بلدیاتی نظام: تاریخ، تجربات یا سنگین مذاق

Blogger Hazir Gul

خیبر پختونخوا، جو کبھی شمال مغربی سرحدی صوبہ کہلاتا تھا، میں بلدیاتی نظام کی تاریخ تقریباً ایک صدی پر محیط ہے۔ یہ تاریخ محض قوانین کی تبدیلی کی داستان نہیں، بل کہ سیاسی مصلحتوں، انتظامی ناکامیوں، وسائل کے ضیاع اور عوامی محرومیوں کی مکمل روداد ہے۔ برطانوی دور میں 1922 کے مقامی حکومت قانون کے تحت ضلع بورڈ اور میونسپل کمیٹیاں قائم کی گئیں۔ مقصد یہ بتایا گیا کہ عوام کو اپنے مسائل کے حل میں شریک کیا جائے، مگر اختیار حسبِ معمول ڈپٹی کمشنر کے ہاتھ میں رہا۔ یوں بلدیاتی ادارے وجود میں تو آگئے، مگر روح سے خالی رہے۔
1958 میں جنرل ایوب خان نے بنیادی جمہوریتوں کا نظام متعارف کروایا۔ یہ پاکستان میں مقامی حکومت کا پہلا منظم ڈھانچا تھا۔ یونین کونسلوں سے لے کر ضلع کونسلوں تک نمایندے منتخب ہوئے، مگر جلد ہی واضح ہوگیا کہ اس نظام کا اصل مقصد عوامی خدمت سے زیادہ اقتدار کے لیے سیاسی بنیاد مضبوط کرنا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مقامی نمایندے عوام کے نہیں، بل کہ حکم رانوں کے انتخابی ستون بن گئے۔
1979 میں جنرل ضیاء الحق نے نیا بلدیاتی نظام نافذ کیا۔ دوسری طرف سیاسی جماعتوں کو اس عمل سے باہر رکھا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نظریاتی سیاست کی جگہ برادری، اثر رسوخ اور ذاتی تعلقات نے لے لی۔ اُس دور میں بلدیاتی ادارے عوامی خدمت سے زیادہ مقامی طاقت کے مراکز بنتے گئے۔
پھر 2001 میں جنرل پرویز مشرف نے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے نام پر ایک وسیع بلدیاتی نظام نافذ کیا۔ ضلع ناظم، تحصیل ناظم اور یونین کونسل ناظم کا ماڈل لایا گیا۔ بہ ظاہر یہ ایک انقلابی قدم تھا، مگر اس کے ساتھ ترقیاتی فنڈز کی سیاست بھی اپنے عروج پر پہنچی۔ گلیاں، نالیاں، کھمبے، ٹف ٹائلز، پلاسٹک پائپ اور نیم پختہ سڑکیں ہی ترقی کا معیار بن گئیں۔ اربوں روپے خرچ ہوئے، مگر اکثر منصوبے چند موسموں سے زیادہ نہ چل سکے۔
2013 میں خیبر پختونخوا میں نیا بلدیاتی قانون آیا، جس کے تحت ’’ویلج کونسل‘‘ اور ’’نیبرہڈ کونسل‘‘ کا نظام قائم کیا گیا۔ اسے اختیارات کی مزید تقسیم کہا گیا۔ درحقیقت نمایندوں کی تعداد تو بڑھ گئی، مگر وسائل سکڑ کر رہ گئے۔ جوں جوں اخراجات بڑھتے گئے، توں توں ترقیاتی کام کاغذوں کی حد تک محدود ہوتے گئے۔
پھر 2021 میں ایک اور نیا قانون آیا، جس کے تحت ضلع کی سطح ختم کرکے تحصیل کو بنیادی اکائی بنا دیا گیا۔ دلیل یہ دی گئی کہ اس سے نظام سادہ اور کم خرچ ہوگا، مگر ہوا اس کے برعکس۔ رابطہ کم زور ہوا، منصوبہ بندی بکھر گئی اور نچلی سطح کے نمایندے مزید بے اختیار ہوگئے۔
مَیں خود گذشتہ بلدیاتی انتخابات میں جنرل کونسلر کے طور پر منتخب ہوا۔ یہ فیصلہ اس اُمید پر کیا تھا کہ شاید اس بار ماضی کے برعکس منصوبہ بندی کے ساتھ کام ہوگا۔ ہمیشہ یہی شکوہ سنتے آئے تھے کہ ترقیاتی وسائل اقربا پروری، ذاتی تعلقات اور غیر ضروری منصوبوں کی نذر ہو جاتے ہیں۔ سوچا کہ خود اس نظام کا حصہ بن کر شاید اس رویے کو بدل ڈالیں، لیکن حقیقت میری سوچ سے کہیں زیادہ تلخ نکلی۔
ہماری مدت کل یعنی 20 جون 2026 کو ختم ہوگئی۔ چار سال کے اس لمبے عرصے میں اجلاس باقاعدگی سے ہوتے رہے، قراردادیں پیش ہوتی رہیں، مسائل زیرِ بحث آتے رہے، دست خط بھی ہوتے رہے اور کاروائیاں بھی مکمل ہوتی رہیں… مگر عملی صورتِ حال یہ رہی کہ چیئرین کے اعزازیے، سیکرٹری کی تن خواہ، خاک روبوں کی اُجرت، ایک چپڑاسی کے اخراجات اور دفتری ضروریات کے علاوہ ترقیاتی کاموں کے لیے ایک روپیا تک نہیں ملا۔
صوبے بھر کے ناظمین نے علی امین خان گنڈا پور کے دورِ حکومت میں پشاور میں احتجاج کیا، تاکہ ترقیاتی فنڈز لائے جاسکیں، تاہم چیرمین صاحبان کے لیے 30 ہزار کا معاوضہ مقرر ہوتے ہی یہ احتجاج غیر مشروط طور پر ختم کیا گیا۔
مزید دل چسپ بات یہ ہے کہ کونسلر کے طور پر میرے لیے فی اجلاس 100 روپے اعزازیہ مقرر تھا۔ ایک عرصے تک اجلاس مسلسل ہوتے رہے، مگر اعزازیہ صرف 3 اجلاسوں کا ملا۔ یوں 4 سالہ نمایندگی کے بدلے مجموعی طور پر 300 روپے میرے حصے میں آئے۔ اس خطیر رقم کے حصول کے لیے 3 الگ الگ کاغذوں پر دست خط کیے۔ جب رقم ملی، تو دل نے گوارا نہ کیا کہ اتنی خطیر رقم اپنے پاس رکھوں، سو رقم ویلیج کونسل کے خاک روبوں میں برابر تقسیم کر دی۔ یوں میری 4 سالہ عوامی خدمت کا مالی حاصل 300 روپے نکلا۔ اگر یہی رفتار رہی، تو شاید اگلی مدت کے اختتام تک ایک کپ چائے کی قیمت پوری ہو جاتی۔
یہ صرف میرا قصہ نہیں، پورے صوبے کے ہزاروں منتخب نمایندوں کی مشترکہ کہانی ہے۔
اصل المیہ یہ ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت نے بلدیاتی اداروں کو عملاً یتیم چھوڑ دیا ہے۔ انتخابات کروا دیے گئے، نمایندے منتخب ہوگئے، مگر وسائل دیے گئے، نہ اختیارات اور نہ ترقیاتی فنڈز ہی دیے گئے۔ گویا حکومت نے عوامی نمایندگی کا ایک ڈھانچا تو بنا دیا، مگر اس میں جان ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف آئینی ذمے داری سے فرار ہے، بل کہ جمہوریت کے بنیادی تصور کے ساتھ بھی مذاق ہے۔ اگر مقامی حکومتیں صرف نام کی ہوں، اُن کے پاس وسائل نہ ہوں اور وہ عوامی مسائل کے حل کے بہ جائے صرف تن خواہوں اور دفتری اخراجات تک محدود رہیں، تو یہ نظام عوامی خدمت نہیں، بل کہ قومی وسائل کے ضیاع کا ایک منظم طریقہ بن جاتا ہے۔
اس نظام کو چلانے کے لیے 42 ہزار 212 سیکرٹریز، تقریباً اتنے ہی دفاتر اور مددگار عملہ کے لیے ہر مہینے کروڑوں روپے درکار ہوتے ہیں۔ صوبائی حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا وہ واقعی اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا چاہتی ہے، یا صرف انتخابات کراکے جمہوریت کا فرض پورا سمجھتی ہے؟ کیوں کہ اگر مقامی حکومتوں کو مسلسل بے اختیار رکھا گیا، تو آنے والی نسلیں بلدیاتی نظام کو جمہوریت کا ستون نہیں، بل کہ سرکاری لطیفہ سمجھیں گی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے