بلاول بھٹو پھر ناراض ہوگئے
26ویں آئینی ترمیم کے بعد……!
کیا پارلیمان آزاد ہوگیا؟
26ویں آئینی ترمیم کا بنیادی مقصد
’’منفی پراپیگنڈے‘‘ کا حل کیا ہے؟
علی امین گنڈاپور کی روپوشی و رونمائی بارے چند چبھتے سوالات

علی امین گنڈاپور اپنے لاؤ لشکر اور سرکاری وسائل کے ساتھ جوں جوں اسلام آباد کی طرف بڑھ رہے تھے، پی ٹی آئی کے ورکروں کا جوش اُس سے دُگنی رفتار سے آسمانوں کی طرف محوِ پرواز تھا۔ وہ راستے بھر جوشیلا خطاب کرتے ہوئے ورکروں میں ایک ولولۂ تازہ بھی پیدا کرتے چلے آ […]
نئی آئینی عدالت کے قیام کا اصل مقصد

آج کل آئینی ترمیم کا بڑا زور و شور ہے۔ اسے منظور کروانے کے لیے بڑے جتن ہو رہے ہیں، لیکن قانونی ماہرین اور وکلا نے اس ترمیم کو ذاتی مفادات کا شاخ سانہ قرار دے کر رد کر دیا ہے۔ ایک ملک گیر تحریک اس آئینی ترمیم کے بطن سے جنم لے رہی ہے، […]
پاکستانی طلبہ سیاست کا تنقیدی جائزہ

بنگلہ دیش میں طلبہ احتجاج کے بعد پاکستان میں بھی ڈھیر سارے سیاسی لوگ طلبہ کو جوش دلا رہے ہیں کہ وہ باہر نکلیں اور ملک میں تبدیلی کے لیے جدوجہد کریں۔ طلبہ کو وہ لوگ اُکسا رہے ہیں جو خود سیاسی میدان میں ڈنڈے سوٹے کھا کر اب احتجاج کی سیاست کو ترک کرکے […]
تحریکِ انصاف کی روپوش لیڈر شپ کا کڑا امتحان

بانیِ پی ٹی آئی عمران خان نے اپنے روپوش پارٹی راہ نماؤں کو ہدایت کی ہے کہ وہ روپوشی ختم کرکے باہر نکلیں اور گرفتاری دیں۔ اڈیالہ جیل میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ مَیں خود جیل میں قید ہوں، تو باقی راہ نماؤں کو بھی ڈر چھوڑ کر سا منے […]
سیاست، چمکتا کاروبار

آج کے سیاست دانوں کو اقتدار کے لیے سازشیں کرتے، ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچتے، جھوٹے مقدمات بناتے، اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے سیاسی مخالفین کو رگڑا لگاتے دیکھتے ہیں، تو سیاست اور سیاست دانوں سے نفرت سی ہونے لگتی ہے۔ سیاست کو کبھی خدمت کا ذریعہ ہی نہیں سمجھا جاتا تھا، بل […]
شعور، لاشعور اور بدلتے سیاسی بیانیے

کامیاب سیاستدان ماہرِ نفسیات بھی ہوتا ہے۔ وہ اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے لوگوں کی نفسیات سے کھیلتا ہے۔ ان کے شعور کو اپنی طرف مائل کرتا ہے اور ان کے دماغوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے۔ شعور، لاشعور اور تحت الشعور انسانی دماغ کے تین افعال ہیں۔ شعور ظاہری اور لاشعور […]
سیاسی حبس میں تازہ ہوا کا جھونکا ضروری ہے

جب گھٹن بڑھ جائے، تو تازہ ہوا کے جھونکے کے لیے کوئی کھڑکی کھولنا ضروری ہو جاتا ہے۔ ورنہ دم گھٹنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ 2006ء میں ایسے ہی گھٹن زدہ سیاسی حالات تھے۔ پرویز مشرف ملک پر قابض تھے۔ ق لیگ اُن کے فرنٹ مین کے طور پر موم کا ناک بنی ہوئی تھی۔ […]
قسمت کے دھنی

برصغیر پاک و ہند میں کچھ روایات اور حکایات ایسی ہیں جو ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔ یہ تمام باتیں حقیقت پر مبنی ہیں یا نہیں…… مگر ان کو ماننے والوں کی اَن گنت تعداد موجود ہے۔ ایڈوکیٹ محمد ریاض کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک […]
لیڈروں کی بے حسی اور پارٹی ورکروں کی موت

کسی بھی سیاسی پارٹی میں جب تک ورکر نہ ہوں، تب تک لیڈر پیدا ہی نہیں ہوتا۔ ورکر ہی اُنھیں زمین سے اُٹھا کر آسمان تک لے جاتا ہے۔ اُن کی خاطر لڑائیاں کرتا ہے۔ بغیر کسی لالچ اور فیس کے وہ ان کا ہر جگہ وکیل بنا پھرتا ہے۔ اور تو اور یہ ایک […]
آخری موقع

پی ڈی ایم حکومت کی 16 ماہ کی بری کارکردگی نے عوام کو شعوری اور لاشعوری طور پر بدظن کر دیا تھا۔ اپنے دعوؤں اور وعدوں کے برعکس عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیسنے کے بعد جب یہ لوگ عوام میں گئے، تو انھیں وہ پذیرائی نہ مل سکی جس کی انھیں اُمید تھی۔ […]
آئین سے روگردانی کی مزید گنجایش نہیں

اس کرۂ ارض پر جمہوریت کا سورج انقلابِ فرانس کا تحفہ ہے۔ اگر اُس وقت کچھ انقلابی ہاتھوں میں بغاوت کا علم نہ اُٹھاتے، تو دنیا آج بھی شہنشاہی کے آہنی پنجوں ہی میں سسک رہی ہوتی۔ اشرافیہ کے مظالم جب حدود نا آشنا ہوجاتے ہیں، تو پھر مجبور و مقہور لوگ ہاتھوں میں ہتھیار […]
خاموش انقلاب

اس میں کوئی وو رائے نہیں کہ ملکِ عظیم اس وقت طو فا نوں کی زد میں ہے۔ اس کی کشتی طوفانوں میں ہچکولے کھا رہی ہے اور اس کے ناخدا بندر بانٹ میں لگے ہوئے ہیں۔ کسی کو وزارت چاہیے اور کسی کو صدارت ۔ پروٹو کول کی خواہش ملکی سلامتی سے بالا تر […]
مخصوص نشستوں سے محرومی کا ذمے دار کون؟

الیکشن کمیشن نے تحریکِ انصاف کی حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کو الاٹ کرنے کے حوالے سے قرار دیا کہ جماعت کو یہ نشستیں نہیں مل سکتیں اور اب یہ نشستیں ایوان میں موجود دیگر سیاسی جماعتوں میں بانٹ دی جائیں گی۔ ایڈوکیٹ […]
لیاقت چٹھہ کا اصل چہرہ

پچھلے دنوں پاکستان کی سیاست میں اور خاص کر ایک ’’غیر سنجیدہ جذباتی حلقے‘‘ میں ایک تلاطم برپا ہوگیا۔ ویسے تو 8 فروری کے انتخابات کے فوراً بعد حسبِ معمول دھاندلی کی پکار ہر طرف سنائی دینے لگی…… اور پاکستان کی تاریخ کے شاید یہ متنازع ترین انتخابات ہوئے۔ ہر کوئی معترض ہے۔ مثلاً: تحریک […]
جمہوریت بہترین انتقام ہے

مولاناکوثر نیازی ایک عالم دین تھے اور جماعتِ اسلامی کے سرگرم کارکن تھے۔ پھر مولانا مودودی سے اختلاف ہوا، تو جو گروپ جس میں ڈاکٹر اسرار احمد، ارشاد احمد حقانی، عبدالقادر حسن وغیرہ شامل تھے، نے جماعتِ اسلامی کو چھوڑ دیا۔ تب مولانا اس گروپ کا حصہ تھے۔ پھر مولانا اچانک غیر متوقع طور پر […]
بھٹو کی عملی سیاست کا آغاز

ذوالفقار علی بھٹو پانچ جنوری 1928ء کو متحدہ ہندوستان میں سندھ کے معروف سیاست دان سر شاہ نواز بھٹو کے گھر میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بمبئی سے حاصل کی۔ بارکلے (Barkley) اور آکسفورڈ (Oxford) یونی ورسٹی سے پولی ٹیکل سائنس (Political Science) کی اعلا تعلیم کے بعد ’’لنکن ان‘‘ سے وکالت کی ڈگری حاصل […]