اس موضوع کو لکھنے سے پہلے مَیں اپنے قارئین پر یہ بات واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس وقت عملی طور پر میرا پی پی پی سے قطعی کوئی تعلق نہیں…… بلکہ پی پی کی پچھلی حکومت کے دوران میں مختلف اخبارات اس بات کے گواہ ہیں کہ میں اُن کا شدید ناقد رہا ہوں۔ اب بھی وقتاً فوقتاً میں پی پی کی کچھ پالیسیوں اور فیصلوں پر تنقید کرتا رہتا ہوں…… بلکہ میرے پی پی کے دوست یہ سمجھتے ہیں کہ مَیں دوسری جماعتوں پر تنقید منطقی کرتا ہوں اور پی پی پر جذباتی۔ شاید یہ بات اس لحاظ سے درست بھی ہو کہ مََیں بھٹو صاحب اور بی بی شہید کی پی پی کو ایک عوامی جماعت سمجھتا رہا…… اور اس وجہ سے زرداری صاحب کے ڈھیر سارے معاملات پر غیر عوامی اور جوڑ توڑ کی سیاست کو اس ترازو میں تول کر جب دیکھتا ہوں، تو بے شک مجھے آج کی پی پی بہت سے معاملات میں عوام کی آواز کی بجائے اقتدار کی طلب گار نظر آتی ہے۔ پاور پالیکٹس میں حصولِ اقتدار کی خاطر ڈھیر سارے سمجھوتے کرنا ہوتے ہیں، جیسا کہ تحریک انصاف نے عوامی اُٹھان لے کر کیے اور نظریاتی احساس کو خراب کر دیا۔
یقینا مجھ جیسے لوگ جو ہمیشہ پی پی کو بھٹو کی عوامی جماعت ہی دیکھنا چاہتے ہیں، ان کے لیے پی پی کا جوڑ توڑ کا روپ قابلِ قبول ہو ہی نہیں سکتا…… لیکن آج ہم نے بلاول بھٹو بارے اس وجہ سے قلم اُٹھانے کی کوشش کی کہ اس نوجوان سیاست دان نے بحیثیتِ ایک عام پاکستانی مجھے متاثر کیا۔ مجھے بلاول میں نانا کی قابلیت، دادا کی لیفٹ کی سیاست، باپ کی فراست اور دوست بنانے کی صلاحیت اور ماں کی حملہ آور ہونے اور دلیری سے مقابلہ کرنے کی ہمت…… یہ تمام خوبیاں اس نوجوان میں محسوس ہوئیں۔
آپ بے شک مجھ سے اختلاف کرسکتے ہیں اور اگر آپ جوابی بیانیہ دیں، تو مَیں بہت خوشی سے اس کو اپنی تحریر میں جگہ دوں گا…… لیکن آپ کا بیانیہ منطقی اور احترام کے دائرے میں ہو۔
مَیں نے ایک بار بلاول کی ماں کو سنا تھا، جس میں بی بی نے کہا تھا کہ وہ نیوز کاسٹر اور صحافی بننا چاہتی تھیں…… لیکن سیاست میں ان کی آمد بائے ڈیفالٹ یعنی حادثاتی ہوئی۔ کیوں کہ اگر 77ء کے سیاسی حالات یوں نہ ہوتے…… اور ان کے والد اسی طرح بے شک اپوزیشن میں رہتے، تو وہ شاید سالوں عملی سیاست میں نہ آتی۔ ٹھیک اسی طرح مَیں نے بلاول کو سنا، جو پروگرام بی بی کا سہیل وڑئچ صاحب کے ساتھ تھا کہ جس میں بچہ بلاول سہیل وڑائچ کو کَہ رہا ہے کہ وہ ملک کی خدمت کرنا چاہتا ہے، لیکن اس کو سیاست سے دلچسپی نہیں۔ پھر 77ء کی طرح حالات بدلے اور بی بی کو دہشت گردی کی کارروائی میں قتل کر دیا گیا۔ تب بلاول لندن میں زیرِ تعلیم تھا۔ اب الیکشن بہت قریب تھے اور پی پی قیادت سے محروم تھی۔ سو پی پی کے سینئر راہنماؤں کے پاس کوئی آپشن ہی نہ تھا۔ یوں انھوں نے ایک 19 سال کے لڑکے کو اپنا قاید بنالیا۔ بلاول بے شک قاید بن گیا، لیکن عملاً جماعت پر گرفت ان کے والد آصف علی زرداری کی رہی۔ اس دوران میں زرداری صاحب صدرِ پاکستان بھی بن گئے اور سنہ 2013ء کے انتخابات میں بلاول بہت جزوی متحرک ہوا۔ پھر سنہ 2018ء کے الیکشن میں بلاول نے بہرحال کسی حد تک انتخابی مہم چلائی…… اور پی پی کو قابلِ قدر حد تک منوایا۔ کیوں کہ 2013ء تک زرداری صاحب کی مفاہمت کی سیاست اور کچھ ’’مس گورننس‘‘ کی وجہ سے پی پی اندرونِ سندھ تک محدود ہو چکی تھی، لیکن بلاول کی وجہ سے پی پی چند نشستیں اندرونِ سندھ کے علاوہ بھی لینے میں کامیاب ہوئی اور بلاول خود اسمبلی کے رکن بن گئے۔ قومی اسمبلی میں اپنی پہلی ہی تقریر میں انھوں نے تمام سیاسی تجزیہ نگاروں کو متاثر کیا۔ بشمول اس دور کے وزیرِاعظم جناب عمران خان نے بھی باقاعدہ ڈیسک بجا کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔
اُس کے بعد میں نے اِس نوجوان کے اکثر عوامی جلسوں، اسمبلی تقاریر اور پریس کانفرنسوں کو بغور دیکھا۔ حیرت انگیز طور پر مجھے اس نوجوان میں بہت تہذیب و صلاحیت نظر آئی۔ نہایت ہی نپی تلی اور دانشورانہ گفتگو کرتا ہے۔ اس نوجوان سے نصرت جاوید اور حامد میر جیسے سینئر صحافی متاثر ہوئے۔ اُس پر میرا نہیں خیال کبھی نظریاتی یا منطقی تنقید کی گئی ہو۔
جو لوگ پی پی کے شدید مخالف ہیں، وہ بھی یا تو بلاول کی اُردو کا مذاق اُڑاتے ہیں، یا پھر جنس کے حوالے سے انتہائی بے ہودہ اور شرم ناک تبصرہ کرتے ہیں…… لیکن اس نوجوان کی اصل صلاحیتیں تب نکھر کر سامنے آئیں، جب عمران خان کی حکومت کے خلاف عدمِ اعتماد کے بعد نئی حکومت میں اس کو بطورِ وزیرِ خارجہ موقع ملا۔ گو کہ مجھے ذاتی طور پر معلوم ہے کہ پی پی کی اعلا سطح کی قیادت میں بہت تحفظات تھے کہ ہمارا لیڈر کس طرح کسی اور کے نیچے اور وہ بھی ہمارے نظریاتی حریف مسلم لیگ ن کے وزیرِاعظم کی کابینہ کا حصہ بن جائے…… بلکہ مجھے کسی نے بتایا کہ بلاول کی بہنیں بھی شاید ایسا پسند نہیں کرتی تھیں…… لیکن بلاول نے خود فیصلہ لیا کہ وہ بطورِ وزیر خارجہ اس مشکل وقت میں ملک کی خدمت کرے گا…… اور پھر حقیقت یہی ہے کہ اس نے ثابت بھی کیا۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو پاکستان لے آنا اور دنیا کو پاکستان کے سیلاب متاثرین کی طرف متوجہ کرنا بے یشک بہت مشکل کام تھا۔ اس کے علاوہ اس نوجوان نے بڑے ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہت سفارتی دانش مندی سے بحال کروا دیا۔ کشمیر جو مودی حکومت میں مکمل طور پر بھارت کا حصہ بنا دیا گیا تھا، کو ایک بار پھر بین الاقوامی برادری میں متنازعہ بنانا، حتی کہ جرمن وزیرِ خارجہ سے پریس کانفرنس کروا دینا بہرحال آسان کام نہ تھا، جو اس نوجوان نے کرکے دکھایا۔
امریکی ٹی وی اور مغربی میڈیا میں امریکہ و مغرب پر تنقید کرنابہت بڑی سفارتی دلیری تھی۔ یہ تو پی پی کی تنظیمی کم زوری ہے کہ وہ ان بیانات کو اس طرح عوام تک پہنچا نہ سکی۔ اگر ایسے بیانات محترم عمران خان کے بطورِ وزیرِ اعظم ہوتے، تو آپ یقین کریں تحریکِ انصاف کا سوشل میڈیا اس کو کہاں سے کہاں تک پہنچا دیتا، لیکن بہرحال یہ پی پی کی تنظیمی کمی ہے۔ شاید اس پر بلاول صاحب غور کریں۔
اس کے علاوہ مجھے ذاتی طور پر اس نوجوان کا سیلاب پر کردار بہت متاثر کن نظر آیا۔ آج سیاست بہت گرم ہے۔ تحریکِ انصاف اور مسلم لیگ ن دن رات سیاسی پریس کانفرنسوں میں مشغول ہیں۔ یہ نوجوان صرف سیلاب متاثرین کی بات کرتا ہے۔ حتی کہ اس کی جماعت جو سندھ حکومت میں ہے بھی، اگر نظر آتی ہے، تو سیلاب میں ہی نظر آتی ہے۔ اب وہ کس حد تک متاثرین کی داد رسی کر رہے ہیں، یا اس میں کوئی کرپشن کا عنصر پایا جاتا ہے؟ اس بات سے قطع نظر یہ حقیقت ہے کہ سیلاب متاثرین کے ساتھ بڑی جماعتوں میں سے صرف پی پی کھڑی ہے اور اس کو نوجوان لیڈر کی یہی ہدایت ہے۔ باقی آپ لفاظی جتنی مرضی کرلیں۔
المختصر، ہم اس نوجوان کی پاکستانی سیاست میں آمد کو ایک مثبت پہلو سے لیتے ہیں اور اس توقع کا اظہار کرتے ہیں کہ ممکنہ طور پر یہ نوجوان ہماری سیاست کے لیے ایک اثاثہ ثابت ہو اور ملک کی بہتر خدمت کرسکے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔