اپنے آخری جنم دن پر چے گویرا (Che Guevara) اپنی ’’ڈائری‘‘ میں لکھتا ہے: مَیں اُنتالیس (39) برس کا ہو گیا ہوں۔ اب وہ عمر آرہی ہے، جب مجھے گوریلا کی حیثیت سے مستقبل کی فکر کرنا پڑے گی۔ تاہم ابھی تک میں تن درست اور چاق و چوبند ہوں۔
14 جون 1928ء کو ارجنٹینا کے ایک مشہور شہر وساریو میں رات کے وقت ایک عظیم انقلابی کی پیدایش ہوتی ہے۔ 2 سال کی عمر میں دَمہ کا مرض لاحق ہوتا ہے۔ والدین ساری ساری رات جاگ کر گزارتے ہیں۔ بچے کو سانس لینے میں اتنی مشکل پیش آتی کہ ڈاکٹر کہتے جان بچانے کے لیے ایک آخری حربہ ہجرت ہے۔ شاید آب وہوا کی تبدیلی سے بچے کو کچھ اِفاقہ ہو۔
خاندان ’’آلٹا گریسا‘‘ (Alta Gracia) کی طرف ہجرت کر جاتا ہے۔ بچے میں صحت کے کچھ آثار نظر آنے لگتے ہیں۔ جوں جوں عمر بڑھتی ہے، مرض میں کمی آنا شروع ہو جاتی ہے۔ جوانی میں یہ مرض آدھا رِہ جاتا ہے۔
دیگر متعلقہ مضامین:
چے گویرا  
دنیا کی مشہور شخصیات میں سے ایک، چی گویرا
’’چے گویرا‘‘ نے تعلیم و دیگر مشاغل کے ساتھ جو ایک خواب دیکھا، وہ موٹر سائیکل پر پوری دنیا کا سفر کرنے کا تھا۔ اِس کی تکمیل کے لیے 1951ء میں بحرالکاہل کے ساتھ سفر بھی شروع کیا۔ چلی کے مختلف شہروں تک بھی پہنچا۔ تعلیم کا سلسلہ 1955ء میں مکمل کیا اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ فوج میں بھرتی کے لیے نااہل قرار دیا جاتا ہے، لیکن چے گویرا پھر اپنے آپ کو دنیا کے چند بہترین گوریلا جنگجو کے طور پر منواتا ہے۔
جد و جہد سے بھرپور زندگی گزارتے ہوئے اپنی زندگی کے آخری دن بھی زخمی حالت میں لڑتا رہا۔ ٹانگوں میں اتنے شدید زخم آئے کہ چلنا بھی مشکل ہوگیا۔ بولیویا میں پھر آخری سانس لی اور مزاحمت کا استعارہ، ایک خوب صورت پھول اپنی خوش بو چھوڑ کے رخصت ہوگیا۔
’’چے گویرا کی ڈائری‘‘ کے نام سے ایک کتاب زندگی کے آخری ایام کے متعلق معلومات فراہم کرتی ہے۔
اس طرح ’’گوریلا جنگ‘‘ کے نام سے ایک کتاب میں چے گویرا نے جنگی حکمت عملی پر روشنی ڈالی ہے۔
ایک بہادر شخص کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے اُس کی کتاب لازمی زیرِ مطالعہ ہونی چاہیے، تاکہ ایک نڈر اور بے باک شخص سے اُس کی کتاب کے ذریعے ملاقات ہو۔
’’موت جہاں بھی مجھے آلے ، میں مسکرا کر اُس کا استقبال کروں گا۔‘‘ (چے گویرا)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔