لیکن یہ کوئی محبت نامہ لکھ رہے ہیں ہم، یا سفر نامہ، ’’کوئیک یُو ٹرن‘‘ لیتے ہیں۔ اب اسلام کے نام پر قائم کرۂ ارض کے اُس واحد شہر کی طرف ’’غیر خراماں خراماں‘‘ بڑھ رہے ہیں جو اِس عارضِ گل رنگ میں ہر لحاظ سے یکتاہے۔ یہاں کے لوگوں کا ’’دینی لبادہ‘‘ کوٹ پینٹ ہے۔ اضافی طور پر شرعی ٹائی پہننے والوں کو عزت وتکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ مسلم اُمّہ کے اِس اسلامی ہیڈ کوارٹر میں پبلک انٹرسٹ کے نام پر کلین شیو والے بابو بڑے ہر دل عزیز اور بھرپور داڑھی والے بابے بجا طور پر بڑے غیر عزیز جانے جاتے ہیں۔ شلوار قمیص جیسے ہندوانہ پہناوے پہننے والوں کو اِس ’’ویکسی نی ٹی‘‘ میں نفرت انگیز حد تک ناپسند کیا جاتا ہے، اور اُن کوپکارا نہیں ہانکا جاتا ہے، جیسے ’’اوئے شیخہ، تو سی کی کرندا اِتھے؟‘‘ کالے کلوٹوں کی اِس بستی میں گوروں کی زُبان لکھنے اوربولنے والوں کابول بالا ہوتا ہے۔ یہاں کی لگ بھگ تین چوتھائی سرکار باقاعدہ طور پر سرِشام محافلِ شبینہ کے سیشنز میں ڈوبتی ہے۔ فجر کی اذان تک عوامی خدمت کے درد میں بلبلاتی اوراُونگھتی ہے، یہاں تک کہ ہوش کے ٹھکانے اُڑاتی ہے ۔ اس شہر کو مزید اسلامی بنانے کے لیے سعودیوں نے فیصل مسجد بنائی، جہاں چند سفید ٹوپیاں پہنے فارغ البال بوڑھے اسلام کا عَلم بلند رکھنے کے لیے دن میں پانچ مرتبہ چند لمحوں کے لیے نازل اور غائب ہو تے ہیں۔ جب کہ باقی دُنیا موبائیل فون پر تصویرکشی کے سیکٹر میں اپنا نام اور مقام پیدا کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔ کچھ فاصلے پر درختوں کے زیرِسایہ بیٹھے پریمی حضرات و ’’حضراتنیوں‘‘ کی جوڑیا ں بڑی دل لگی کے ساتھ شرعی رموز و اوقاف کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے پُروقار انداز میں ایک دوسرے پر ’’پیار کے ڈونگرے‘‘ برساتے ہیں۔ اِس شہر سے باہر باہر بھاگم بھاگ گزرتے ہیں آنکھیں بند کرکے اور بڑی سُرعت کے ساتھ۔ مبادا اس کا سایہ ہم پر نہ پڑ جائے، اور کہیں کوئی ٹھپا کمر پر نہ لگ جائے۔ پھر کہاں ہجرت کریں گے؟ محشر آفریدی اپنے اِس شعر میں جن لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں، اُن کی اکثریت یہاں پر مقبوضہ کشمیر بنے ہوئے ہیں۔
سوزوی می، سازہ وی می جڑوی می ، خند وی می
زہ بہ یار کہ بہ اغیار یم، ما خبر زما پہ حال کہ!
یہاں ہمارے کرنے کو ہے کیا؟ بہتر ہے کہ جلد ازجلد اپنی پیروں، دستگیروں اور مریدوں کی زرخیز سرزمین پر پہنچ جائیں۔ جناب، یہ موٹر وے والوں نے جگہ جگہ جو ٹول پلازوں کی بھرمار کرکے ایک اودھم مچا رکھا ہے، پتا نہیں اس سے غرض کیا ہے اُن کا؟ ایک ٹول پلازہ کراس کرتے ہوئے ’’پے منٹ‘‘ اور کوئی میل آگے دوسرے ٹول پلازے پر پھر سے انٹری کارڈ کی دین۔ سروس ڈیلیوری کی ’’کے پی سی ٹی‘‘ ندارد اور گاڑیوں کو قطار در قطار ٹول ٹیکس کی ادائیگی کے لیے روک دیا جاتا ہے۔ ٹریفک میں یہ رُکاوٹ بسا اوقات گھنٹوں جاری رہتی ہے۔ لاہور ٹول پلازے سے نکلنے میں تو بلاناغہ اوسط بنیادوں پر گھنٹا بھر دیر، کھڑے کھڑے یا رینگتے رینگتے ہوجاتی ہے۔ اِس لین دین اور روک ٹوک میں لوگوں کے قیمتی وقت کا ضیاع اورانتظار کی کوفت تو ہے ہی، پیٹرول بھی مفت میں ضائع ہوتا ہے اور اضافی دھویں سے قدرتی ماحول میں خلل جو پڑتا ہے اُس کا دُکھڑا الگ۔ ایک سو چالیس روپے ٹیکس دے کر ایک گھنٹا انتظارکرواکر، دو لیٹر پیٹرول جس کی قیمت مبلغ دو سو چالیس، نصف جس کا ایک سو بیس پاکستانی روپیہ بنتا ہے، مفت میں جلاکر، اسلام آباد لاہور موٹر وے کے رش سے بڑی بے دلی سے نکلتے ہیں۔ سطح مرتفع پوٹھوہار کی زرخیز سرزمین پر کافی دیر ہوئی ہے کہ قدم رکھے ہیں، تو سرِ دست کیوں نہ یہاں کا تھوڑا سا ذکرِ خیر ہو جائے۔ لگ بھگ کوئی پونے دو کروڑ نفوس بستے ہیں یہاں، پوٹھوہار نہ ہوا آدھا پنجاب ہوا۔ یہ ایسی سرزمین ہے جہاں پہاڑ ہیں، میدان ہیں، صحرا ہیں، کچھ زرخیزی اور پانی کے چشمے ہیں، کہیں دریا، جھیلیں اور ندی نالے بھی ہیں۔ تیل، گیس اور معدنیات کے سرچشمے ہیں یہاں۔ یہاں کیا نہیں ہے، بس ٹریجڈی یہ ہے کہ اب بھی غربت و محرومی کی نشانی دھوتی ہی یہاں کا ’’غیر قومی‘‘ لباس ہے۔ اٹک سے لے کر جہلم تک کے علاقے پر اسی سطح مرتفع کا راج ہے، لیکن نام نہاد سا۔ جتنا بڑا ا س کا سینہ ہے، اتنا بڑا یہاں کے باسیوں کا دِل ہے۔ یہ جتنے زیادہ میٹھے اور متلون مزاج واقع ہوئے ہیں، فنا فی اللہ اتنے زیادہ برہنہ مزاج بھی واقع ہوئے ہیں۔ آپس میں پوٹھوہاری زبان میں گپ شپ کے دوران میں ایک دوسر ے کی ماؤں بہنوں کے جسمانی فضائل پر ببانگِ دہل انداز میں تبصرے کرنا اُن کا من بھاتا کاجا رہا ہے، تاہم اب کا ’’سِولائزڈ طبقہ‘‘ اِس زبانی کلامی ہیر اپھیری میں مطلوب نہیں۔ یہ خطہ جتنا مردُم خیز ہے اتنا ہی ’’خواتین خیز‘‘ بھی ہے۔ پتا نہیں کہ یہاں کی خواتین کا خاصہ ہے کہ اُن کے ’’میاؤں‘‘ کا، یا ہر دو اصناف کا اکٹھا خاصا ہے کہ یہ خطہ اپنی افواجِ پاکستان کے لیے سپہ کی صورت میں خام مال کی باقاعدہ فراہمی میں یدِطولیٰ رکھتا ہے۔ پاکستان کی فو ج میں کوئی دو چار دس سپاہی جان بحق ہوئے نہیں خدا نخواستہ، کہ اُن کے متبادل میدان میں پہنچ جاتے ہیں۔ یہ خواتین ہیں یا بچے پیدا کرنے کے کوئی رواں دواں چلتے پھرتے آلے ہیں ہماری ’’پختونزادیوں‘‘ کی طرح! پیداوار کے اِس سر فہرست سیکٹر میں ہماری خواتین دنیا بھر میں بڑے نام ور ہیں، خیر سے۔ مغربی بیوی بچہ پیدا کرنے سے جتنا اجتناب برتتی ہے، اتنا ہماری والیاں اِس عمل کو جاری وساری رکھنے کے لیے شوہر کے ساتھ بڑا دنگافساد کرتی ہیں۔ یہ تو آپ لوگ خود بھی بہترجانتے ہیں، ہمارے بتانے یا نہ بتانے سے کیا فرق پڑتا ہے! ہمارے دُلہے بے چاروں کو تو شادی کے دوسرے تیسرے مہینے تک چاہے جان کی بازی کیوں نہ لگانی پڑے، یہ ڈی کلیئر کرنا پڑتا ہے کہ گھونسلا ڈال دیا گیا ہے۔ (جاری ہے)
………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔