جنگلات کی آگ اور ہماری ذمے داریاں

Blogger Afzal Shah Bacha

آج کل ایک طرف شدید گرمی ہے، جب کہ دوسری طرف آس پاس کے پہاڑوں اور جنگلات میں جان بوجھ کر آگ لگائی جارہی ہے، جو ایک بہت بڑے نقصان کا باعث بنتا ہے۔ آج (4 جولائی 2026) بھی دوبارہ صبح سے نجیگرام کے جنگل میں آگ لگی ہوئی ہے، جب کہ پرسوں بھی آگ بڑھک اُٹھی تھی، لیکن خوش قسمتی سے بارش کی وجہ سے بجھ گئی تھی۔
وادیِ نجیگرام زیریں سوات میں واحد علاقہ ہے، جہاں پر پچھلے پچاس سال سے ہمارے بڑوں نے جنگل کاٹنے پر پابندی لگائی ہے، جس کی بہ دولت آج ہمارے گاوں میں جنگلات کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات بھی باقی ہے۔ یہ صرف اور صرف ہمارے گاؤں کے بڑوں اور نوجوانوں کے اتفاق، ہمت، دلیری اور مُثبت سوچ کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔نہیں تو محکمۂ جنگلات کی کتابوں اور ریکارڈ میں آج بھی ایلم اور کڑاکڑ کے کمپارٹ پائین کے جنگل سے بھرے ہیں اور برسرِ زمین حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اگر ہم بھی فارسٹ کی مداخلت مانتے، تو یہ جنگل بھی کاغذوں ہی موجود ہوتا۔
آج بھی ہمارے جنگلات میں مرغِ زرین کے ساتھ ساتھ ہر قسم کے پرندے اور ایک اندازے کے مطابق ہزاروں بندر پائے جاتے ہیں۔ ہماری وادی میں میڈیسنل پلانٹس کے ساتھ  ساتھ انتہائی قیمتی پودے بھی ملتے ہیں۔
اب اگر آگ لگنے کی وجوہات پر بات کریں، تو دو واضح وجوہات ہمارے سامنے ہیں:
ایک وجہ ’’انسانی‘‘ ہے، جب کہ دوسری قدرتی۔
انسان کی جلائی ہوئی آگ کی کئی اقسام ہیں، جیسے ڈائریکٹ درخت یا گھاس پوس کو دیا سلائی دکھانے کے بعد آگ بے قابو ہوجاتی ہے۔ گرمی میں آگ اس لیے زیادہ خطرناک ہوتی ہے کہ آس پاس پڑی لکڑیاں یا گھاس سوکھ گئی ہوتی ہے، جس میں آسانی سے شعلہ بھڑکتا ہے۔
ہمارے پہاڑوں میں اکثر انسانی غلطی کی وجہ سے آگ پھیلتی ہے، جیسے بچے کھیل رہے ہوتے ہیں، یا ایک چھوٹی سی جگہ آگ روشن کرنا مقصود ہوتا ہے کھانا پکانے کی غرض سے۔بعد میں وہ آگ پھیل کر تباہی مچا دیتی ہے۔
اس طرح بعض اوقات آسمانی  بجلی گرنے سے بھی پہاڑ اور جنگل میں فوراً آگ لگ جاتی ہے اور تباہی ہمارا مقدر بنتی ہے۔
اکثر کوئلہ بنانے کے لیے درخت کاٹ کر بھی آگ لگائی جاتی ہے، جو بعد میں بے قابو ہوکر جنگل کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ہمارے پہاڑوں میں رہنے والے بھیڑ بکری چرانے والے اگلے سال کے لیے  اچھی گھاس کرنے کی لالچ  میں بھی پہاڑ اور جنگل کے ایک حصے کو آگ لگاتے ہیں۔ اس قسم کی آگ اکثر دیکھی جاتی ہے۔ چراہ گاہوں اور جنگلات کی اپنی اپنی حدود ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے اکثر دُشمنی، بغض اور حسد کے لیے ایک دوسرے کی چراہ گاہ میں آگ لگائی جاتی ہے۔
آگ لگنے کی دوسری وجوہات بھی ہیں، جیسے شورش میں فوج کی گولہ باری سے ہمارے گاؤں نجیگرام اور دیگر علاقوں کے جنگلات میں آگ لگی تھی اور اچھی خاصی تباہی ہوئی تھی۔ آج بھی لوگ جب ہوائی فائرنگ یا نشانہ بازی کے لیے فائر کرتے ہیں، تو اس سے بھی آگ لگ جاتی ہے۔ اپنے ہاتھ سے درختوں کو آگ لگانے کے بعد فائرنگ ہی جنگلات میں آگ لگنے کی دوسری بڑی وجہ ہے۔
اس کے علاوہ آتش بازی اور غیر ضروری طور پر کھانا پکانا یا سردی سے بچنے کے لیے آگ روشن کرنا بھی جنگلات میں آگ لگنے کے اسباب ہیں۔
برسبیل تذکرہ، مَیں نے عرب ممالک میں زیادہ گرمی کی وجہ سے درختوں میں آگ لگنے کا عمل خود دیکھا ہے، لیکن ایسا ہمارے علاقے میں ممکن نہیں۔ والیِ سوات کے دور میں جب کبھی پہاڑوں اور جنگلوں میں آگ لگ جاتی، تو نقارہ بجایا جاتا، لوگوں کو والیِ سوات کا حکم پڑھ کر سنایا جاتا کہ گاؤں میں جو آگ لگی ہے، اس کو بُجھانے کے لیے سب لوگ تیار ہوکر پہاڑوں پر  جائیں۔ سبھی گاوؤں کی اپنی اپنی حدود ہیں، جو شیخ ملی کی تقسیم کے مطابق لوگوں کو ملے ہیں۔ عام طور پر مشترکہ جنگل اور چراہ گاہ کی حدود معلوم ہوتی ہیں، بل کہ اب بھی ’’دوتر‘‘ کے مالکان کو کھیتوں کے ساتھ ساتھ  جنگلات میں بھی مالکانہ حقوق حاصل ہیں۔
ساٹھ کی دہائی میں ہمارے گاؤں کے کچھ لوگ آگ بُجھانے کے دوران میں آگ کی زد میں آکر فوت اور زخمی ہوئے تھے۔ چوں کہ ریاستِ سوات کے حکم ران، سوات کے وسائل کو اپناسمجھتے تھے، اس لیے جنگلات کے تحفظ کے لیے جو قوانین بنائے تھے، اُن پر سختی سے عمل بھی کراتے تھے۔ اس لیے اُس وقت جنگل اور دریا نسبتاً زیادہ محفوظ تھے۔
والیِ سوات کے دور میں زیتون، ’’گورگورہ‘‘ اور اس قسم کے دیگر درخت کاٹنے پر پابندی تھی۔ اس کے ساتھ سڑکوں کے کنارے انواع و اقسام کے درخت لگائے جاتے تھے۔ مرغزار روڈکے دونوں طرف اخروٹ کے درخت سب کو یاد ہوں گے۔ غالیگے سے بریکوٹ تک سڑک کے دونوں کنارے لگے درخت تو ابھی کل پرسوں کی بات ہے، جنھیں ایم ایم اے (متحدہ مجلس عمل) دور میں یہ کَہ کر کاٹا گیا کہ یہ پُرانے ہوگئے ہیں اور ایکسیڈنٹ کے خطرات ہیں۔ لہٰذا ان کو کاٹ کر نئے درخت لگائیں گے۔
درخت کٹ گئے۔ یوں بندر کےساتھ سو گز رسی بھی گئی کے مصداق اب لوگوں نے اُن جگہوں پر اپنی دکانیں، مکانات اور پلازے تعمیر کردیے ہیں۔ یہ ہے ہمارے اداروں کی کاکردگی۔ درختوں کا یہ افسوس ناک انجام سوات کی ہر سڑک اور ہر سرکاری عمارت میں دیکھنے کو ملے گا۔
سوات کی ریاست ختم ہونے کے فوراً بعد لوگوں نے پہلے اُن درختوں کو کاٹنا شروع کیا، جن پر پابندی تھی۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ پہاڑوں پر درخت ہیں اور نہ روڈ کے کناروں پر۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج سوات میں آگ برس رہی ہے۔ معمولی بارش سیلاب کا ذریعہ بنتی ہے۔ اب بندہ جائے، تو کہاں جائے…!
قارئین! اب آتے ہیں اس اہم نکتے کی طرف کہ ہم اپنے جنگلات کو آگ اور غیر قانونی کٹائی سے کیسے روک سکتے ہیں؟
قانون پر سختی سے عمل در آمد کے بغیر یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے جنگلات کو بچاسکیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ پچھلے سال اسی طرح تحصیل بریکوٹ میں کئی مرتبہ آگ لگائی جا رہی تھی۔ ہم نے سوشل میڈیا پر اپیلیں کیں کہ ذمے داورں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، لیکن کوئی مُثبت نتیجہ دیکھنے کو نہ ملا۔ آج کل ہمارے سول بیوروکریسی آن لائن کھلی کچہری کرنے میں لگی رہتی ہے۔ مَیں نے آن لائن کھلی کچہری میں آگ لگانے کے نقصانات اور اس میں ملوث لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا، تو موصوف ڈی صاحب نے اے سی بریکوٹ صاحبہ کو اتنا کہا کہ آگ لگانا اچھا کام نہیں۔ اس لیے ملوث لوگوں کو کنونینس کریں کہ یہ واقعی اچھا کام نہیں اور آیندہ آگ نہ لگائی جائے۔
اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ہماری انتظامیہ قانونی کارروائی  کی بہ جائے تبلیغی راستہ اختیار کرتی رہے گی۔ یہ کام تو مسجدوں میں ہر جمعہ کو ہوتا ہے، تو پھر انتظامیہ کی کیا ضرورت ہے، جو لاکھوں کی تن خواہوں کے ساتھ دیگر ڈھیر ساری مراعات لیتی ہے۔ بندہ حیران رہ جاتا ہے کہ کیسے کیسے بادشاہ اور شہزادے حکومت میں بیھٹے ہیں۔ کیسے عجیب عجیب لوگوں سے واسطہ پڑ رہا ہے۔
آگ لگانے والوں کا پتا لگانا کوئی راکٹ سائنس نہیں۔ جہاں پر آگ لگ جاتی ہے، وہاں کے رہنے والے اس کے ذمے دار ہوتے ہیں، یا ذمے داروں کی کم از کم نشان دہی تو کر ہی سکتے ہیں۔ ایسا کیسے ممکن ہے کہ کسی کے گھر کے نزدیک آگ لگے اور اس کو خبر ہی نہ ہو۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئی جان بوجھ کر ان عناصرکی  پشت پناہی کررہا ہے۔حکومت کی فوری قانونی کارروائی اور ملوث افرادسے تاوان وصول کرنا ہی دوبارہ آگ نہ لگنے کی ضمانت ہے۔ اگر کوئی سیاسی یا دیگر لوگ ایسے عناصر کی سفارش یا ضمانت کریں، تو اُن کو بھی شاملِ تفتیش کیا جانا چاہیے۔
کیا محکمۂ جنگلات بتاسکتا ہے کہ کب جنگل میں آگ لگی تھی اور ادارے نے کس کے خلاف پرچہ یا تحقیقات کے لیے پولیس کی مدد لی ہے؟
ہم سب سوات کے لوگوں کے لیے ایک ہی راستہ بچا ہے کہ گاؤں کے لوگ متفقہ طور پر اپنے  جنگلات کی حفاظت خود کریں، نہ کہ انھیں محکمۂ جنگلات کے کرپٹ اہل کاروں کے  رحم و کرم پر چھوڑ دیں۔
گلوبل وارمنگ کے نقصانات کو کم کرنے کے لیے یہ ضروری ہے  کہ موجودہ جنگلات کو بچانے کے ساتھ ساتھ نئے درخت لگائے جائیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ پہلے زمانے میں لوگ سایے کے لیے چنار، توت، پیپل اور بہت سارے دوسرے سایہ دار درخت لگایا کرتے تھے۔ ایک طرف ان کی لکڑی ایندھن کے لیے استعمال کی جاتی تھی،تو دوسری طرف گرمیوں میں سایے کے لیے بھی بہترین بندوبست ہوتا تھا۔ آج کل لوگوں نے درخت لگانا چھوڑ دیا ہے۔ نتیجتاً تباہی اور نقصانات ہمارا مقدر ہیں۔
فارسٹ کا ادارہ بھی عجیب ہے، سوات کی سڑکوں کے دونوں کناروں پر درخت لگے تھے۔ لوگوں نے نہ صرف درخت کاٹے، بل کہ فارسٹ، این ایچ اے اور دیگر محکموں کی ملکیتی زمینیں بھی قبضہ کرکے اپنے گھر، دکانیں، مارکٹیں وغیرہ بنا دیں۔
بریکوٹ سے ہمارے گاؤں (نجیگرام) تک سڑک کے کنارے دونوں طرف درخت لگے تھے۔ روڈ کے کنارے نالہ تھا۔ نالے کے بعد درخت اور اس کے بعد کسی کی ملکیت تھی۔ آج اُسی روڈ پر گھر بناکر لوگ پانی سیدھا روڈ پر چھوڑ رہے ہیں۔ کوئی پرسانِ حال نہیں۔ لوگوں نے اپنی سیاست کو بچانے کے لیے آنکھیں بند کرلی ہیں۔ انتظامیہ پتا نہیں کیوں اپنی ذمے داریوں سے چشم پوشی کررہی ہے۔
انتظامیہ کو فوری طور پر روڈ کی حدود معلوم کرکے دوبارہ درخت لگانے چاہئیں۔ روڈ کی حدود کے ساتھ ساتھ ندی نالوں کو لوگوں نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ محکمۂ جنگلات کی زمینوں پر قبضہ کرکے نئی نئی بستیاں بن رہی ہیں۔ سُنا ہے کہ متعلقہ اہل کار پیسے لے کر آنکھیں بند کردیتے ہیں۔ اس لیے پہاڑوں کے کنارے آباد لوگ سرکاری زمینیں اونے پونے بیچ رہے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔
پچھلے سال شجرکاری کے موسم میں ہمارے اے سی بریکوٹ کے بنگلے کے اردگرد درخت لگانے سے سکول کے بچوں نے شجرکاری مہم کا آغاز کیا تھا۔ ہمارے اے سی نے اس عمل کا باقاعدہ افتتاح کیا تھا۔ یہ ہمارے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ سرکار کے اہل کاروں کی فوج ظفر موج کے باوجود اس نئے لگائے ہوئے درختوں کو پانی تک نہ دیا جاسکا۔ آج بھی اُدھر سےگزرنا ہوتا ہے، تو سوکھے ہوئے پودے ہمارے بے بسی پر نوحہ کناں دکھائی دیتے ہیں۔
جب افتتاح ہو رہا تھا، تو ہماری صحافی برادری انٹرویوز لینے میں مصروف تھی اور اپنے اپنے چینل کی ریٹنگ بڑھانے کے لیے پُرجوش تھی۔ آج کسی میں یہ ہمت نہیں کہ مذکورہ مردہ درختوں کی کوئی ایک تصویرہی سوشل میڈیا پر شئیرکرے، تاکہ پتا چلے کہ بریکوٹ میں صحافت ابھی زندہ ہے۔ہم اگر اپنے سکولوں، کالجوں، گھروں، حجروں اور سرکاری بنگلوں کی حدود میں درختوں کو پانی تک نہیں دے سکتے، تو پہاڑوں اور جنگلوں کی حفاظت کس طرح ممکن بنائیں گے؟
ماحول کی بہتری اور حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ اس سے پہلو تہی اپنی بربادی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے