ایک صفحہ اریل سٹئین (Aurel Stein) کی کتاب "On Alexander’s Track to Indus” یعنی ’’دریائے سندھ تک سکندر اعظم کے راستے پر‘‘ سے لیتے ہیں۔ یہ سفر انھوں نے 1925ء میں کیا تھا۔
اس صفحے اور اس سے اگلے صفحوں کی رُو سے یہاں توروال میں اونی کمبل بنائے جاتے تھے جو کہ پورے ہندوستان میں ’’سواتی رگ‘‘ کے نام سے مشہور تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ زیادہ تر ایسے کمبل چیل وادی میں بنائے جاتے تھے، لیکن توروال کے دوسرے علاقوں کے بارے میں بھی سٹئین ایسی باتیں کرتے ہیں۔
زبیر توروالی کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/zubair-torwali/
سٹئین کاروندوکے تک گیا تھا۔ بالاکوٹ میں بھی رُکا تھا اور اس نے عید یہاں برانیال (بحرین) میں منائی تھی۔ اس کے ساتھ تانگیر اور داریل کا راجا شاہ عالم بھی تھا، جو توروالی سمیت کئی داردی زبانوں کو سمجھتا تھا۔
پتا نہیں ہماری اس صنعت کو کیا ہوا؟ اگر موجود ہوتی، تو مقامی معیشت کے لیے بہت مفید ہوتی۔
اریل سٹئین نے سوات کوہستان کو توروال لکھا ہے اور چورڑئی (موجودہ مدین) کو توروال کا حصہ قرار دیا ہے۔ مدین میں بھی اُس نے رات گزاری ہے اور یہاں بھی جارج گرئریسن کی کتاب توروالی کے لیے مواد اکٹھا کیا ہے ۔
دوسری اہم بات ارل سٹئین چورڑئی اور خاص کر بحرین میں گھروں پر لکڑی کے کام کا ذکر کرتا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ پورے داردستان اور نورستان میں توروال کا لکڑی والا نقش و نگار واضح اور منفرد ہے۔ وہ اس کا مقابلہ چین کے صوبے سنکیانگ کے صحرائے تکلمکان کے علاقے نِیا (Niya) سے کرتے ہیں، جہاں نِیا (Niya) زبان بولی جاتی ہے جو کہ گندھاری زبان کا ایک لہجہ ہے۔ اس کا رشتہ سارے داردی زبانوں سے ہے، مگر توروالی اس کے قریب تر ہے۔
لکڑی کا یہ کام اَب ناپید ہوچکا ہے اور لے دے کے ہمارے پاس ایک فراموش اور محمد سردار لالا کا دیرہ رہ چکا ہے۔ اس کو قومی ورثہ قرار دے کر محفوظ کیے جانے کی ضرورت ہے۔
اریل سٹئین اس وقت کے برانیال یعنی ہمارے بحرین کے گام والے حصے کو طرزِتعمیر کا ایک اچھا نمونا بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ یہاں گھر لوگوں نے ایک خاص سلیقے سے بنائے ہیں اور ایک گھر سے دوسرے کی چھت کو راستہ ہے۔ یہ گھر لکڑی کی نقش کاری سے مزین ہیں اور کافی حد تک ایک ٹاؤن کے طرز پر بنائے گئے۔
معذرت کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آج کے گام کی وہ صورت رہی اور نہ وہ صفائی و ستھرائی۔ مَیں جب بھی ان گلیوں سے گزرتا ہوں، تو خیال آتا ہے کہ یہاں ڈھیر سارا کام کرنے کی ضرورت ہے، تاہم یہ کون کرسکتا ہے……! سوال جواب طلب ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔