سوئے سکردو (پہاڑوں کا عشق)

Blogger Khalid Hussain Borewala

ایک سفر وہ ہے جس میںپاؤں نہیں دل تھکتا ہےاور ایک سفر وہ ہے، جو مَیں مسلسل پچھلے 40 سال سے کرتا آ رہا ہوں کہ جس میں دل نہیں تھکتا، پاؤں تھک جاتے ہیں۔ اگرچہ اب جسم میں وہ طاقت اور وہ نیرنگیِ چال نہیں رہی، جو کبھی پہلے ہوا کرتی تھی۔ جسم اب […]

سوئے سکردو (ٹورسٹوں کی اقسام)

Blogger Khalid Hussain

سفر میں ہوتی ہے پہچان کون کیسا ہےیہ آرزو ہے … مرے ساتھ تو سفر کرتاقارئین! ٹورسٹوں کی تین بڑی اقسام ہوتی ہیں: پکے (آرلے)، کچے (پارلے) اور وچکارلے۔پکے ٹورسٹس وہ ہوتے ہیں، جو آندھی آئے یا طوفان، ہنیریاں جھلن یا ہو جائے سرسام، بے آرامی ہو یا ہو آرام، وہ موقع محل دیکھ کر […]

سوئے سکردو (چوٹیوں کے نگر میں)

Blogger Khalid Hussain Borewala

آدمی وقت پر گیا ہوگاوقت پہلے گزر گیا ہوگاپیدایش سے لے کر موت تک کی مہلت کو انسان زندگی سمجھ بیٹھا ہے۔ وقت کا دھارا چلتا رہتا ہے۔ کیلنڈر پر تاریخیں بدلتی رہتی ہیں۔ فطری توڑ پھوڑ جاری رہتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ فطرت کی رنگینیاں بھی اپنا رنگ جماتی رہتی ہیں۔ لوگ […]

سوئے سکردو (بارے راستے کا کچھ بیاں ہوجائے)

Blogger Khalid Hussain Borewala

سفر میں دھوپ تو ہو گی جو چل سکو تو چلوسبھی ہیں، بھیڑ ہے، تم بھی نکل سکو تو چلوعام طور پر ساٹھ سال کی عمر میں سرکاری ملازم کو ادارے ریٹائر کر دیا کرتے ہیں کہ ’’جا بابا، ہن گھر بہہ کے آرام کر……!‘‘ مگر پتا نہیں پہاڑوں کا یہ عشق کیسا روگ ہے […]

سوئے سکردو (ذکرِ ہم‌سفراں به پایاں رسید)

Blogger Khalid Hussain Borewala, Punjab

غمگین دہلوی کے بہ قولوہ لطف اُٹھائے گا سفر کاآپ اپنے میں جو سفر کرے گاعلی ارسلان جٹ ہمارے اس سفر میں ہمارے اگلے ساتھی تھے، جو پیدایشی بائیکر ہیں۔ ساری عمر لاہور میں رہ کر، لاہور کے گلیاں کوچے گھوم پھر کر اور لاہور میں بزنس کے ششکے لے لے کر گزار دی۔ ابھی […]

سوئے سکردو (قافلۂ ’باقی ماندہ‘ ہم سفراں)

Blogger Khalid Hussain

مسافرت کا ولولہ سیاحتوں کا مشغلہجو تم میں کچھ زیادہ ہے، سفر کرو سفر کرواس سفرِ لا حاصل میں ہمارے اگلے ساتھی ہمارے دو عدد پکے پریٹھے، بغیر جوڑ کے اور الگ الگ فقہ جات سے ہو کر بھی باہم جڑ جانے والی دو انتہائیں، دو مشرق مغرب، دو نونہہ سس، دو لڑاکو ہمسائیوں جیسی […]

سوئے سکردو (قافلۂ ہم سفراں)

Blogger Khalid Hussain Borewala

وہ جو کہتے ہیں کہ کوئی سفر لا حاصل نہیں ہوتا ہے۔ منزل ملے یا نہ ملے، منزل کی طرف جانے والے راستے بہت کچھ سکھا دیتے ہیں۔ہمارا اس سال (2025ء) کا سفر جانبِ سکردو تھا۔ سکردو خوابوں کی سرزمین ہے ۔ پریوں کا مسکن ہے۔ نیک سیرت، سادہ، بھلے مانس اور فرشتہ صفت لوگوں […]

سکردو کا سب سے خوب صورت گاؤں ’’کریس‘‘

Blogger Khalid Hussain

’’کریس‘‘ کا دل کش گاؤں، سکردو سے تقریباً 60 کلومیٹر آگے اور دریائے سندھ پر بنے ’’چھومدو پل‘‘ کو کراس کرکے آتا ہے۔ سکردو سے یہاں تک پہنچنے کے لیے تقریباً 2گھنٹے لگ جاتے ہیں۔یہ وہی مقام ہے، جہاں پر دریائے شیوک اوپر سے آ کر دریائے سندھ میں ملتا ہے۔چھومدو پل سے تھوڑا آگے […]

کیلاش کا مقدس پہاڑ

Blogger Khalid Hussain Borewala

کیلاش کا پہاڑ (21778فٹ)، تبت کے علاقے میں ہے، جو آج کل چین کے زیرِ تسلط ہے۔ ہندو مت، بدھ مت، جین مت اور بون مت کے چاروں مذاہب کے نزدیک یہ ایک مقدس پہاڑ ہے۔ اسی کے ساتھ جھیل مانسروور اور جھیل رکشاستل نام کی دو عدد بڑی جھیلیں بھی ہیں۔ مانسروور جھیل کا […]

پنجاب کا لوڑی تہوار کیا ہے؟

Blogger Khalid Hussain Borwala

’’لوڑی‘‘ کا تہوار پنجاب کی ثقافت سے جڑا تہوار ہے، جو ہر سال 13 جنوری یا اس کے قریب قریب، یکم ماگھ (پنجابی کیلنڈر کے 11ویں مہینا میں) منایا جاتا ہے۔ یہ سردیوں ( پوگ یا پوہ) کے اختتام اور بڑے اور کھلے دنوں کے آغاز کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔ بچے گھر گھر […]

وادئی شیشی کوہ (چترال)، فردوس است

Blogger Khalid Hussain Borewala

اوشو کہتا ہے کہ ہمیں یہ غلط بتایا گیا تھا کہ پہاڑ، جنگل، وادیاں اور کہکشاں خوب صورت ہیں، جب کہ اصل خوب صورت تو انسان ہے۔اوشو کی یہ بات ہمیں اُس وقت سچ لگی جب ہم وادئی شیشی کوہ کے مرکزی قصبے تار پہنچے۔ انسانوں سے محبت کیا ہوتی ہے، احترامِ آدمیت کی حد […]

دروش (چترال)، پالولہ/ شینا اور مختلف قومیں

Blogger Khalid Hussain

شاہی قلعہ نگر، دریائے چترال کے کنارے عین اُس جگہ پر بنایا گیا ہے، جہاں قدرتی طور پر کھڑی ایک بڑی اور مضبوط چٹان پھیلتی ہوئی دریا کے اندر تک چلی آتی ہے۔ یہ قلعہ بھی اُسی چٹان پر بنا ہے۔ دریا کا پانی سیدھا اس چٹان سے آ کر ٹکراتا ہے اور پھر اپنا […]

چترال کے پرانے نام اور شاہی قلعے

Blogger Khalid Hussain

لواری ٹنل بننے سے ہمیں ایک نقصان یہ بھی ہوا کہ ہم جو زیارت میں رُک کر کھابا کھایا کرتے تھے۔ وہ عیاشی ختم ہوگئی ہے۔ کھابا کیا، بل کہ آپ اسے ’’کھابستان‘‘ کَہ سکتے ہیں، جسے بسایا کرتے تھے۔ وہ خوشگوار یادیں بھی اس ٹنل کی نذر ہوگئیں۔زیارت کے چھپر ہوٹلوں پر پہاڑی بکرے […]

لواری ٹنل، ترچ میر اور چھپر ہوٹل

Blogger Khalid Hussain

لواری ٹنل دنیا کی شاید واحد ٹنل ہوگی جس میں سے موٹر سائیکل چلا کر نہیں لے جائی جاسکتی۔ اس کی لاجک میری ناقص سمجھ میں تو نہیں آئی۔ ہاں اسے کسی لوڈر گاڑی یا جیپ پر لوڈ کرکے کراس کیا جاسکتا ہے۔ لواری کے دونوں اطراف لوڈر گاڑیوں والوں کی موجیں لگی ہوئی ہیں۔ […]

پنجابی زبان: لہجے اور بولے جانے والے علاقے

Blogger Khalid Hussain

کوئی زبان جتنے بڑے علاقے میں بولی جاتی ہو اور جتنے زیادہ لوگ اُس کے بولنے والے ہوں، اُس زبان کے معیاری یا مرکزی لہجے کے علاوہ اُس زبان کے ضمنی اور پھر اُس کے ذیلی لہجے بھی اُتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں۔ چوں کہ انگریزی، عربی، چینی اور ہندی دنیا کی سب سے بڑی […]

دیر شاہی مسجد اور لواری ٹنل

Blogger Khalid Hussain Borewala

دیر کی شاہی مسجد پہاڑ کے اوپر جا کر آتی ہے۔ پرانے زمانے کے دوسرے حفاظتی نقطہ نظر سے بنے شہروں کی طرح دیر کا پرانا شہر بھی پہاڑ کے اوپر بنایا گیا تھا۔ ایسا حفاظتی نقطہ نگاہ سے کیا جاتا تھا۔ عام طور پر قلعہ جات ایسی جگہوں پر بنائے جاتے تھے، جو بقیہ […]

دیر تاریخ کے آئینے میں

Blogger Khalid Hussain Borewala Punjab

دیر مجھے اس لیے پسند ہے کہ یہاں کا موسم مری جیسا ٹھنڈا میٹھا، خوش گوار اور بہت مزیدار ہوتا ہے۔ کیوں کہ یہ شہر بھی ایک پہاڑی پر بنایا گیا ہے، جو سرسبز و شاداب بھی ہے۔ اس میں پانی کے جھرنے بھی ہیں اور ایک ندی بھی یہیں سے گزر کر نیچے جا […]

سوات موٹر وے، سرتور فقیر اور چرچل پکٹ

Blogger Khalid Hussain Borewala Punjab

اچھی اور صاف ستھری سڑکیں فاصلوں کو سمیٹ کر خوش گوار بنا دیتی ہیں۔ راولپنڈی سے مینگورہ شریف تک جانے کے لیے ویگن پر 7 سے 8 گھنٹے تک کا تھکا دینے والا سفر درکار ہوتا تھا۔ جو اَب سوات موٹر وے بننے سے سمٹ کر 4 گھنٹے تک محیط ہو کر رہ گیا ہے۔ […]

مسکرائیے…… آپ مردان میں ہیں!

Blogger Khalid Hussain Borewala

مردان میری جانمیرے ڈھول سانورےپہ خیر راغلے، پہ خیر راغلےمردان خوش دِل، خوش حال و خوش جمال لوگوں کا شہر ہے۔ آپ چاہے کتنے تھکے ماندے، پریشان حال اور دل گرفتہ ہوں، مردان کے ماتھے کا جھومر اوور ہیڈ پر لگا اشتہار ’’مسکرائیے…… آپ مردان میں ہیں!‘‘ایک بار تو آپ کو مسکرانے پر مجبور کر […]

شاہی قلعہ چترال

Blogger Khalid Hussain Borewala Punjab

چترال کا ’’شاہی قلعہ‘‘ کھوار قوم کی تہذیب و تمدن اور سلطنتِ چترال کی عظمت رفتہ کا امین ہے۔ یہ شمال کی طرف پاکستان کا آخری ضلع ہے۔ تاجکستان اور چترال کے درمیان 10 سے 12 میل لمبی واخان کی پٹی حائل ہے۔ کسی زمانے میں واخان کوریڈور کا یہ علاقہ بھی ریاستِ چترال کا […]