’’کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے‘‘ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں عام انتخابات کے سلسلے میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل کیا جائے گا اور ان دونوں صوبوں میں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات دی گئی مدت کے اندر ہی ہوں گے۔
رفیع صحرائی کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/rafi/
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے اس سلسلے میں صدرِ مملکت کو خط لکھ کر 30 اپریل سے 7 مئی کے دوران میں پنجاب میں انتخابات کرانے کی تجویز دی ہے، جس پر صدرِ مملکت نے صوبہ پنجاب میں 30 اپریل 2023ء کو صوبائی اسمبلی کے انتخابات کرانے کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے ایسا ہی ایک خط گورنر خیبر پختونخوا جناب غلام علی کو بھی لکھا ہے جس میں ان سے صوبہ خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کو کہا گیا ہے، تاہم اس خط میں چیف الیکشن کمشنر نے اپنی طرف سے ان انتخابات کے انعقاد کے لیے کوئی تاریخ تجویز نہیں کی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کو پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اپنی بڑی فتح قرار دے رہی ہے۔ فیصلہ آتے ہی عمران خان نے پی ٹی آئی کی ’’جیل بھرو تحریک‘‘ کو فوری طور پر موخر کرنے کا اعلان کر دیا اور کارکنان کو ہدایت کر دی کہ مزید کوئی گرفتاری نہ دی جائے۔
عمران خان کے ناقدین سپریم کورٹ کے فیصلے کو عمران خان کی ‘‘جیل بھرو تحریک‘‘ کے خاتمے کے لیے ’’غیبی مدد‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تحریک بری طرح فیل ہو چکی تھی اور عمران خان ’’جیل بھرو تحریک‘‘ کا آغاز کرکے پھنس چکے تھے۔ اس تحریک کو پہلے دن ہی شدید جھٹکا لگا تھا، جب پی ٹی آئی کے قریباً سوا سو ارکان جنھوں نے جیل جانے کے لیے اپنے نام لکھواے تھے، وہ گرفتاری دینے کے لیے نہ پہنچے۔ پی ٹی آئی کا پلان تھا کہ مختلف شہروں سے روزانہ 200 کارکن چند لیڈران سمیت گرفتاری دیں گے، مگر پہلے ہی دن صورتِ حال حوصلہ شکن ثابت ہوئی اور لاہور سے کل 81 گرفتاریاں ہی پیش کی جاسکیں۔ پشاور اور ملتان میں کسی کارکن یا لیڈر نے گرفتاری دینا مناسب ہی نہ سمجھا…… جب کہ راولپنڈی اور گوجرانوالہ میں کچھ لوگوں نے پارٹی اور عمران خان کا بھرم رکھ لیا۔ لاہور سے عام ورکرز کے ساتھ 6 عدد لیڈران کی گرفتاری بھی عمل میں آئی، جنھیں فوری طور پر دور دراز شہروں کی جیلوں میں منتقل کر دیا گیا۔ صورتِ حال اس وقت مضحکہ خیز ہوگئی جب گرفتاری سے ایک دن بعد شاہ محمود قریشی کے بیٹے نے اپنے والد کی بازیابی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست د۱ئر کر دی۔ اعظم سواتی جو کہ وکٹری کا نشان بناتے ہوئے قیدیوں والی وین میں جا بیٹھے تھے اور تصویریں اتروا رہے تھے، وہ بھی دو ہی دن بعد اپنی گرفتاری پر شاکی نظر آئے۔ انھوں نے میڈیا کے سامنے بیان دیا کہ ’’مَیں تو شاہ محمود قریشی سے ملنے آیا تھا۔ میرا گرفتاری دینے کا ابھی ارادہ ہی نہیں تھا۔ پولیس نے مجھے زبردستی گرفتار کیا ہے۔ اس دفعہ تو نہ مَیں نے قانون توڑا اور نہ کوئی ٹویٹ ہی کی ہے۔‘‘
لیڈرشپ دو ہی دن میں حوصلہ ہار گئی، تو کارکنان کیسے ثابت قدم رہ سکتے تھے؟
اُدھر ’’جیل بھرو تحریک‘‘ سے صرف ایک روز پہلے رات کو ساڑھے آٹھ بجے عمران خان نے خود کو گرفتاری سے بچانے کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت حاصل کرکے کارکنان کے حوصلے ہی توڑ دیے تھے۔ اُس کے بعد اسلام آباد کی تین عدالتوں سے ضمانت کروا کر انھوں نے پی ٹی آئی کے کارکنان کو واضح پیغام دیا کہ وہ انھیں صرف قربانی کے بکرے سمجھتے ہیں۔
اس عمل سے ’’جیل بھرو تحریک‘‘ کے ضعیف تن سے رہی سہی جان بھی نکل گئی…… اور یوں یہ ’’تحریک‘‘ ایک فلاپ شو بن کر رہ گئی۔ لاہور سے گرفتار رہنماؤں میں سینیٹر ولید اقبال بھی شامل تھے۔ ان کی والدہ جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ جاوید نے عمران خان کے رویے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسا لیڈر ہے خود ضمانتیں کروا رہا ہے اور کارکنوں کو جیل بھیج رہا ہے؟
جب ’’جیل بھرو تحریک‘‘ کا اعلان ہوا تھا، تو پی ٹی آئی کے ورکرز میں بڑا جوش پایا جاتا تھا۔ وہ واقعی عمران خان کے ایک اشارے پر جیلیں بھر دینا چاہتے تھے…… مگر عمران خان اور ان کی دوسری لیڈرشپ کے رویے نے کارکنوں کو مایوس کر دیا۔ لیڈر وہی ہوتا ہے جو میدانِ عمل میں نکل کر لیڈ کرتا ہے۔ عوام ایسے لیڈر کو کبھی پسند نہیں کرتے جو اُن کے پیچھے چھپ کر پناہ ڈھونڈ رہا ہو۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے، تو سپریم کورٹ کا فیصلہ عمران خان کے لیے نعمت ہی ثابت ہوا ہے۔
سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں پنجاب اور خیبر پختونخوا میں انتخابات لازمی ہونے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اعلان بھی کر دیا ہے، مگر سیاسی جماعتیں ابھی تک گومگو کی کیفیت کا شکار ہیں۔ حتیٰ کہ پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کے ساتھ ساتھ خود عمران خان کو بھی شک ہے کہ الیکشن نہیں ہوں گے۔
قبل ازیں وزارتِ داخلہ سیکورٹی دینے سے، وزارتِ خزانہ فنڈز دینے سے اور عدلیہ ریٹرننگ افسران دینے سے معذرت کرچکی ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ نئے حالات میں ان کا کیا موقف سامنے آتا ہے؟
ان انتخابات کے لیے اخراجات کا تخمینہ 17 ارب روپے لگایا گیا ہے، جو ملک کی موجودہ معاشی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے بہت بڑی رقم ہے۔
ان تمام وجوہات سے ہٹ کر بھی پی ڈی ایم کی جماعتیں ابھی الیکشن میں نہیں جانا چاہتیں۔ کیوں کہ موجودہ وفاقی حکومت اپنے 11 ماہ کے دور میں عوام کو کوئی بھی ریلیف دینے میں نہ صرف ناکام رہی ہے، بلکہ اس نے بے تحاشا مہنگائی کی چکی میں پیس کر عوام کی رگوں سے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ لیا ہے۔
اسحاق ڈار صاحب کے وزارتِ خزانہ کا قلم دان سنبھانے سے پہلے کیے گئے دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔ اگر ایسی صورت میں الیکشن ہوتے ہیں، تو پی ڈی ایم کا جیتنا ممکن ہی نہیں۔ عام ووٹر حکومتی کارکردگی سے نالاں اور ناراض ہے۔ حکومت مزید سات آٹھ ماہ کا وقت چاہتی ہے۔ اس کے لیے وہ دوبارہ سپریم کورٹ میں جائے گی۔ مقصد ایک ہی ہے کہ معاملے کو لٹکایا جائے۔
اس دوران میں عمران خان کو نااہل کروانے کی پوری کوشش کی جائے گی۔ اُس وقت تک عدلیہ میں بھی بہت اہم تبدیلیاں آچکی ہوں گی۔ شاید حکومت عوام کو بھی کچھ ریلیف دینے میں کامیاب ہو جائے اور اپنے لیے میدان ہم وار کرلے۔
عمران خان الیکشن میں دیر کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ وہ جانتے ہیں کہ وقت ریت کی مانند اُن کی مٹھی سے پھسلتا جا رہا ہے۔ اس لیے وہ جلد الیکشن چاہتے ہیں۔ انھوں نے چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی بے اعتنائی کا شکوہ بھی کیا ہے اور یہ دعوا بھی کیا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر جلد الیکشن نہیں ہوتے، تو عمران خان کیا کریں گے؟
ان کے پاس کیا آپشن ہوں گے؟
کیا وہ ’’جیل بھرو تحریک‘‘ دوبارہ شروع کریں گے…… جسے انھوں نے فی الحال موخر کیا ہے؟ شاید اب ایسا ممکن نہ ہو سکے۔ لولی لنگڑی ہی سہی، مگر جو تحریک شروع تھی اس سے حکومت پر دباو پڑا ہوا تھا۔ اگر عمران خان پی ٹی آئی سے ایم پی اے اور ایم این اے کی ٹکٹ کے خواہش مندوں کے لیے جیل جانا شرط رکھ دیتے، تو اس تحریک میں جان پڑی رہتی۔ انھوں نے یہ تحریک جلدبازی میں ختم کرکے شاید سیاسی غلطی کردی ہے۔ وہی غلطی جو انھوں نے 25 مئی کو اسلام آباد پر چڑھائی کرکے کی تھی، اور اس کے بعد اس طرح کا کوئی ایڈونچر کرنے کا ماحول ان کے مسلسل ساٹھ جلسے بھی نہ بنا سکے تھے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔