بدھ ازم میں ایک لفظ ہے جسے ’’بودھی ستوا‘‘ (Boddhisatva) کہتے ہیں۔ اس لفظ کے معنی ہیں وہ انسان جو دوسروں کو خود پر ترجیح دے۔ یہاں ترجیح سے مراد دوسروں کو خوش کرنا (People Pleaser) نہیں۔ بدھ ازم کی ہم دردی بھی بہت سرد (Cold Compassion) ہوتی ہے۔ کیوں کہ بدھا آپ کی انا کو تسکین پہچانے کے لیے آپ کو خوش کرنا یا گرم جوشی سے آپ کے دکھ میں شریک ہونے سے گریز کرتا ہے۔
ندا اسحاق کی دیگر تحاریر کے لیے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/ishaq/
یہاں بودھی ستوا کو مَیں ایک ایسے انسان کی حیثیت سے بیان کررہی ہوں جو دوسروں کو پہلے بولنے دیتا ہے، جو اپنی بولنے والی چاہ پر قابو پا کر دوسروں کی سنتا ہے، انھیں ترجیح دیتا ہے۔
اب چوں کہ مجھ میں بھی بولنے کی ہوس اور لالچ ہے، اور میرا بھی ہمیشہ یہی دل کیا کہ مَیں دوسروں کو اپنی سناؤں، لیکن میری جاب ایسی ہے جس میں مجھے دوسروں کو نہ صرف سننا ہے…… بلکہ ان کے متعلق کوئی رائے قائم نہیں کرنی، ان کی کسی بات کو ذاتیات پر نہیں لینا، ان کے رویوں کو درست کرنے کے متعلق کچھ بولنا ہے اور نہ سوچنا۔ کیوں کہ سوچوں گی، تو اس انسان کی بات کو ٹھیک سے سن نہیں پاؤں گی۔
مَیں نے خود کو تربیت دی دوسروں کو سننے کے لیے۔ مجبوری یا لاچاری میں نہیں بلکہ غیرجانب دار اور ہم درد ہوکر سننے کے لیے ۔ یہ سب آسان نہیں ہوتا۔ مَیں آج بھی پرانے رویوں پر جانے لگتی ہوں، تو خود کو روک لیتی ہوں۔
لیکن کیا مَیں نے ایسا اس لیے کیا کیوں کہ یہ میری جاب ہے؟
اگر مَیں اس لیے ایسا کرتی کہ سننا میری جاب ہے، مجھے یہ کرنا ہوگا، تو مَیں کبھی خود میں سننے کی ہمت نہیں لاسکتی تھی۔
صرف وہی انسان سن سکتا ہے جس نے اپنے اندر کے درد، خوف، اُکتاہٹ، کراہت، بے چینی اور تکلیف کو سنا ہو، جس نے اپنے باطن کو بہت غور سے اور گہرائی میں سنا ہو۔ اپنے جذبات کو سننے ، ان کے ساتھ بیٹھنے اور پراسس کرنے سے ہوتا یہ ہے کہ آپ میں دوسروں کی تکلیف کو سننے کی ہمت بھی آجاتی ہے۔ آپ زبردستی دوسروں کو سننے والی سرگرمی کو خود پر حاوی نہیں کرسکتے۔ یہ تب ہی آتی ہے جب آپ سب سے پہلے اپنے جذبات کو سنتے ہیں، خود کو سنتے ہیں۔
سننا ایک آرٹ ہے، لیکن اس آرٹ میں مہارت تب آتی ہے جب آپ کو خود کو سننا آئے۔ اکثر ہم اپنے جذبات کو نہ سننے کے لیے ہی زیادہ بولنے کو ترجیح دیتے ہیں، اور یہ عمل عموماً اپنی حقیقت سے توجہ ہٹانے کا ذریعہ ہوتا ہے (Distraction)۔
اپنے اندر کے کھوکھلے پن، جذبات اور درد کا سامنا نہ کرنا پڑے، تبھی ہمارے اندر زیادہ بولنے کی چاہ آتی ہے ۔
آپ کو دوسروں کو سننے اور سمجھنے کے لیے پہلے خود کو سننا اور سمجھنا ہوگا اور یہی ایک بودھی ستوا کا مقصد ہوتا ہے۔
دنیا میں سب سے پُرکشش اور طاقت ور انسان وہ ہے جو خودآگاہ ہے اور دوسروں کو سننے اور سمجھنے کی ہمت اور صلاحیت رکھتا ہے ۔
اگر آپ ایک اچھا سامع بننا چاہتے ہیں، تو اپنے باطن کے ساتھ جڑنے کے بعد اپنے بچوں کی باتیں ضرور سنیں۔ یہ ایک ایسی پریکٹس ہے جو آپ میں صبر اور سننے کی سکت بڑھاتی ہے۔ آپ کے بچے آپ کو اپنے باطن اور بچپن کے ساتھ جوڑ کر آپ کے پرانے زخموں (Childhood Wounds) کو بھرنے کی سکت رکھتے ہیں۔ یہ میرا ذاتی تجربہ ہے۔
جامع ترمذی میں ایک حدیث ہے کہ ایمان والوں میں سب سے اعلا درجے پر وہ ہے جس کا رویہ اپنی فیملی کے ساتھ مخلصانہ اور مہربان ہے۔ وقت نکال کر اپنے بچوں اور ہم سفر کو سنیں۔ اس سے ان سے زیادہ آپ کی ذات کو فایدہ ہوگا۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔