سوئے سکردو (پہاڑوں کا عشق)

ایک سفر وہ ہے جس میںپاؤں نہیں دل تھکتا ہےاور ایک سفر وہ ہے، جو مَیں مسلسل پچھلے 40 سال سے کرتا آ رہا ہوں کہ جس میں دل نہیں تھکتا، پاؤں تھک جاتے ہیں۔ اگرچہ اب جسم میں وہ طاقت اور وہ نیرنگیِ چال نہیں رہی، جو کبھی پہلے ہوا کرتی تھی۔ جسم اب […]
سوئے سکردو (ٹورسٹوں کی اقسام)

سفر میں ہوتی ہے پہچان کون کیسا ہےیہ آرزو ہے … مرے ساتھ تو سفر کرتاقارئین! ٹورسٹوں کی تین بڑی اقسام ہوتی ہیں: پکے (آرلے)، کچے (پارلے) اور وچکارلے۔پکے ٹورسٹس وہ ہوتے ہیں، جو آندھی آئے یا طوفان، ہنیریاں جھلن یا ہو جائے سرسام، بے آرامی ہو یا ہو آرام، وہ موقع محل دیکھ کر […]
سوئے سکردو (چوٹیوں کے نگر میں)

آدمی وقت پر گیا ہوگاوقت پہلے گزر گیا ہوگاپیدایش سے لے کر موت تک کی مہلت کو انسان زندگی سمجھ بیٹھا ہے۔ وقت کا دھارا چلتا رہتا ہے۔ کیلنڈر پر تاریخیں بدلتی رہتی ہیں۔ فطری توڑ پھوڑ جاری رہتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ فطرت کی رنگینیاں بھی اپنا رنگ جماتی رہتی ہیں۔ لوگ […]
سوئے سکردو (بارے راستے کا کچھ بیاں ہوجائے)

سفر میں دھوپ تو ہو گی جو چل سکو تو چلوسبھی ہیں، بھیڑ ہے، تم بھی نکل سکو تو چلوعام طور پر ساٹھ سال کی عمر میں سرکاری ملازم کو ادارے ریٹائر کر دیا کرتے ہیں کہ ’’جا بابا، ہن گھر بہہ کے آرام کر……!‘‘ مگر پتا نہیں پہاڑوں کا یہ عشق کیسا روگ ہے […]
سوئے سکردو (ذکرِ ہمسفراں به پایاں رسید)

غمگین دہلوی کے بہ قولوہ لطف اُٹھائے گا سفر کاآپ اپنے میں جو سفر کرے گاعلی ارسلان جٹ ہمارے اس سفر میں ہمارے اگلے ساتھی تھے، جو پیدایشی بائیکر ہیں۔ ساری عمر لاہور میں رہ کر، لاہور کے گلیاں کوچے گھوم پھر کر اور لاہور میں بزنس کے ششکے لے لے کر گزار دی۔ ابھی […]
سوئے سکردو (قافلۂ ’باقی ماندہ‘ ہم سفراں)

مسافرت کا ولولہ سیاحتوں کا مشغلہجو تم میں کچھ زیادہ ہے، سفر کرو سفر کرواس سفرِ لا حاصل میں ہمارے اگلے ساتھی ہمارے دو عدد پکے پریٹھے، بغیر جوڑ کے اور الگ الگ فقہ جات سے ہو کر بھی باہم جڑ جانے والی دو انتہائیں، دو مشرق مغرب، دو نونہہ سس، دو لڑاکو ہمسائیوں جیسی […]
سوئے سکردو (قافلۂ ہم سفراں)

وہ جو کہتے ہیں کہ کوئی سفر لا حاصل نہیں ہوتا ہے۔ منزل ملے یا نہ ملے، منزل کی طرف جانے والے راستے بہت کچھ سکھا دیتے ہیں۔ہمارا اس سال (2025ء) کا سفر جانبِ سکردو تھا۔ سکردو خوابوں کی سرزمین ہے ۔ پریوں کا مسکن ہے۔ نیک سیرت، سادہ، بھلے مانس اور فرشتہ صفت لوگوں […]
سکردو کا سب سے خوب صورت گاؤں ’’کریس‘‘

’’کریس‘‘ کا دل کش گاؤں، سکردو سے تقریباً 60 کلومیٹر آگے اور دریائے سندھ پر بنے ’’چھومدو پل‘‘ کو کراس کرکے آتا ہے۔ سکردو سے یہاں تک پہنچنے کے لیے تقریباً 2گھنٹے لگ جاتے ہیں۔یہ وہی مقام ہے، جہاں پر دریائے شیوک اوپر سے آ کر دریائے سندھ میں ملتا ہے۔چھومدو پل سے تھوڑا آگے […]
کیلاش کا مقدس پہاڑ

کیلاش کا پہاڑ (21778فٹ)، تبت کے علاقے میں ہے، جو آج کل چین کے زیرِ تسلط ہے۔ ہندو مت، بدھ مت، جین مت اور بون مت کے چاروں مذاہب کے نزدیک یہ ایک مقدس پہاڑ ہے۔ اسی کے ساتھ جھیل مانسروور اور جھیل رکشاستل نام کی دو عدد بڑی جھیلیں بھی ہیں۔ مانسروور جھیل کا […]
پنجاب کا لوڑی تہوار کیا ہے؟

’’لوڑی‘‘ کا تہوار پنجاب کی ثقافت سے جڑا تہوار ہے، جو ہر سال 13 جنوری یا اس کے قریب قریب، یکم ماگھ (پنجابی کیلنڈر کے 11ویں مہینا میں) منایا جاتا ہے۔ یہ سردیوں ( پوگ یا پوہ) کے اختتام اور بڑے اور کھلے دنوں کے آغاز کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔ بچے گھر گھر […]
وادئی شیشی کوہ (چترال)، فردوس است

اوشو کہتا ہے کہ ہمیں یہ غلط بتایا گیا تھا کہ پہاڑ، جنگل، وادیاں اور کہکشاں خوب صورت ہیں، جب کہ اصل خوب صورت تو انسان ہے۔اوشو کی یہ بات ہمیں اُس وقت سچ لگی جب ہم وادئی شیشی کوہ کے مرکزی قصبے تار پہنچے۔ انسانوں سے محبت کیا ہوتی ہے، احترامِ آدمیت کی حد […]
دروش (چترال)، پالولہ/ شینا اور مختلف قومیں

شاہی قلعہ نگر، دریائے چترال کے کنارے عین اُس جگہ پر بنایا گیا ہے، جہاں قدرتی طور پر کھڑی ایک بڑی اور مضبوط چٹان پھیلتی ہوئی دریا کے اندر تک چلی آتی ہے۔ یہ قلعہ بھی اُسی چٹان پر بنا ہے۔ دریا کا پانی سیدھا اس چٹان سے آ کر ٹکراتا ہے اور پھر اپنا […]
چترال کے پرانے نام اور شاہی قلعے

لواری ٹنل بننے سے ہمیں ایک نقصان یہ بھی ہوا کہ ہم جو زیارت میں رُک کر کھابا کھایا کرتے تھے۔ وہ عیاشی ختم ہوگئی ہے۔ کھابا کیا، بل کہ آپ اسے ’’کھابستان‘‘ کَہ سکتے ہیں، جسے بسایا کرتے تھے۔ وہ خوشگوار یادیں بھی اس ٹنل کی نذر ہوگئیں۔زیارت کے چھپر ہوٹلوں پر پہاڑی بکرے […]
لواری ٹنل، ترچ میر اور چھپر ہوٹل

لواری ٹنل دنیا کی شاید واحد ٹنل ہوگی جس میں سے موٹر سائیکل چلا کر نہیں لے جائی جاسکتی۔ اس کی لاجک میری ناقص سمجھ میں تو نہیں آئی۔ ہاں اسے کسی لوڈر گاڑی یا جیپ پر لوڈ کرکے کراس کیا جاسکتا ہے۔ لواری کے دونوں اطراف لوڈر گاڑیوں والوں کی موجیں لگی ہوئی ہیں۔ […]
پنجابی زبان: لہجے اور بولے جانے والے علاقے

کوئی زبان جتنے بڑے علاقے میں بولی جاتی ہو اور جتنے زیادہ لوگ اُس کے بولنے والے ہوں، اُس زبان کے معیاری یا مرکزی لہجے کے علاوہ اُس زبان کے ضمنی اور پھر اُس کے ذیلی لہجے بھی اُتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں۔ چوں کہ انگریزی، عربی، چینی اور ہندی دنیا کی سب سے بڑی […]
دیر شاہی مسجد اور لواری ٹنل

دیر کی شاہی مسجد پہاڑ کے اوپر جا کر آتی ہے۔ پرانے زمانے کے دوسرے حفاظتی نقطہ نظر سے بنے شہروں کی طرح دیر کا پرانا شہر بھی پہاڑ کے اوپر بنایا گیا تھا۔ ایسا حفاظتی نقطہ نگاہ سے کیا جاتا تھا۔ عام طور پر قلعہ جات ایسی جگہوں پر بنائے جاتے تھے، جو بقیہ […]
دیر تاریخ کے آئینے میں

دیر مجھے اس لیے پسند ہے کہ یہاں کا موسم مری جیسا ٹھنڈا میٹھا، خوش گوار اور بہت مزیدار ہوتا ہے۔ کیوں کہ یہ شہر بھی ایک پہاڑی پر بنایا گیا ہے، جو سرسبز و شاداب بھی ہے۔ اس میں پانی کے جھرنے بھی ہیں اور ایک ندی بھی یہیں سے گزر کر نیچے جا […]
چکدرہ قلعہ، تاریخی پُل اور دیر میوزیم
سوات موٹر وے، سرتور فقیر اور چرچل پکٹ

اچھی اور صاف ستھری سڑکیں فاصلوں کو سمیٹ کر خوش گوار بنا دیتی ہیں۔ راولپنڈی سے مینگورہ شریف تک جانے کے لیے ویگن پر 7 سے 8 گھنٹے تک کا تھکا دینے والا سفر درکار ہوتا تھا۔ جو اَب سوات موٹر وے بننے سے سمٹ کر 4 گھنٹے تک محیط ہو کر رہ گیا ہے۔ […]
مسکرائیے…… آپ مردان میں ہیں!

مردان میری جانمیرے ڈھول سانورےپہ خیر راغلے، پہ خیر راغلےمردان خوش دِل، خوش حال و خوش جمال لوگوں کا شہر ہے۔ آپ چاہے کتنے تھکے ماندے، پریشان حال اور دل گرفتہ ہوں، مردان کے ماتھے کا جھومر اوور ہیڈ پر لگا اشتہار ’’مسکرائیے…… آپ مردان میں ہیں!‘‘ایک بار تو آپ کو مسکرانے پر مجبور کر […]
شاہی قلعہ چترال

چترال کا ’’شاہی قلعہ‘‘ کھوار قوم کی تہذیب و تمدن اور سلطنتِ چترال کی عظمت رفتہ کا امین ہے۔ یہ شمال کی طرف پاکستان کا آخری ضلع ہے۔ تاجکستان اور چترال کے درمیان 10 سے 12 میل لمبی واخان کی پٹی حائل ہے۔ کسی زمانے میں واخان کوریڈور کا یہ علاقہ بھی ریاستِ چترال کا […]