ماسکو کے عین مرکز میں کریملن کے قریب واقع تاریخ کے سٹیٹ میوزیم کی جدت کاری کے بارے میں اعلان کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں منصوبے بہت پہلے تیار کیے گئے تھے اور اب میوزیم کے ڈائریکٹر الیکسے لیوی کین انھیں منظرِ عام پر لے آئے ہیں۔
لیوی کین پیشے سے تاریخ دان ہیں۔ انھوں نے کریملن کے عجایب گھروں میں ایک طویل عرصے تک کام کیا۔ تاریخ کے میوزیم کے ڈائریکٹر کا عہدہ سنبھال کر انھوں نے دراصل خاندانی فریضہ جاری رکھا ہے۔ کیوں کہ گذشتہ صدی کے 70ویں سے 90ویں دیائی تک ان کے والد پروفیسر "Konstantin Levykin” اس میوزیم کے سربراہ کے فرایض سرانجام دے رہے تھے۔ اس زمانے میں ہی میوزیم کے مجموعے میں شامل نمونے پیش کیے جانے کے لیے رقبے کی کمی کا مسئلہ پیدا ہوا تھا۔ ویسے تو یہ میوزیم جس عمارت میں واقع ہے، وہ بہت خوب صورت ہے اور تاریخی اہمیت کا حامل بھی ہے۔ یہ عمارت جو 1881ء میں مشہور معمار ’’شیرووڈ‘‘ کے خاکے کے مطابق تعمیر کی گئی تھی، یونیسکو کی عالمی ثقافتی وراثت کی فہرست میں درج ہے۔
شروع سے ہی اس میوزیم کا مقصد تھا کہ وہ روسی ریاست کی تاریخ سے متعلق نمونوں کا ذخیرہ ہوگا۔ اب تک میوزیم کے مجموعے میں اتنے زیادہ نوادرات شامل ہوچکے ہیں کہ ان کی نمایش میں دقتیں پیش آنے لگی ہیں۔ اس سلسلے میں یہ کہنا کافی ہوگا کہ پچھلی صدی کے شروع میں تاریخ کے معروف مجموعہ ساز "Piotr Schukin” نے تین لاکھ نمونے میوزیم کے حوالے کر دیے تھے۔
اس لیے تاریخ کے میوزیم کی جدت کاری کا اولین مقصد نمایشی رقبے میں اضافہ کرنا ہے۔ میوزیم کے ڈائریکٹر الیکسے لیوی کین نے بتایا کہ ایک میوزیم کمپلیکس قایم کیے جانے کا منصوبہ ہے۔ نمائشیں منعقد کرنے کے نئے طریقے اپنائے جائیں گے اور نئی ٹکنالوجیز سے کام لیا جائے گا۔
یاد رہے کہ تاریخ کے میوزیم کے اہل کاروں کو مختلف لوگوں کی دلچسپیوں کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے، تاکہ بچے اور بڑے دونوں یہ نمائشیں شوق سے دیکھیں۔
تاہم میوزیم کی توسیع کے سلسلے میں اختلافات شروع جاری ہیں۔ کئی لوگ اس کے خلاف ہیں کہ 16 سے 19ویں صدی تک بنائی گئی وہ عمارات اس میوزیم کے حوالے کر دی جائیں جو اس کے نزدیک لال چوک پر واقع ہیں۔
معاشرے میں ایک اور منصوبے کے سلسلے میں بھی شک ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے تحت روس کی ممتاز شخصیات کی تصاویر کے لیے گیلری قایم کی جانی ہوگی۔ ویسے تو ایسی گیلری کی تجویز فن کاروں کے مشہور روسی سرپرست "Pavel Tretiakov” نے 19ویں صدی کے آخر میں ہی پیش کر دی تھی، لیکن اس کو عملی شکل نہ دی جا سکی…… لیکن گذشتہ عرصے میں ایسی گیلری کے لیے ایک ہزار سے زاید نمونے جمع کیے جاچکے ہیں جن میں "Avantgardism” طرز پر بنائی گئی ’’ولادی میر پوتین‘‘ کی تصویر اور ایک بزرگ دانا کی شکل میں 1960ء کے سوویت سربراہ "Nikita Khruschov” کی تصویر بھی شامل ہے۔ رواں سال ماہِ مارچ میں ماسکو میں ان کی نمائش ہوئی۔
معاشرے کے لیے تاریخ میں شخصیت کی اہمیت ہمیشہ مرکز دلچسپی رہی ہے۔ اس کے علاوہ ہر مصور کا تاریخی شخصیات کے کردار پر اپنا اپنا نکتۂ نظر ہوتا ہے ۔ اسی لیے اس طرح کی گیلری کے قیام پر اتنی گرما گرم بحث ہو رہی ہے۔
قدیم اشیا کے تاجروں کی بین الاقوامی فیڈریشن کے صدر "Georgiy Putnikov” کے مطابق نیشنل پورٹریٹ گیلری تصاویر کے ایک معمولی مجموعے سے کچھ زیادہ ہوگی۔ اس سلسلے میں وسیع پیمانے کی تحقیقات کی ضرورت ہے جو ’’علم الانساب‘‘ سے وابستہ ہوں۔
تاریخ کے سٹیٹ میوزیم کا ایک اور بڑا پراجیکٹ 1812ء میں ہوئی بادشاہ نپولین کی زیرِ کمان فرانس کی افواج کے خلاف اس جنگ سے وابستہ ہے، جو روس شان دار طریقے سے جیت گیا تھا۔ اس جنگ سے متعلق روس میں کوئی الگ میوزیم نہیں…… جب کہ اس جنگ کے حوالے سے بہت سی دستاویزات محفوظ ہیں اور فنی نمونے بھی بہت زیادہ ہیں۔
لال چوک کے علاوہ ماسکو کے علاقے "Izmaylovo” میں بھی چند عمارات تاریخ کے سٹیٹ میوزیم کی ملکیت ہیں۔
میوزیم کے ڈائریکٹر "Alexei Levykin” بتا رہے ہیں: ’’یہ ‘Romanov’ گھرانے سے تعلق رکھنے والے روس کے پہلے بادشاہ ‘Alexei Mikhaylovich’ کے محل کی باقیات ہیں جو 17ویں صدی میں تعمیر کیا گیا تھا۔ کچھ نزدیکی عمارات 1 9ویں صدی میں بنائی گئی تھیں، جن کی اکثریت ہمارے میوزیم کے حوالے کی جا چکی ہے۔ اب وہاں وہ نوادرات منتقل کیے جا رہے تھے جو پہلے "Novodevichiy” مانسٹری میں محفوظ تھے۔‘‘
منصوبہ ہے کہ ایزمائلووو میں مرمت کا مرکز قایم کیا جائے اور نئے نمائشی ہال کھولے جائیں۔ اس وقت یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ کس قسم کی نمائشیں ہوں گی لیکن وہ ہوں گی ضرور۔
(فیس بُک صفحہ ’’جانئے روس کے بارے میں‘‘ سے انتخاب)
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔