھا۔ اس کی ماں کا انتقال بچپن میں ہی ہوگیا اور اس کے باپ نے دوسری شادی کر لی۔ کہا جاتا تھا کہ اس کی سوتیلی ماں اس کے […]
ایک بوڑھے کی میانگل عبدالحق جہانزیب سے ملاقات

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)دوسری عالمی جنگ کے دوران میں باقی برصغیر کی طرح سوات بھی کافی حد تک متاثر ہوا۔ سوات کو اپنی سرحدوں سے باہر کی صنعتوں پر روزمرہ کی ضروریات کی بہت سی چیزوں کا انحصار کرنا […]
ریاست سوات میں لکڑی کی دست کاری

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)روایتی طور پر، سوات میں لکڑی کی دست کاری گھروں کے دروازے بنانے، شہ تیر اور کڑیاں تیار کرنے، آرایشی محرابوں، گنبدوں اور مساجد و حجروں کے کندہ کاری والے دروازوں تک محدود تھی۔ اس کے […]
ریاست سوات کی ملیشا: ایک تعمیری ادارہ

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)جب یوسف زئی ریاستِ سوات مضبوط بنیادوں پر قائم ہوئی اور اس کی سرحدیں محفوظ ہوگئیں، تو دیر اور امب جیسی پڑوسی ریاستوں کے خطرات ماضی کا حصہ بن گئے۔جب اقتدار میاں گل جہانزیب کو سونپ […]
ریاستِ سوات بہ طورِ سرپرستِ فنونِ لطیفہ

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ریاستِ سوات کے قیام سے قبل، وادی میں فنونِ لطیفہ سے وابستگی کے شواہد کم ہی ملتے ہیں۔ یہاں زندگی بقا کی مسلسل جد و جہد میں گزر رہی تھی۔ پڑھنا لکھنا ایک نایاب شوق کی […]
ریاست سوات کے والی کا ایک معائنہ

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)تین سال تک چکیسر میں ہر مہینے تین ہفتے گزارنے کے بعد، 1965ء میں والی صاحب نے مجھے حکم دیا کہ میں اکاخیل، موسیٰ خیل کے علاقے میں تعمیراتی ذمہ داریاں سنبھالوں۔ اس دوران میں بریکوٹ […]
ریاست سوات کا جہانزیب کالج

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)سوات ریاست کے تمام تعلیمی ادارے پشاور یونیورسٹی کے ساتھ الحاق شدہ تھے۔ آٹھویں، دسویں، انٹرمیڈیٹ اور بیچلر سطح کے امتحانات صوبے کے دیگر سکولوں اور کالجوں کے ساتھ منعقد ہوتے تھے، جن کی نگرانی پشاور […]
سیدو شریف: میرے دنوں کی کچھ دل چسپ شخصیات

(نوٹ:۔ یہ تحریر محترم فضل رازق شہابؔ کی انگریزی یادداشتوں میں سے ایک کا ترجمہ ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)ہم سیدو شریف میں تقریباً نصف صدی تک مقیم رہے۔ ریاست کے دارالحکومت میں اعلا عہدوں پر فائز افراد کے علاوہ، ریاست کے ہر کونے سے لوگ مواقع کی تلاش میں یہاں آئے اور سیدو کے […]