سدھارت گوتم کہتا تھا کہ انسانوں کو دو قسم کے درد کا سامنا رہتا ہے۔ مثال کے طور پر پہلے درد کو ہم جسمانی درد (Physical Pain) اور دوسرے کو جذباتی درد (Emotional Pain) کَہ لیں۔ جسمانی درد کی خاصیت ہے کہ یہ وقت کے ساتھ بھر جاتا ہے، ٹھیک ہوجاتا ہے…… لیکن جذباتی درد کی کہانی کافی دلچسپ اور عجیب ہے۔
ندا اسحاق کی دیگر تحاریر کے لیے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/ishaq/
مثال کے طور پر آپ کو ایک تیر آکر لگتا ہے، اور آپ زخمی ہوجاتے ہیں۔ آپ کو درد ہورہا ہے، لیکن فطرت کا نظام ہے کہ وقت کے ساتھ آپ کا زخم بھر جائے گا اور وہ یوں غائب ہوجائے گا کہ جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔ لیکن اب فرض کریں کہ جو تیر آپ کو لگا ہے وہ کسی ایسے انسان نے مارا ہے جس سے آپ محبت کرتے تھے، یا جس پر بھروسا تھا اور اس سے لگاو (Attachment) تھا۔ یا پھر تیر لگنے کی وجہ سے آپ بستر پر کچھ عرصہ لیٹے رہے اور اس دوران میں آپ کے کچھ منصوبے جن سے آپ کو لگاو تھا، جو آپ نے بنائے تھے، وہ پورے نہ ہوسکے۔ اب آپ کا ذہن آپ کو بول رہا ہے کہ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا، مَیں نے اس پر بھروسا کیوں کیا، کیا مَیں اتنا بے وقوف تھا کہ اس کی اصلیت نہ دیکھ سکا، میری ہی قسمت میں یہ سب کیوں تھا، کاش! اگر ایسا نہیں ویسا ہوتا، تو شاید آج میں اور بھی بہتر حالت میں ہوتا، وغیرہ وغیرہ۔
پہلا تیر تو آپ کو لگ گیا۔ اس پر آپ کا کوئی اختیار نہیں تھا، لیکن دوسرا تیر تکلیف ہے، اور یہ دوسرا تیر آپ خود کو خود ہی مار رہے ہیں۔ حالاں کہ آپ کا جسمانی زخم بھرچکا ہے۔ اس بات کو عرصہ ہوچکا ہے، لیکن آپ کا ذہن آج بھی اس تیر والے حادثہ کے گرد کہانیاں بنا رہا ہے۔ نئے نئے امکانات اور نئے نئے اندازے لگا رہا ہے۔ ایسا ہی ہوتا ہے، جب آپ کے اندر بدلہ، آزردگی، افسوس، غصہ اور مایوسی جیسے جذبات حادثہ ہوجانے کے بعد بھی سالوں قائم رہتے ہیں، لیکن یہ سالوں قائم کیوں رہتے ہیں اور آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟
ویسے تو جذباتی درد بھی وقت کے ساتھ بھر جانا چاہیے، اور یقینا ڈھیر سارے لوگوں کا درد وقت کے ساتھ بھر جاتا ہے، لیکن کچھ لوگوں کے ساتھ کیا مسئلہ ہوتا ہے جن کا درد نہیں بھرتا؟ سدھارت گوتم جو کہ ایک عیاش شہزادہ تھا اور صبح شام پارٹی کرکرکے تھک چکا تھا۔ ایک دن وہ محل چھوڑ کر اپنا ’’ڈوپامین ڈیٹاکس‘‘ (Dopamine Detox) کرنے کے سفر پر نکل پڑا۔ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ بدھا قدیم زمانے کا کوائنٹم فزسسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سائیکالوجسٹ بھی تھا، جس نے معلوم کیا کہ وہ لگاو (Attachment) ہی ہے جو آپ کے جذباتی زخم کو بھرنے نہیں دیتا۔ دو قسم کے جذباتی لگاو کا ذکر کیا تھا بدھا نے:
٭ طلب (Craving)
٭ کراہت (Aversion)
ماڈرن سائیکالوجی میں جان بولبی (John Bowlby)کی ’’اٹیچمنٹ تھیوری‘‘ (Attachment Theory) جس میں دو قسم کی اٹیچمنٹ کو بولبی نے بیان کیا ہے :
٭ مضطرب لگاو (Anxious Attachment)
٭ اجتناب برتنے والا لگاو (Avoidant Attachment)
الفاظ مختلف ہیں لیکن ان دونوں کا مطلب ایک جیسا ہے۔
جن بچوں کو کچھ ایسے واقعات یا حادثات کا سامنا کرنا پڑے جو ایک بچے کے ناپختہ (Underdeveloped) دماغ کے لیے سمجھنا مشکل ہو، اور ان واقعات سے جنم لینے والے احساسات کو محسوس کرنا یا انھیں سمجھنا ان کے لیے دشوار ہو، اور ان کے والدین/ معاشرہ ان احساسات کو سمجھنے میں یا پراسس کرنے میں ان کی مدد نہ کرسکے ہوں، تو پھر عموماً وہ اٹیچمنٹ ڈساڈر (Attachment Disorder) کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگ نہ صرف لوگوں، چیزوں، جگہوں، احساسات سے غیر صحت مندانہ طور پر جڑ جاتے ہیں، بلکہ کئی معاملات میں طلب یا کراہت والے لگاو کے زیرِ اثر رہتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر وہ جادوئی اور پرفیکٹ لگاو کون سا ہے جس سے آپ کو جذباتی درد نہ ہو یا پھر آپ کے زخم جلدی بھر جائیں؟
بدھا اسے غیر منسلک (Non-Attachment) کہتا ہے، اور ماڈرن سائیکالوجی اسے محفوظ لگاو (Secure Attachment) کے نام سے جانتی ہے۔ لیکن یہ پرفیکٹ اور جادوئی نہیں۔
بدھا کہتا ہے کہ طلب یا کراہت آنا ایک نارمل سی بات ہے اور یہ انسان ہونے کی علامت ہے۔ کیوں کہ اس کراہت یا طلب کے پیچھے احساسات (Sensations) ہوتے ہیں۔ جب طلب ہونے پر وہ چیز مل جائے، تو جسم میں خوش گوار احساسات (Pleasant Sensations) محسوس ہوتے ہیں، اور جب کوئی ناپسندیدہ چیز کا سامنا کرنا پڑے، تو ناخوش گوار احساسات (Unpleasant Sensations) جسم میں دوڑتے ہیں۔ یہ سارا پلیژر پین (Pleasure Pain) کا گیم انھی احساسات سے جڑا ہے۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم میں سے کچھ لوگ ان میں سے کسی ایک احساس سے ضرورت سے زیادہ جڑ جاتے ہیں۔ جتنا زیادہ اور غیر صحت مندانہ لگاو ہوگا، اتنی ہی زیادہ جذباتی تکلیف ہوگی اور اتنا ہی آپ ان احساسات کے غلام ہوں گے۔
بدھا نے جو راستہ دریافت کیا، وہ تھا درمیانہ راستہ(Middle Way)۔ اس نے ان احساسات کو دبانا یا ان کو بار بار محسوس کرنے کی چاہت کا نہیں بلکہ ان کا مشاہدہ کرنے کا مشورہ دیا۔ کیوں کہ آپ احساسات کو ختم نہیں کرسکتے اور اسی مشاہدے کو مائنڈ فلنس میڈیٹیشن (Mindfulness Meditation) کہتے ہیں۔ ایک مائنڈ فل لائف سٹائل کو پریکٹس کرنے کے لیے مائنڈفلنس میڈیٹیشن یا پھر اپنے احساسات کے ساتھ بیٹھ کے ان کا مشاہدہ کرنا آپ کو حال (Present Moment) میں رہنے کی پریکٹس کرواتا ہے۔ جب آپ کو پریکٹس ہوجائے اپنے عمل، احساسات اور جذبات کا مشاہدہ کرنے کی…… تب آپ کو میڈیٹیشن کی ضرورت نہیں رہتی بلکہ آپ کی پوری زندگی ہی میڈیٹیشن بن جاتی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مشاہدہ کرنے سے کیا ہوتا ہے ؟
جب آپ اپنے ان جذبات کے ساتھ بیٹھتے ہیں جن کے ساتھ بیٹھ کر آپ کے ذہن کو لگتا ہے کہ وہ اتنے تکلیف دہ ہیں کہ اگر آپ نے اس درد کو سہا، تو شاید آپ انتقال کر جائیں گے…… تو یقین مانیں ایسا نہیں ہوتا، آپ نہیں مرتے……بلکہ بہت ممکن ہے کہ آپ بدھا کے اس کے بیان کو محسوس کرلیں گے کہ’’تمام حالتیں غیر مستقل ہیں۔‘‘
جی ہاں! کوئی بھی احساس ہو، کوئی بھی جذبہ ہو، کوئی بھی حالت یا شکل ہو…… وہ غیر مستقل ہے۔ آپ جب مشاہدہ کرتے ہیں اور جب کچھ دیر/ عرصہ میں آپ کے جذبات نارمل ہوجاتے ہیں، تب آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ غیر مستقل ہے۔ پرانی آزردگیوں اور ناکامیوں کو سنبھال کر رکھنا آپ کے ذہن کا کام ہے۔ کیوں کہ آپ کے لیے وہ معاملات جو جذبات سے جڑے ہوں، انہیں جانے دینا آسان نہیں ہوتا۔
مجھ سے بوریت برداشت نہیں ہوتی۔ مَیں ہمیشہ اس سے بھاگتی رہی ہوں۔ مَیں گھنٹوں کتابیں پڑھ سکتی ہوں۔ کام کرسکتی ہوں، لیکن دس منٹ کے لیے بوریت کے ساتھ بیٹھنا اور کچھ بھی نہ کرنا میرے لیے مشکل ہوتا ہے…… لیکن اس پریکٹس سے میری بہت مدد ہوئی۔ ضروری نہیں کہ آپ کے لیے بھی یہ کام کرے۔ ہوسکتا ہے یہ آپ کے لیے بے کار ہو۔
یہ تو تھی دانش ورانہ تفہیم (Intellectual understanding) لیکن یہ سب پریکٹس سے آتا ہے، ذہن کو ٹریننگ دینے سے آتا ہے۔ آپ کا ذہن ہمیشہ اٹیچ ہونے کی کوشش کرے گا لوگوں کے ساتھ، احساسات کے ساتھ، اور یہ فطری ہے۔ اٹیچ ہونا ہماری فطرت ہے، لیکن حال میں رہنا، اپنے جذبات اور عمل کا مشاہدہ کرنا اور حقیقت پسند ہونا آپ کو خواہ مخواہ کی اٹیچمنٹ سے بچاتا ہے۔ وہ اٹیچمنٹ جو آپ کی تکلیف کو دوگنا کردیتی ہے۔ سائیکالوجسٹ بھی اسی مائنڈ فلنس والی تکنیک کا سہارا لیتے ہیں آپ کا علاج کرنے کے لیے۔
وہ تمام لڑکے/ لڑکیاں جو مجھے اکثر کہتے ہیں کہ میڈم میں اس لڑکی/ لڑکے کو چھوڑ نہیں پا رہا یا پھر اسے بھول نہیں پارہا…… آپ دراصل اسے نہیں چھوڑ/ بھول پارہے، بلکہ آپ ان احساسات کو چھوڑ/ بھول نہیں پارہے جو ان کے ہونے سے آپ کے جسم میں پیدا ہوتے ہیں۔ آپ کو ان لوگوں سے محبت نہیں بلکہ آپ کو صرف ان احساسات سے محبت ہے جو ان کے ہونے سے آپ محسوس کرتے ہیں، تو مطلب یہی ہوا کہ بہت ممکن ہے کہ آپ کو صرف خود سے محبت ہے۔ آپ کو صرف اچھا محسوس کرنے سے محبت ہے اور آپ ان احساسات کو کھونا نہیں چاہتے۔ بہت ممکن ہے کہ آپ زندگی کی ’’عدم یقینی‘‘ (Uncertainty) اور ’’فطرت کی عارضیت‘‘ (Impermanence) یعنی کہ بدلنے والی خصوصیت کو قبول نہیں کرنا چاہ رہے۔ امکانات ہیں کہ آپ حقیقت جیسی ہے اسے ویسے قبول کرنے سے بھاگ رہے ہیں۔
پہلا تیر زندگی ہے۔ زندگی میں درد سے بھاگنا ممکن نہیں اور زندگی مختلف تکلیف دہ تیروں سے بھری پڑی ہے۔
لیکن دوسرا تیر تکلیف ہے…… جسے آپ چاہیں، تو لگنے سے روک سکتے ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔