ہمارے چائے خانے کے دوستوں میں کچھ دنوں سے وجدان، تجربۂ دینی اور چھٹی حِس جیسے موضوعات پر گفت گو رہی ہے۔ ہمارے اس گروپ کے ارکان اسد صاحب کو چھوڑ کر عقلیات پر زیادہ گفت گو کرتے ہیں جب کہ اسد بھائی مابعد الطبیعات، صوفیانہ طرزِ فکر اور روحانی وارداتوں میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
ابو جون رضا کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/raza/
اس حوالے سے گفت گو کے دوران میں کئی دفعہ ولیم جیمز کی کتاب ’’نفسیاتِ وارداتِ روحانی‘‘ کی طرف میرا ذہن گیا۔ یہ کتاب ماہرِ نفسیات جناب ولیم جیمز صاحب کی لکھی ہوئی ہے۔ ولیم جیمز ماہرِ نفسیات تھے…… مگر ان کو شہرت ’’فلسفۂ نتائجیت‘‘ سے ملی۔ ان کی یہ کتاب علامہ اقبال کو بہت پسند آئی تھی اور ان کی فرمایش پر خلیفہ عبدالحکیم صاحب نے اس کا اُردو ترجمہ کیا تھا۔
ہمارے پیارے دوست عارف بھائی اکثر کہتے ہیں کہ ہمارے حواسِ خمسہ حقیقت کی جو تصویر پیش کرتے ہیں، وہ بالعموم غلط یا ناقص ہوتی ہے۔ نیز یہ کہ ’’اصل حقیقت‘‘ سامنے کی حقیقت سے ماورا ہے۔
ڈاکٹر وزیر آغا لکھتے ہیں کہ ’’تصوف نے ’نظرآنے والی حقیقت‘ کو سراب کہا اور ’اصل حقیقت‘ کو ایک ایسی ازلی وابدی روشنی کا نام دیا جو بجائے خود بصارت بھی تھی اور بصیرت بھی۔ یونانی فلسفے نے ’نظرآنے والی حقیقت‘ کو ’اصل حقیقت‘ کا ظل یا سایہ قرار دیا۔ گویا اس کی اصلیت کو شبہ کی نظروں سے دیکھا۔ البتہ کانٹ نے دوئی کا تصور پیش کیا۔ اس کا یہ موقف تھا کہ ’نظر آنے والی حقیقت‘ اوراس کے عقب میں "Thing in itself” دونوں حقیقی ہیں۔ اس فرق کے ساتھ کہ سامنے کی حقیقت کو توجانا جاسکتا ہے مگر”Thing in itself” انسانی ادراک سے ماورا ہے۔ اسے اس نے "Noumenon”کہا ہے، یعنی وہ ’جسے جانا نہیں جاسکتا۔‘ تاہم اس نے "Appearance” کو مایا، سراب یا ظل نہیں کہا۔‘‘
مذہبی تجربے کا سرچشمہ صوفیانہ شعور ہے اور مذہبی واردات کا مغز صوفیانہ شعور کی روحانی حالت ہے۔ صوفیا کا کہنا ہے کہ اُن کی روحانی واردات ماورائے کلام ہے۔ اُس کا تجربہ ممکن ہے، لیکن بیان ممکن نہیں۔ اس وارداتِ روحانی کو صرف وہ ہی سمجھ سکتا ہے جو اس کیفیت سے خود گزرا ہو۔
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
یہ ذاتی گہرے جذبات اور احساسات کا تجربہ ہے۔ اس تجربے کو مہمیز کرنے کے لیے بعض صوفی مراقبے، استغراق اور ارتکاز کی ریاضتوں سے بھی گزرتے ہیں۔
اکثر اوقات اس تجربہ سے گزرنے والے لوگ مستقبل کے واقعات کی درست پیش گوئی کردیتے ہیں…… جس کو عقلیت پسند قیافہ شناسی سے تشبیہ دیتے ہیں۔
ان صوفیانہ شعور کی حالتوں کو بیان کرتے ہوئے ولیم جیمز صوفیانہ واردات کی چار بنیادی کیفیات کو صوفیانہ گروپ "Mystical Group” کا نام دیتا ہے۔
ڈاکٹر غلام جیلانی برق نے اپنی کتاب ’’من کی دنیا‘‘ میں متعدد مقامات پر ولیم جمیز کی مذکورہ کتاب کے حوالے دیے ہیں۔ ’’من کی دنیا‘‘ میں وجد و کیف کے باب میں غلام جیلانی برق ولیم جمیز کا ایک اقتباس نقل کرتے ہیں کہ ’’مَیں یوں محسوس کرتا ہوں کہ اس دنیا سے پَرے بھی ایک دنیا ہے، جس کی سرحدیں اس مادی دنیا سے ملی ہوئی ہیں۔ ہمارے بلند مقاصد اور تحریکات وہیں سے آتی ہیں۔ ہماری زندگی اسی سے متاثر ہوتی ہے اور یہ تاثر ہمارے اعمال و افکار میں عظیم انقلاب پیدا کردیتا ہے۔ مذاہب اس فوق الفطرت سرچشمۂ قوت کو خدا کہتے ہیں۔ خدا ایک ایسی ہستی ہے جو ہمارے اعمال پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اگر آسمانوں پر کوئی ایسا خدا بھی موجود ہے جو ہمارے شخصی معاملات سے بے نیاز ہے، تو وہ بے کارِ محض ہے اور ہمیں اس کی قطعاََ ضرورت نہیں۔ ‘‘
اس اقتباس کی تشریح میں ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ خدا سے رابطہ کرنے اور اپنے آپ کو اس کے سپرد کردینے کے بعد دل میں آسمانی سکون پیدا ہوجاتا ہے۔
ایک خاص بات یہ ہے کہ روحانی وارداتوں پر کسی خاص مذہب کا اجارہ نہیں۔ ڈاکٹر ولیم جیمز نے مذہب سے ہٹ کر ان روحانی معاملات کا گہرائی سے مطالعہ کیا اور پھر لوگوں کے تجربات کو کتاب میں نقل کیا۔ ولیم نے دو بنیادی سوالات اُٹھائے:
٭ ایک، مذہبی میلانات کیا ہیں؟
٭ دوسرا، ان کی فلسفیانہ اہمیت کیا ہے؟
ان سوالات کے جوابات کی انھوں نے منطقی اور مذہبی لحاظ سے درجہ بندی کی ہے…… لیکن یہ ذہن میں رہے کہ ولیم کا زیادہ مطالعہ اور تحقیق عیسائیت اور امریکہ اور یورپ کے فلسفیوں سے متعلق رہی ہے۔
ولیم بتاتے ہیں کہ جو لوگ یک سو ہوکر مذہبی زندگی بسر کرتے ہیں اور انہماک کے ساتھ مذہبی شعائر و رسومات کو ادا کرتے ہیں، تو اصل میں وہ مذہب کو روایات سے اخذ کرتے ہیں اور ایسوں کے نزدیک مذہب ایک پکی پکائی روٹی ہے، جو تیار کھانے کو مل جاتی ہے۔ یہ تقلیدی مذہب ان کی زندگیوں میں کوئی طوفان برپا نہیں کرتا۔
اس کے برعکس وہ لوگ جو مذہبی وجدان کے سرچشموں کی تلاش میں رہتے ہیں، وہ روحانی اضطراب اور جستجو میں رہتے ہیں۔ یعنی بعض لوگ تسلیم و رضا میں زندگی بسرکرتے ہیں اور بعض ناممکنات کو معرضِ وجود میں لانے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس حوالے سے انبیا کی زندگی کا مطالعہ بہت اہم رہتا ہے کہ وہ کس طرح سے زندگی گزارتے تھے اور ان کے افکار کس طرح سے لوگوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتے تھے۔
تصوف و عرفان کے رد میں لوگ انسان کی حسِ جمالیات اور اس کی روحانی کیفیات کو نظر انداز کرجاتے ہیں…… جب کہ خود وہ بارہا مختلف تجربات سے گزرتے ہیں، چاہے وہ اس کا اظہار کسی کے سامنے نہ کریں۔
یہاں تک ممکن ہے کہ ایک ملحد انسان بھی روحانی واردات گزرے اور وجدانی طور پر اس کو کچھ غیر معمولی احساسات اور کیفیات کا تجربہ ہو۔
سید سلیمان ندوی خطباتِ مدراس میں ایک خطبے میں بتاتے ہیں کہ ’’ہم اوائلِ فروری 1924ء میں حجاز و مصر سے واپس آرہے تھے۔ اتفاق سے نوبل انعام یافتہ شاعر رابندر ناتھ ٹیگور بھی اسی جہاز میں امریکہ کے سفر سے واپس ہورہے تھے۔ ایک رفیق نے ان سے سوال کیا کہ برہمو سماج کی ناکامی کا سبب کیا ہے؟ حالاں کہ اس کے اصول بہت منصفانہ اور صلحِ کل کے تھے۔ اس کی تعلیم یہ ہے کہ سارے مذہب سچے اور کُل مذہبوں کے بانی اچھے اور نیک لوگ تھے۔ اس میں عقل اور منطق کے خلاف کوئی چیز نہ تھی، تاہم اس نے کامیابی حاصل نہ کی۔
فلسفی شاعر نے جواب دیا کہ ’’یہ اس لیے ناکام ہوا کہ اس کے پیچھے کوئی شخصی زندگی اور عملی صورت نہ تھی، جو ہماری توجہ کا مرکز بنتی۔‘‘
سال 2022ء کے کراچی کے کتب میلے میں میرے دوست رضا سلطان اور علی مظفر سے میری ملاقات ہوئی اور ان کی خریدی ہوئی کتب کو جب مَیں نے دیکھا، تو بہت خوشی ہوئی کہ انھوں نے ولیم جیمز کی کتاب ’’نفسیاتِ وارداتِ روحانی‘‘ بھی خریدی ہوئی تھی۔
آج کل کی نوجوان نسل جن بحرانوں سے گزر رہی ہے اور جس طرح سے الحاد ان پر حملہ آور ہے…… اس لحاظ میں اس کتاب کے مطالعے کی ان کو مکرر سفارش کروں گا۔
ولیم جیمز کی تحقیق کو علم النفس کی روز افزوں ترقیاں بھی قصۂ پارینہ قرار نہ دے سکیں گی۔
اتنا ہی مجھ کو اپنی حقیقت سے بعد ہے
جتنا کہ وہم غیر سے ہوں پیچ و تاب میں
اصل شہود و شاہد و مشہود ایک ہے
حیراں ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں
ہے غیب غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہود
ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔