پاکستان کا شمالی صوبہ خیبر پختونخوا اپنی قدیم تاریخی عظمت اور دورِ جدید میں قومی اور بین الاقوامی لحاظ سے اہم پٹی ہے، جس کے مغرب میں افغانستان، مشرق میں پنجاب اور کشمیر جب کہ جنوب کی جانب صوبہ بلوچستان واقع ہیں۔ اس صوبہ کو شمال اور مغربی جانب کوہِ ہندوکُش اور جنوب کی جانب سلسلۂ کوہِ سلیمان نے گھیر رکھا ہے۔
چھبیس اضلاع پر مشتمل خیبر پختونخوا میں بونیر کو بھی ضلعی حیثیت حاصل ہے۔ صوبائی دارالخلافہ ضلع پشاور سے 132 کلومیٹر کے فاصلے پر شمال مشرق میں واقع ضلع بونیر لاتعداد خوبصورت دروں، چوٹیوں اور میدانوں پر مشتمل ہے۔
پاکستان کے شمال مغرب میں واقع ضلع بونیر شمالاً 34-22 تا 34-34 عرض بلد اور شرقاً 11-72 تا 51-72 طول بلد کے درمیان واقع ہے۔ قبیلوی لحاظ سے ضلع بونیر پشتونوں کی دو بڑی شاخوں ’’یوسف زئی‘‘ اور ’’مندنٹر‘‘ میں تقسیم ہے۔ بونیر خاص اور چغرزئی میں یوسف زئی کی ذیلی شاخیں آباد ہیں، جب کہ خدوخیل اور چملہ امازئی میں غالب اکثریت مندنٹر قبائل کی ہے۔
جغرافیائی لحاظ سے ضلع بونیر کو چار وادیوں بونیر، چغرزئی، خدوخیل اور چملہ امازئی میں تقسیم پہاڑی حصاروں نے گھیر رکھا ہے۔ یہاں مندنٹر اور یو سف زئی پشتون قبیلوں کے علاوہ سادات، اخوندخیل، مشوانی، گوجر، کاکاخیل، شیخان (اولادِ اخوند پنجو) سکھ، سواتی پٹھان اور اعوان وغیرہ بھی رہتے ہیں۔
ایلم اور امبیلہ کے درمیان وادئی بونیر واقع ہے جس کا زیادہ تر حصہ دریائے برندو اور اس کی معاون ندیوں کی مدد سے سیراب ہوتا ہے۔ جنرل ایبٹ کے مطابق دریائے برندو کو دریائے رام تخت بھی کہتے ہیں، جو نیچے وادی میں تقریباً پینتالیس میل کا لمبا سفر طے کرتا ہے۔ ایلم پہاڑ سوات اور بونیر کے درمیان حدِ فاصل کا کام دیتا ہے جو کہ کو ہِ دوہ سری سے مورا تک اڑتالیس کلومیٹر لمبائی رکھتا ہے جب کہ بونیر خاص کو چملہ سے جدا کرتا ہوا تقریباً 1525 میٹر اُونچائی تک کوہِ گڑو اور ارونئی تک پھیلا ہو ا سلسلہ ہے۔
درمائی پاس، خدوخیل اور امبیلہ کے درمیان حدِ فاصل کا کام دیتا ہے جس کے ایک طرف امبیلہ کا وسیع و عریض علاقہ اور دوسری طرف خدوخیل کا علاقہ ہے، جس کی سرحدیں ضلع صوابی سے ملی ہوئی ہیں۔ موسمی لحاظ سے ضلع بونیر مجموعی طور پر گرمیوں میں سخت گرم اور سردیوں میں سخت سرد علاقہ قرار دیا جاتا ہے، لیکن ضلع بونیر میں ایسے علاقے اور درے بھی ہیں، جو معتدل آب و ہوا اور اپنی خوبصورتی کی وجہ سے کافی شہرت کے حامل ہیں۔ خدوخیل اور چملہ امازئی کے شرقاً اور شمالاً شرقاً درے اور دیہات خوشگوار موسم اور معتدل آب و ہوا کے حامل ہیں۔ چغرزئی مجموعی طور پر سازگار موسم اور صحت بخش آب و ہوا کا حامل علاقہ ہے۔
بونیر کے خاص انتہائی شمالی پہاڑی علاقہ جات اپنے طبعی حالات، جغرافیہ، پُرفضا مقامات اور معتدل موسموں کی وجہ سے بونیر کے وسطی علاقوں کو مات دیتے ہیں۔
ضلع بونیر میں سالانہ 81 تا 88 سینٹی میٹر بارش ہوتی ہے۔ مو سمِ سرما نومبر تا فروری اور موسمِ گرما مارچ تا اکتو بر رہتا ہے۔ سردیو ں میں یہاں کے پہاڑی چوٹیوں جعفر، ایلم، جواڑی، کڑاکڑ، دوہ سری، سر ملنگ اور ڈوما وغیرہ پر برف پڑتی ہے، جب کہ معمولی رِم جھم کے ساتھ بونیر خاص میں دُھند کا ایسا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، جو سارے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ خصوصاً دیوانہ بابا کلیاڑئی وغیرہ کئی دنوں تک دھند کی لپیٹ میں رہتے ہیں۔ چغرزئی میں سال کے بارہ مہینے دُھند کی غیر موجودگی کے سبب ماحول صاف ستھرا آئینے کی طرح ہر منظر شفاف اور واضح نظر آتا ہے۔ یہاں کا ہر موسم دلفریب ہے، لیکن یہاں کا "منے” (اگست، ستمبر، اکتوبر) موسم خوشگوار ہوتا ہے۔ وہ اپنا پس منظر اور روحا نی جوبن رکھتا ہے۔ جس کی حقیقت پشتو زبان کے اس ٹپے سے خوب واضح ہوتی ہے:
سپرلی دَ کوز بونیر خائستہ وی
پہ منی راشہ چغرزئی مزہ کوینہ
ضلع بونیر کی سرحدیں چھے مختلف اضلاع سے ملی ہوئی ہیں۔ اس کے جنوب میں سرہ تھانہ بونیر کو ضلع صوابی سے جدا  کرتا ہے۔ جنوب مغرب میں امبیلہ سے غرباً رستم مردان اور مغرب کی جانب پہاڑی سلسلہ ضلع مردان اور ضلع بونیر کے درمیان حدِ فاصل ہے۔ شمال کی جانب ایلم پہاڑی، ضلع سوات اور ضلع بونیر کے درمیان سرحد کا کردار ادا کرتی ہے، جب کہ شمال مغربی جانب ملاکنڈ ضلع واقع ہے۔ شرقاً اور شرقاً جنوباً ضلع شانگلہ اور ضلع تورغر وا قع ہیں۔
1998ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع بونیر کی کل آبادی پانچ لاکھ ایک ہزار ایک سو چودہ افراد پر مشتمل، چھپن ہزار سات سو ستاسٹھ مکانات میں زندگی گزار رہی تھی۔ 2018ء کی مردم شماری کے مطابق بونیر کی آبادی آٹھ لاکھ نوے ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ 2002ء اور 2010ء کی حلقہ بندیوں کے تحت ضلع بونیر ایک قومی NA-28 اور تین صوبائی حلقوں PK-77,78,79، چار بڑی تحصیلوں (تحصیلِ ڈگر، تحصیلِ گاگرہ، تحصیلِ مندنٹر اور تحصیلِ خدوخیل) پر مشتمل، چار ٹاؤن کونسلوں اور 29 یونین کونسلوں میں منقسم ہے۔ 1865 مربع کلومیٹر پر محیط سیاسی لحاظ سے یہ ضلع زرخیز اذہان اور جمہوری سو چ کا حامل علاقہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں مؤثر حلقہ موجود ہے۔ معدنیات، تاریخ اور سیاحت کے حوالے سے ضلع بونیر بھی حسین مقامات، معدنی وسائل اور تاریخی آثار کا بڑا اثاثہ رکھتا ہے، لیکن سیاحوں، محققین اور ماہرین کی نظروں سے اُوجھل ہے۔ حکومتی سطح پر یہ ہر دور میں نظر انداز رہا ہے جو کہ ہر سیاسی سیٹ اَپ، سو ل سوسائٹی، دانشوروں اور اس ضلع کے مختلف میدانوں میں ماہرین کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

……………………………………………………………….

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔