بہاولپور کے ایس ای کالج میں پروفیسر ڈاکٹر دولت علی زیدی بی ایس سی کے پہلے سال میں ہمیں باٹنی اور زوالوجی پڑھایا کرتے تھے، جب کہ ایف ایس سی میں وہ ہمارے بائیولوجی کے استاد تھے۔ زیدی صاحب ایس ای کالج کے 11 برس تک پرنسپل بھی رہے۔ وہ بہت قابل استاد اور شان دار انسان تھے۔ اللہ رب العزت انھیں ہمیشہ خوش حال اور صحت مند رکھے۔ وہ آج کل فیصل آباد میں مقیم ہیں۔ ایک بار لیکچر کے دوران میں انھوں نے دنیا کے چند منفرد اور مشہور بوٹینکل گارڈنز کے بارے میں بتایا، جن میں لندن کا ’’کیوگارڈنز‘‘ (Kew Gardens) بھی تھا۔ اُس وقت میرے دل میں ایک حسرت جاگی کہ کاش، مَیں بھی اس کیو گارڈنز کو دیکھ سکوں۔ قدرت کے کرشمے بھی عجیب ہوتے ہیں کہ بعض حسرتیں اس وقت پوری ہوتی ہیں کہ جب انسان انھیں یک سر فراموش کرچکا ہوتا ہے۔
فیضان عارف کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/faizan/
کالج میں تعلیم کے دوران میں میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ہجرت کے بعد میری باقی تمام عمر لندن ہی میں گزرے گی۔ 1993ء میں برطانیہ آنے کے بعد مَیں نے لندن کو چند ماہ تک سیاحوں کی طرح دریافت کیا۔ ہر وہ جگہ اور مقام دیکھا جسے دیکھنے کا سیاحوں کو تجسس ہوتا ہے۔ جب مَیں پہلی بار کیوگارڈنز دیکھنے گیا، تو قدم قدم پر میری حیرانی میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ ویسے تو امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، سنگاپور، برازیل، ماریشس، ناروے اور ساؤتھ افریقہ کے بہت سے بوٹینکل گارڈنز اپنی کئی منفرد خصوصیات کی وجہ سے مشہور ہیں، لیکن جو بات لندن کے کیوگارڈنز کی ہے، وہ کئی اعتبار سے دلچسپ اور اہم ہے۔
1840ء میں بنایا جانے والا یہ رائل بوٹینکل گارڈن اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسکو کے ورلڈ ہیرٹیج میں شامل ہے۔ اس باغ میں 50 ہزار سے زیادہ اقسام کے مختلف پودے اور درخت لگے ہوئے ہیں، جن میں کپاس سے لے کر گنے تک کے پودے شامل ہیں۔ دنیا بھر کے مختلف براعظموں میں پیدا ہونے والے ان پودوں اور درختوں کو ان کے قدرتی ماحول کے مطابق رکھا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ’’رین فاریسٹ‘‘ یعنی برساتی جنگلوں میں پروان چڑھنے والے نباتات کو بڑے بڑے گلاس ہاؤس بنا کر ایسا ماحول پیدا کیا گیا ہے کہ وہاں وقفے وقفے سے بارش ہوتی رہتی ہے اور درجۂ حرارت کو بھی حسبِ ضرورت کنٹرول کیا جاتا ہے۔ اس حصے میں جا کر یوں لگتا ہے کہ آپ واقعی کسی رین فاریسٹ میں آ گئے ہیں۔ رچمنڈ کے علاقے میں تین سو ایکڑ رقبے پر پھیلے ہوئے اس باغ میں مختلف اقسام کے 7 ملین پودوں کے نمونے محفوظ ہیں جب کہ کیوگارڈنز کی لائبریری میں نباتات کے بارے میں تقریباً 7 لاکھ 50 ہزار کتابیں اور ان کے بارے میں معلومات موجود ہیں۔ اس طرح 40 ہزار سے زیادہ پودوں اور درختوں کے بیج یہاں محفوظ کیے گئے ہیں۔
اس باغ میں سب سے نایاب اور قدیم پودا "JURASSIC CYCAD” ہے، جو ایک ماہرِ نباتات فرانسس میسن (FRANCIS MASON) سنہ 1775ء میں جنوبی افریقہ سے برطانیہ لایا تھا، جسے کیو گارڈنز کے قیام کے بعد یہاں ایک بہت بڑے پاٹ میں محفوظ کیا گیا اور یہ پودا اب تک پھل پھول رہا ہے۔
کیوگارڈنز کو گذشتہ برس 23لاکھ سے زیادہ لوگ ٹکٹ خرید کر دیکھنے کے لیے آئے۔ اس باغ کا انتظام ایک غیر سرکاری ٹرسٹ کے پاس ہے اور اس کا سالانہ بجٹ تقریباً ساڑھے 65 ملین پاؤنڈ ہے۔ باغ کی دیکھ بھال کے لیے ایک ہزار سے زیادہ لوگ یہاں کل وقتی ملازم ہیں جن میں وہ پولیس فورس (کیو کانسٹیبلری) بھی شامل ہے جسے لندن کی میٹرو پولیٹن پولیس جتنے اختیارات حاصل ہیں۔ انسان دشمن لوگوں کی طرح بہت سے لوگ نباتات دشمن بھی ہوتے ہیں۔ اسی لیے یہاں پولیس فورس کی تعیناتی ناگزیر سمجھی گئی۔
20 فروری 1913ء میں یہاں ٹی ہاؤس سیکشن کے بہت سے پودوں پر دو نباتات دشمن لوگوں نے تیزاب چھڑک کر اس حصے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا، جنھیں بعد ازاں گرفتارکر کے 18 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ اس طرح 2014ء میں یہاں کی پرنس آف ویلز کنزرویٹری سے واٹر للی(کنول) کے وہ پودے چوری کیے گئے جن کے نایاب بیج روانڈا سے لا کر یہاں اُگایا گیا تھا اور یہ دنیا میں کنول کے سب سے چھوٹے پودے شمار کیے جاتے تھے۔
پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے دوران میں اس باغ کو تباہی اور حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے لیکن اس کے باوجود دوسری جنگِ عظیم کے دوران میں یہاں 30 بم گرے، جن سے کیو گارڈنز کے بڑے حصے کو نقصان پہنچا، جس کی بحالی میں بہت وقت لگا۔
شاہی خاندان کی ایک سرخ رہایشی عمارت بھی کیوگارڈنز کا حصہ ہے، جسے کوئین وکٹوریہ نے عطیہ کیا تھا۔
کیوگارڈنز کے قیام کی 250ویں سال گرہ پر 2009ء میں رائل منٹ نے پچاس پنس کا ایک خصوصی سکہ جاری کیا، جو اس وقت برطانیہ میں 50 پنس کا نایاب ترین سکہ ہے اور جس کی قیمت تقریباً 100 پاؤنڈ ہے۔ اس سکے پر کیوگارڈنز کے گریٹ پگوڈا کی تصویر ہے، جو کہ اس باغ کی خاص پہچان ہے۔ یہ پگوڈا 1761ء میں سر ولیم چیمبرز نے شہزادی آگسٹا کے لیے تعمیر کروایا تھا۔ اس دس منزلہ مینار کی بلندی 163 فٹ ہے اور 253 سیڑھیاں چڑھنے کے بعد اس کی سب سے بالائی منزل سے پورے کیوگارڈنز کا نظارہ کرنا ایک مسحور کر دینے والا تجربہ ہوتا ہے۔
باغ میں چوں کہ دنیا بھر سے لائے گئے پودے اور درخت اُگائے گئے ہیں، اس لیے یہاں دس مختلف کلائمیٹ زون بنائے گئے ہیں۔ صحراؤں، پہاڑوں، میدانوں، سمندروں، دریاؤں اور برساتی جنگلوں میں اُگنے والے ہر طرح کے نباتات کو مختلف ایسے زونز میں رکھا گیا ہے جہاں ان کو ان کی قدرتی ضرورت کے مطابق درجۂ حرارت اور ماحول میسر آسکے۔ اسی شان دار حسنِ انتظام کی وجہ سے یہاں ہزاروں اقسام کے پودے اور درخت کئی دہائیوں سے پروان چڑھ رہے ہیں۔ مجھے اس باغ کا سب سے خوب صورت اور شان دار حصہ وہ لگتا ہے جہاں ایک بہت بڑی جھیل کے اندر بہت بڑے بڑے پتوں والے کنول کے پھول(واٹر للی) تیرتے رہتے ہیں۔ اس واٹر للی ہاؤس میں کنول کے پودوں کے گول پتوں کی چوڑائی دو میٹر تک ہے، جنھیں دیکھ کر ہر کوئی ششدر اور حیران رہ جاتا ہے اور ان کے درمیان کھلے ہوئے کنول کے گلابی اور جامنی پھولوں کی مہک ایک خاص طرح کی کشش رکھتی ہے۔ مَیں نے اسی طرح کے کنول کے پھول اور ان کے بڑے بڑے گول پتے ماریشس کے بوٹینکل گارڈن میں بھی دیکھے تھے، لیکن جس طرح ان کی دیکھ بھال کیو گارڈنز میں کی جاتی ہے اس کا جواب نہیں۔
انگریزوں کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ کسی بھی چیز کو بنا کر اسے بے یارومددگار نہیں چھوڑ دیتے بلکہ اس کی حفاظت، دیکھ بھال اور حالات کے تقاضوں کے مطابق اس کی تزئین و آرایش میں اضافے کے لیے کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھتے۔ باغات ہوں یا عمارات، عجایب گھر ہوں یا ریل گاڑیاں، انگریزوں نے ہر معاملے میں بنانے کے بعد سنوارنے پر بھی خصوصی توجہ دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انگریزوں کی صدیوں پہلے کی یادگاریں آج بھی دنیا بھر کی توجہ کا مرکز ہیں، جس کی سب سے بڑی مثال کیوگارڈنز ہے، جو ڈھائی صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود بھی شان دار طریقے سے قایم و دایم ہے اور ہر برس لاکھوں لوگ دنیا بھر سے اسے دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔
انگریز ہر معاملے کو ایک سسٹم کے تحت چلانے کے قایل ہیں۔ کیوگارڈنز ہو یا لندن کا انڈرگراؤنڈ ٹرین نیٹ ورک، وہ اس شان دار طریقے سے نظام کو ترتیب دیتے ہیں کہ اداروں کے سربراہ اور منتظم کے بدلنے سے بھی نظام کامیابی سے چلتا رہتا ہے۔ کیوں کہ افراد سے زیادہ نظام اہمیت رکھتا ہے۔ اگر آپ کبھی لندن آئیں، تو کیو گارڈنز کی سیر کرنا نہ بھولیں۔ اگر آپ فطرت اور نباتات سے محبت کرتے ہیں، تو آپ کو یہاں آ کر بہت خوش گوار احساس ہوگا۔ اگر آپ صحرائی پودوں کے زون میں داخل ہوں گے، تو آپ کو یوں لگے گا کہ آپ واقعی کسی صحرا میں آگئے ہیں۔ مجھے تو یہ زون اس لیے بھی اچھا لگا کہ یہاں پہنچ کر مجھے 25 ہزار 8 سو مربع کلومیٹر پر پھیلا چولستان یاد آ گیا اور ساتھ ہی مجھے باصر کاظمی کا یہ شعر بھی پھر سے یاد آنے لگا:
باغ اِک ہم کو ملا تھا، مگر اُس کو افسوس
ہم نے جی بھر کے اُجاڑا ہے سنوارا کم ہے
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔