ملک کی گنی چنی نظریاتی جماعتوں میں سے ایک پختونخوا ملی عوامی پارٹی بھی ہے، جو اس وقت سخت اندرونی خلفشار سے گزر رہی ہے، جو کہ قابلِ افسوس بات ہے۔ لگتا ہے یہ جماعت بھی سندھی قوم پرست جماعتوں کی طرح تقسیم در تقسیم کی نذر ہوجائے گی۔
انعام اللہ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/inam-ullah/
ایک طرف پارٹی چیئرمین ’’مشر محمود خان اچکزئی صاحب‘‘ ہیں، جو دراصل اپنے والد (مرحوم) خان عبدالصمد خان اچکزئی کے سیاسی گدی نشین ہیں، جب کہ دوسری طرف سوات سے تعلق رکھنے والے پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری مختیار خان یوسف زئی ہیں، جن کے ساتھ پارٹی کی مرکزی ایگزیٹو کمیٹی کے اکثیریتی ارکان کھڑے ہیں۔
کالج کے زمانے میں ہمارا سامنا پختونخوا ملی عوامی پارٹی کی طلبہ تنظیم ’’پختون سٹوڈنٹس آرگنائزیشن‘‘ یا ’’پی ایس اُو‘‘ سے ہوتا تھا۔ یہ ایک نظریاتی تنظیم سمجھی جاتی تھی۔ پی ایس او کا نعرہ ہوتا تھا: ’’لہ چترالہ تر بولانہ، پختون یوکہ محمود خانہ‘‘ یعنی ’’اے محمود خان، چترال سے بولان تک سارے پختونوں کو متحد کردو!‘‘ لیکن آج صورتِ حال یہ ہوگئی ہے کہ محمود خان کے سامنے باقی پشتونوں کا اتحاد تو ایک طرف، خود اپنی خانہ ساز پارٹی کا شیرازہ بھی بکھر رہا ہے۔ پارٹی کے اندر اُن کے مخالفین کا الزام ہے کہ وہ اقربا پروری کا شکار ہوگئے ہیں…… اور انھوں نے پارٹی نظریات سے صریح انحراف کیا ہوا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ پارٹی گذشتہ دس سالوں سے نظریاتی بحران کا شکار تھی، لیکن یہ اندرونی بے چینی اب اس قدر بڑھ گئی ہے کہ پارٹی واضح طور پر دو دھڑوں میں تقسیم ہونے کی طرف گام زن ہے۔ دراصل قوم پرست جماعتیں ہوں، یا عام مذہبی اور سیاسی جماعتیں، یہ سب مزاحمت اور ردِعمل کی پیداوار ہوتی ہیں…… اور قیادت کے حوالے سے کسی نہ کسی شخصیت کی مرہونِ منت ہوتی ہیں۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ وہ شخصیت یا اس کی اولاد پارٹی کو جاگیر بنانا شروع کرتی ہے، جسے عام پارٹی ورکرز اس لیے چار و ناچار قبول کرتے ہیں کہ باقی کسی رہنما پر پارٹی کے لوگ متفق اور متحد نہیں ہوپاتے۔ پاکستان مسلم لیگ ہو یا پاکستان پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام ہو یا عوامی نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی…… سبھی اسی ذیل میں آتی ہیں۔
بوڈاگے اور خود ساختہ دانش ور:
https://lafzuna.com/current-affairs/s-30167/
پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے معاملے میں دلچسپ بات البتہ یہ ہے کہ محمود خان اچکزئی کو ولی خان جیسی حیثیت حاصل ہونے کے باوجود ان کی قیادت کو چیلنج کیا گیا ہے اور وہ بھی ایک ایسے پارٹی کارکن کی طرف سے جن کا تعلق کسی سیاسی خاندان سے نہیں۔ مختیار خان یوسف زئی کے مطابق موجودہ سنٹرل باڈی کے 110 میں سے 70 ارکان اُس کے ہم خیال ہیں۔
سیاسی جماعتوں میں اندرونی خلفشار کی بنیادی وجہ یہ ہوتی ہے کہ پارٹی میں اندرونی جمہوری عمل کی نفی کی جاتی ہے۔ مرکزی عہدوں پر تقرر کے لیے باقاعدہ انتخاب کی جگہ نام زدگیاں کی جاتی ہیں۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں، اسٹیبلشمنٹ سے جمہوریت پر شب خون مارنے کی شکایتیں کرتی رہتی ہیں، لیکن خود اپنے ہاں جمہوریت کی بجائے ڈکٹیٹرشپ پر یقین رکھتی ہیں۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔