یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ صوبے میں وزیرِ اعلا، کابینہ اور صوبائی اسمبلی کے اراکین عوام کے منتخب کردہ نمایندے ہوتے ہیں، جو صوبے کے حکومتی اور انتظامی امور چلاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام صوبوں میں وفاق کا نمایندہ بھی موجود ہوتا ہے، جسے گورنر کہتے ہیں۔
اختر حسین ابدالی کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/akhtar-hussain/
عام حالات میں گورنر کا عہدہ محض علامتی ہوتا ہے۔ کیوں کہ صوبے میں حکومتی پالیسیوں پر عمل در آمد کروانا یا انتظامی امور کو چلانا ایک منتخب صوبائی حکومت کے ذمے ہوتا ہے…… مگر جب ’’گورنر راج‘‘ لگتا ہے، تو ایک محدود مدت کے لیے صوبے کے تمام تر اختیارات گورنر کے ہاتھ آجاتے ہیں…… اور وزیرِ اعلا اور ان کی اسمبلی بے اختیار ہو جاتی ہے۔
آئینِ پاکستان کے دسویں باب میں دو شقیں ایسی ہیں جن کی بنیاد پر صوبے میں ’’ایمرجنسی‘‘ یا ’’گورنر راج‘‘ لگایا جاسکتا ہے، جن میں آرٹیکل 232 اور 234 شامل ہیں۔
اگر صدرِ پاکستان سمجھتے ہیں کہ پاکستان یا اس کے کسی حصے کو جنگ یا بیرونی خطرات لاحق ہیں، یا ایسی اندرونی شورش ہے جو صوبائی حکومت کے بس کی بات نہیں، تو وہ ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرسکتے ہیں۔ تاہم اندرونی خلفشار کے باعث لگنے والی ایمرجنسی کی صورت میں اس فیصلے کے نفاذ سے پہلے متعلقہ صوبائی اسمبلی سے توثیق لازم ہے۔
شق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر صدرِ مملکت ذاتی طور پر کسی صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے کا اقدام کر لیں، تو اس صورت میں انھیں پارلیمان کے دونوں ایوانوں یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ سے 10 روز کے اندر اپنے فیصلے کی توثیق کروانا ہوگی۔
قارئین، گورنر راج یا ایمرجنسی کی صورت میں متعلقہ صوبے کے انتظامی امور اور قانون سازی کا اختیار وفاقی پارلیمان کے پاس منتقل ہو جائے گا۔ وفاقی حکومت خود یا صوبائی گورنر کو اختیار دے سکتی ہے کہ وہ وفاقی حکومت کے نمایندے کے طور پر وہاں تمام امور سر انجام دیں…… تاہم صوبے کی ہائی کورٹ کے اختیارات وفاقی حکومت یا گورنر کو منتقل نہیں ہوتے۔
اب آرٹیکل 234 کے تحت اگر صدر کو صوبائی گورنر یہ رپورٹ پیش کر دے کہ صوبے میں ایسی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے کہ جس میں صوبائی حکومت آئین کے وضع کردہ طریقۂ کار کے تحت کام نہیں کرسکتی، تو وہ یہاں گورنر راج نافذ کرتے ہوئے تمام اختیارات اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا صوبے میں اپنے نمایندے یعنی گورنر کے حوالے کر سکتے ہیں۔
آئینِ پاکستان کے مطابق اس صورت میں صوبائی اسمبلی کے اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل ہوجاتے ہیں، جب کہ ہائی کورٹ کے اختیارات نہیں لیے جا سکتے۔
پختونخوا ملی عوامی پارٹی اندرونی خلفشار کا شکار کیوں؟:
https://lafzuna.com/current-affairs/s-30199/
گورنر راج کی مدت صرف دو ماہ ہو سکتی ہے اور اس کی توثیق بھی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے کروانا ہوتی ہے۔ جب کہ گورنر راج میں مشترکہ اجلاس کے ذریعے ایک وقت میں صرف دو ماہ کی توسیع ہی کی جاسکتی ہے۔ جب کہ اس کی کل میعاد 6 ماہ سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔
اگر اس دوران میں قومی اسمبلی تحلیل ہو بھی جائے، تو صوبے میں گورنر راج تین ماہ تک نافذ رہے گا…… جب تک کہ قومی اسمبلی کے انتخابات نہ ہوجائیں یا سینیٹ اس ضمن میں کوئی فیصلہ نہ کرلے۔
قارئین، آرٹیکل 233 ’’ایمرجنسی‘‘ کے دوران میں بنیادی حقوق وغیرہ معطل کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ ایمرجنسی کا اعلان نافذ العمل ہو، تو صدر حکم کے ذریعے اعلان کیا جاسکتا ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔