مملکتِ خداداد پاکستان میں سیاست بازی اپنے عروج پر ہے۔ اب چال مہروں اور گھوڑوں سے آگے کے لیول پر پہنچ گئی ہے۔ کیا نومبر کے مہینے میں کسی بھی وقت اس کا اینٹی کلائمکس متوقع ہے؟ اس کا جواب وقت پر چھوڑتے ہیں۔
اس دفعہ معاملات پیچیدہ اور پُرپیچ لگ رہے ہیں۔ اس وقت عوام کے ذہنوں میں سوالات کا ایک تلاطم اُٹھ رہا ہے، جن کے سلجھے ہوئے جوابات کی بجائے ہر طرف سے الجھی باہمی دشنام طرازیوں سے بھرپور پریس کانفرنسوں اور خطابوں کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے، جو ہر گزرتے روز گتھی کو سلجھانے کی بجائے مزید الجھا کر رکھتا ہے ۔
غیر ممکن ہے کہ حالات کی گتھی سلجھے
اہلِ دانش نے بہت سوچ کے اُلجھائی ہے
اس خود غرضانہ اور سفاک ذاتی اور گروہی اقتدار کے کھیل میں اگر کوئی پیسا جا رہا ہے، تو وہ ہیں عام عوام۔ اس شور وغل میں کیا کسی کو یاد ہے کہ دو مہینے پہلے اس مملکتِ خداداد کا ایک تہائی حصہ سیلاب میں ڈوب گیا تھا، تین کروڑ سے زیادہ ہم وطنوں کا سب کچھ سیلابی پانی کی نذر ہوا تھا؟ اس میں سے اکثر متاثرین آج تک بے یار و مدد گار کھلے آسمان کے نیچے پڑے ہیں۔ سندھ کے بیشتر علاقوں میں اب تک پانی کھڑا ہے۔ سوات سے خیبر پختونخوا اور وزیرستان سے کوئٹہ تک روزانہ کسی نہ کسی جگہ ہزاروں کی تعداد میں اپنی جان، مال اور عزت کے تحفظ اور امن کے لیے مارچ، جلسے، جلوس اور مظاہرے کر رہے ہیں۔ مہنگائی اور اِفراط زر تاریخی عروج پر ہے۔ کروڑوں ہم وطنوں کو علاج، تعلیم اور دیگر سہولیات تو گولی ماریں، دو وقت کے کھانے کی فکر مفلوج کیے ہوئی ہے۔ لیکن دوسری طرف یہ اقتدار پرست کتنے ظالم ہیں کہ ’’ظلمت کو ضیا کہتے ہیں‘‘، اور یہ کہتے تھکتے نہیں کہ وہ عوام کے غم میں سرگرداں ہیں۔
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ یہاں اگر کسی کو پروا نہیں، تو بس عوام اور ملک کی نہیں۔ ان کو صرف حکم رانی کے لیے ایک قطعۂ ارضی اور اس پر قوم نما ہجوم چاہیے ۔
بھئی! یہ کیسی ریاست ہے جہاں ایک عجیب سے خبط میں مبتلا، اقتدار کا بھوکا، ایک نفسیاتی مریض سات مہینوں سے پوری ریاست کو دیوار سے لگاکر لطف اُٹھا رہا ہے۔ وہ شخص جس کی پوری زندگی حتی کہ اس کی ذات کی کوئی کریڈیبلٹی نہیں۔ اس کی سیاست، معاشرت اور معیشت سے لے کر بیانیے، جلسے، تحریر وتقریر سب کچھ دونمبری، ہیرا پھیری اور مبالغہ سے عبارت ہے۔ فریبِ نظر پیدا کرکے کیمروں پر دو ہزار کے اجتماع کو دو لاکھ دکھانا، دو سو لوگوں کو عوام کا سمندر بتانا، گالی، جھوٹ اور بہتان، بد تہذیبی، اَکھڑ پن، بے مروتی، بے راہ روی اور بے شرمی کو سچ، کھرا پن، خودداری و بہادری کا نام دینا اس کی ٹیم کے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔ اس کی اپنی ڈکشنری ہے جس میں الفاظ کے معنی و مفہوم روزانہ کے حساب سے اس کی خواہش کے مطابق تبدیل ہوتے ہیں۔ دوسری طرف اس عمل کو تبدیلی اور عظیم لیڈر کے اوصاف قرار دیا جاتا ہے۔
وہ شخص جو باہر اپنے علاوہ ہر سیاسی لیڈر اور اداروں کے ذمے داران، جو اس کے پاگل پن اور خود غرضی کو تسلیم نہیں کرتے، کو لتاڑتا ہے اور اندر اپنی پارٹی کے رہنماؤں کو لتاڑتا ہے۔ وجہ اس کی یہ بتاتا ہے کہ میرے حملے والے ڈرامے کے بعد تم لوگوں نے عوام کا سمندر کیوں نہیں نکالا؟ کہتا ہے کہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد کئی دن تک ہر جگہ آگ لگی تھی، توڑ پھوڑ کا عمل جاری تھا…… اور لوگ تب تک گھروں کو واپس نہیں گئے، جب تک زرداری نے ’’پاکستان کھپے‘‘ کا نعرہ نہیں لگایا۔
اب اس خود ساختہ مہاتما اور عظیم قاید کو کون سمجھائے کہ بے نظیر کی شہادت پر ’’بے نظیر عوامی ردِعمل‘‘ نہ کسی کی کال پر عمل میں آیا تھا اور نہ ایم پی ایز اور ایم این ایز نے لوگوں کو نکالا تھا…… بلکہ محترمہ کی شہادت کا سن کر عوام خود نکلے تھے۔ کیوں کہ وہ جیسی بھی تھیں، لیکن تھیں تو حقیقی لیڈر ناں۔ انھوں نے نہ اپنے جلسوں کو نظر کے دھوکے سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا تھا، نہ خیراتی ہسپتال بناکر اس کے نام پر اپنی سیاسی دکان چمکائی تھی، نہ کارساز بم دھماکے کے بعد پلستر چڑھا کر ہسپتال میں لیٹی تھیں، نہ یہ کہا تھا کہ ایک گولی لگی یا چار گولیاں لگیں اور نہ کسی کے خلاف ایف آئی آر درج کی…… بلکہ اپنی سیاست پر بھروسا کرکے جمہوری جد و جہد جاری رکھی۔
بھئی! آپ تو کسی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ آپ کی یاد دہانی کے لیے عرض ہے کہ جنرل مشرف نے پرویز رشید کے ساتھ کیا کیا نہیں کیا تھا……! اس کے ساتھ تو وہ کچھ کیا گیا تھا جس کی تفصیل میں جانے سے نہ جانا ہی بہتر ہے۔ اُس ظلم و تشدد کا اندازہ بندہ اس سے لگا سکتا ہے کہ رہائی کے بعد اُن کو ایک عرصہ نفسیاتی علاج اور مدد حاصل کرنا پڑی، لیکن انھوں نے (میرے علم کے مطابق) آج تک خود اُس ظلم کے بارے میں اُف تک نہیں کیا، بلکہ اپنی جمہوری جد و جہد جاری رکھی۔ رانا ثناء اللہ کے ساتھ کیا کچھ نہیں ہوا تھا۔ خواجہ سعد رفیق سے پوچھیں کہ ان کے والدین اور ان کے ساتھ کیا کیا ہوا تھا! اس کے علاوہ جنرل ضیاء الحق کے عقوبت خانوں میں سیاسی رہنماؤں اور کارکنان پر کیا کچھ بیتا تھا……! لیکن آپ کا جو بھی گرفتار ہوتا ہے، اس کے آپ اپنے ہاتھوں سے کپڑے اُتار کر بے چارے کو ننگا کردیتے ہیں۔
مَیں یہ واضح الفاظ میں کہتا ہوں کہ مَیں ہر قسم کے تشدد کے خلاف ہوں، خصوصاً جو تشدد سیاسی کارکنان، رہنماؤں، صحافیوں اور انسانی حقوق کے محافظوں پر ہوتا ہے، مَیں اس کا ہر حد تک مخالف اور ناقد ہوں……! اس کے بھی خلاف ہوں کہ مخالف پر دھرنے کے لیے بازار سے الزام خریدیں…… اور اس کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کریں۔ آپ نے شہباز گل سے لے کر اُس بزرگ اعظم سواتی تک کو اپنی گھناونی سیاست کی نذر کرکے کہیں کا نہ چھوڑا۔
مکرر عرض ہے کہ اگر اعظم سواتی کی اہلیہ کو بھیجی گئی ویڈیو اصلی ہے، تو مَیں اس عمل کی پُرزور مذمت کرتا ہوں…… لیکن زمینی حقایق اور اس ویڈیو کو دیکھنے والے (اگر یہ وہی ویڈیو ہو تو) کی رائے کے مطابق عام بندہ بھی امتیاز برت سکتا ہے کہ وہ جعلی ہے۔ اس طرح آپ کے الزام خریدنے کا ٹریک ریکارڈ دیکھا جائے، تو بھی مسئلہ کچھ اور ہی لگتا ہے۔
سرِدست تو اعظم سواتی صاحب کے بقول ان کو اہلیہ نے فون پر اطلاع دی تھی کہ موصوفہ کو کسی نے اس قسم کی ویڈیو بھیجی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سواتی صاحب نے دیکھے بغیر پریس کانفرنس کھڑی کی تھی۔
دوسری بات اُن کا ری ایکشن ہے……! کوئی بھی مرد خصوصاً اس علاقے کے مرد کا جہاں سے سواتی صاحب کا تعلق ہے، اس قسم کی صورتِ حال میں فطری ردِعمل بلک بلک کر رونے سے پہلے ہزار بار سوچنا ہوتا ہے۔ کیوں کہ یہ عزت کا معاملہ ہے…… لیکن سواتی صاحب کا رویہ اور طرزِ عمل انصاف سے زیادہ ہم دردی حاصل کرنے والا لگ رہا تھا۔ اب تحقیقات کرنے والوں کو سب سے پہلے یہ معلوم کرنا چاہیے کہ ان کو آگے آسانی ہو…… کہ سواتی صاحب کو گھر پہنچنے سے پہلے اتنی عجلت میں پریس کانفرنس کا حکم یا مشورہ کس نے دیا تھا؟
دوسرا نکتہ، مَیں اس بات کا حامی ہوں کہ اگر وزیرِ اعظم اور وزیرِ داخلہ پر ایف آئی آر کٹ سکتی ہے، تو ایک سرکاری نوکر، خواہ اس کا گریڈ جو بھی ہو، پرکیوں نہیں کٹ سکتی؟ اگر عمران نیازی سمجھتا ہے کہ وزیرآباد والے واقعے کا ماسٹر مائنڈ وہ آفیسر ہے، تو پھر تو اُس کا اُس کی نالایقی کی پاداش میں کورٹ مارشل ہونا چاہیے کہ ایک پریمیر اور تجربہ کار خفیہ ایجنسی کے آفیسر نے اتنے بھونڈے طریقے سے اتنا حساس پلاٹ بنایا۔ کیا یہ اتنا نالایق تھا کہ ایک خود ساختہ عظیم لیڈر کو قتل کرنے کے لیے ایک نشئ کے ذریعے اُس دن پستول خرید کر بیس فٹ اُنچائی پر کھڑا ٹانگوں تک آہنی چادر سے کور شخص کو قتل کرنے بھیجا گیا۔
اگر عمران نیازی کو انصاف اور قانون کی حکم رانی اتنی ہی ستا رہی ہے، تو آج خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلا کو حکم دیں کہ اس کیپٹن کے خلاف ایف آئی آر درج کریں، جس نے 6 اکتوبر کی صبح مینگورہ بائی پاس پر نجی مالی لین دین کے تنازع پر ایک فریق سے پیسے لے کر باپ بیٹے کو قتل کرکے بعد میں سی ٹی ڈی کے ذریعے دہشت گر قرار دلوایا۔ نیز اُس علاقے کے ایم این سے کہیں کہ بندوقوں کے ساتھ اسلام آباد آنے کی ضرورت نہیں۔ مذکورہ مقتولین کے گھر جائیں…… اور وہاں ان کو انصاف دلانے کے لیے احتجاج کریں۔ یوں لگ پتا جائے گا کہ آپ واقعی انصاف کے علم بردار ہیں۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔