’’جانے کی باتیں جانے دو!‘‘ تو کیا اصل بلی یہ تھی جو تھیلے سے نکلنا تھی…… یا چھیچھڑوں کی بو سونگھ کر بلی کے منھ سے رال ٹپکنے لگی…… اور میاؤں میاؤں کرنے لگی؟
بہرحال معاملہ جو بھی ہو…… لیکن یہ وہ تنکا ثابت ہوسکتا ہے جو اونٹ کی کمر توڑ سکتا ہے۔ پچھلے دو دنوں سے ایکسٹینشن کے ٹینشن کی خبروں نے گردش شروع کی اور کل رات (9 نومبر) سوشل میڈیا خصوصاً یوٹیوبرز کے لیے بریکنگ اور شاکنگ نیوز بن گئیں۔
طالع مند خان کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کیجیے: 
https://lafzuna.com/author/taliman/
ایک طرف سے موجودہ سیاسی افراتفری اور معاشی تباہی کی ذمے داری کے لیے پہلے سے پراجیکٹ عمران، باجوہ ڈاکٹرائن اور ایکسٹینشن کی طرف انگلیاں اُٹھ رہی ہیں۔ اگر اس اثنا میں مختصر یا طویل دورانیہ کے لیے موجودہ آرمی چیف کو ایک اور توسیعِ ملازمت مل گئی، تو اس سے سیاسی فالٹ لائنز نہ صرف مزید گہرے ہوں گے، بلکہ اس کے عواقب پر بعد میں قابو پانا مشکل ہوجائے گا۔
سرِدست تو موجودہ سیاسی انتشار کا ملبہ موجودہ آرمی چیف پر ڈلے گا کہ یہ سب کچھ ایکسٹینشن کے لیے کیا گیا ہے…… جس کے لیے اسٹیبلشمنٹ کا ایک ہاتھ پی ڈی ایم اور دوسرا پی ٹی آئی کے سر پر ہے۔ سیاست میں مداخلت ختم کرنے کو ایک ڈھونگ اور اسٹیبلشمنٹ میں مبینہ دھڑے بندی کو نورا کشتی سمجھا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایکسٹینشن دینے کا مطلب پی ڈی ایم، خصوصاً ن لیگ اور پی ٹی آئی دونوں کے لیے سیاسی موت سے کم نہیں ہوگا۔ کیوں کہ پی ڈی ایم اور ن لیگ نے اپریل سے پہلے اور پی ٹی آئی نے اس کے بعد جنرل باجوہ کا نام لے کر تنقید کیا، بلکہ پی ٹی آئی تو معاملہ ’’میر جعفر‘‘ اور ’’میر صادق‘‘ تک لے گئی۔ لہٰذا اس صورت میں سیاسی جماعتیں اور اسٹیبلشمنٹ دونوں ناقابلِ دفاع عوامی تنقید اور پکڑپن کے زد میں ہوں گے…… اور اس کے نتیجے میں حالات کوئی بھی رُخ اختیار کرسکتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ موجودہ سیاسی چپقلش نے دونوں طرف کے سیاست دانوں کو کم زور کرکے اہم فیصلہ سازی کے اہل نہیں چھوڑا، لیکن اس وقت اسٹیبلشمنٹ کی حالت بھی کچھ زیادہ قابلِ رشک نہیں۔
فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کیا ہے؟:
https://lafzuna.com/blog/s-30034/
اب ’’غیر یقینی صورتِ حال‘‘، ’’قومی سلامتی اور سیاسی عدمِ استحکام ہے‘‘، ’’ملک حالتِ جنگ میں ہے اور اس حال میں سپہ سالار نہیں بدلا جاتا‘‘ جیسے بیانیے بھی بری طرح پٹ گئے ہیں۔ ملازمت میں توسیع پر توسیع لینے کے لیے کوئی ان دلایل اور تاویلات کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ جنرل کیانی کے لیے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ لڑنے اور تسلسل برقرار رکھنے کے لیے ملازمت میں توسیع ضروری قرار دی گئی۔ کم و بیش اس بنیاد پر راتوں رات ’’شکریہ راحیل شریف‘‘ اور ’’جانے کی باتیں جانے دو!‘‘ جملوں والے بینر طلسماتی طور پر سڑکوں پر آویزاں ہوئے۔ اس کے بعد 2019ء میں جنرل باجوہ کو توسیع دینے یا لینے کے لیے بھارت کی طرف سے جنگ کے خطرے اور معاشی استحکام لانے کا جواز پیش کیا گیا۔ ایکسٹینشن بھی مل گئی، لیکن اگر نہیں بدلے، تو وہ حالات جن کو بنیاد بناکر توسیعِ ملازمت دی گئی تھی۔ اب منطقی طور پر ہر کسی کے ذہن میں یہ بات آسکتی ہے کہ کیا مذکورہ حالات ملازمت میں توسیع کے متقاضی تھے یا توسیع لینے کے لیے اس قسم کے حالات پیدا کرنا ضروری تھے؟
اگر سیاسی استحکام لانے کے لیے موجودہ آرمی چیف کو ملازمت میں توسیع دینا ضروری خیال کیا جاتا ہے، تو اس سوال کا جواب کون دے گا کہ اس آرمی چیف کے ہوتے ہوے پھر یہ حالات کیوں پیدا ہوئے؟ اگر ان کی موجودگی سیاسی استحکام کی ضمانت دے سکتی ہے، تو کیا اپریل کے بعد وہ ’’افسر بکارِ خاص‘‘ تھے اور ایک اور ایکسٹینشن کے بعد ان کے پاس کچھ زیادہ اختیارات آجائیں گے؟ جنرل صاحب اور ان کے ادارے کے لیے تو سب سے زیادہ بہتر یہی ہوتا کہ عدمِ اعتماد کے فوراً بعد استعفا دے کر عزت سے گھر چلے جاتے۔ یہ عمل ان کے ڈاکٹرائن کی وجہ سے ان کی ذات اور ادارے پر لگا دھبا ضرور کچھ حد تک دھو دیتا، لیکن اِس وقت ایک اور توسیع لینے کے بعد وہ اپنے آپ کو تاریخ کی عدالت میں تقریباً ناقابلِ معافی حیثیت میں کھڑا کر دیں گے۔ جو بھی ان کو یہ مشورہ یا ترغیب دیتا ہے، وہ جنرل صاحب کے ساتھ مخلص نہیں ہوسکتا۔
غصہ اور اس کی قسمیں:
https://lafzuna.com/blog/s-30009/
آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے تو ایک دفعہ سے زیادہ واشگاف الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ ایکسٹینشن اگر دی بھی جائے، تو قبول نہیں کی جائے گی۔ ایکسٹینشن کے نتیجے میں تو گلی گلی سے یہ آوازیں اُٹھیں گی کہ کیا ہوئے وہ وعدے، وہ ارادے!
لہٰذا ایسا کوئی بھی اقدام اور موجودہ حکومت پر مزید دباو ڈالنا پہلے سے مکدر سیاسی فضا کو تیزابی بناسکتا ہے۔ پہلے سے یہ شکوک و شبہات اور چہ میگوئیاں سیاست کے بازار میں کافی مقدار میں موجود ہیں کہ عدمِ اعتماد کے نتیجے میں شہباز شریف قیادت میں آئے۔ پہلے سے کم زور پی ڈی ایم کی حکومت کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا ہے۔ اس حکومت کے پاس اس بند گلی سے نکلنے کا ایک راستہ تھا۔ پنجاب کی حکومت نے سپریم کورٹ کے ذریعے وہ بھی بند کردیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اِس کے لیے سپریم کورٹ کے اُس بینچ نے اپنے سابقہ حکم کے متضاد فیصلہ دیا ہے۔ عدمِ اعتماد کے بعد عمران خان کا جارحانہ سیاسی طرزِ عمل، ان کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ اور اعلا عدالتوں کا خصوصی اور مشفقانہ سلوک اور اس کو ’’اسٹیبلشمنٹ میں ان کے حامی طاقت ور دھڑے‘‘ اور ’’عوامی مقبولیت‘‘ کا لبادہ اوڑھانا اسٹیبلیشمنٹ کا گھناونا کھیل سمجھا جائے گا۔ لہٰذا، اگر ایسا کوئی خواب، خیال، چال اور پلان کسی خفیہ گوشے میں موجود ہے، تو اس پر نظرِ ثانی کی جائے۔ کیوں کہ ایسی کوئی بھی لغزش ’’اُم التباہی‘‘ ثابت ہوسکتی ہے۔ ذہنیت، منصوبہ ساز اور سیاسی انجینئر وہی ہیں، لیکن حالات بدل گئے ہیں۔
اقبال اور ہمارے چار گروہ: 
https://lafzuna.com/poetry/s-30022/
اگر چند ارب ڈالر آنے کے امکان سے منھ سے رال ٹپکنا شروع ہوگئی ہے، تو ضبط کا دامن تھام لیں۔ کیوں کہ چار دن چاندنی کے بعد اس دفعہ لمبی اندھیری رات ہوگی۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔