مَیں ایک کتاب پڑھ رہی ہوں جو مردوں کے لیے لکھی گئی ہے کہ انھیں خواتین کو متاثر کیسے کرنا ہے؟ (یہ کتاب میرے لیے بوریت کا سامان ہے…… لیکن اب جب شروع کی ہے، تو ختم کرنا ضروری ہے۔)
کتاب میں شروع کے چند اسباق میں ایک بہت ہی طاقت ور پیغام اور مشورہ ہے اور وہ ہے ’’نیت‘‘ کے متعلق…… لکھاری کتاب میں مردوں کو اپنی نیت پر غور کرنے اور اس کی تہہ میں جانے کی صلاح دے رہا ہے کہ کیسے عورتیں مردوں کی لاشعوری نیت بھی بھانپ لیتی ہیں۔
میرا بھی نیت سے گہرائی میں واسطہ پڑا آج سے چند مہینے پہلے۔ حضرت محمدؐ کی اس حدیث (انما الاعمال بالنیات) کا میری زندگی پر بہت گہرا اثر ہے۔ اس حدیث کے پسِ پشت جو دانش موجود ہے، وہ آپ کو آپ کے لاشعوری دماغ (Subconscious Mind) کی جانب لے کر جاتا ہے…… لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیسے؟
نیت (Intention) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کوئی مقاصد حاصل کرنے ہوں، تو پہلے اس کی مضبوط نیت کرنا ضروری ہے، یا پھر اکثر ہمارے اعمال ہماری نیت کا منھ بولتا ثبوت ہوتے ہیں…… یہاں تک تو بات سمجھ میں آتی ہے، لیکن لاشعور تک کیسے پہنچاتی ہے نیت……؟ اس کے لیے مزید گہرائی میں جانا ہوگا۔ مَیں چند مثالیں دے کر واضح کروں گی۔ (البتہ اس کی وضاحت کرنا بہت مشکل ہے)
مجھے اگر کسی تقریب میں جانا ہے دوستوں کے ساتھ…… مَیں جاتی ہوں اور بہ ظاہر خوب لطف اندوز ہوکر آتی ہوں۔ آکر میں سوشل میڈیا پر تصاویر ڈالتی ہوں (مجھے اس طرح پذیرائی نہیں ملتی…… جو مَیں نے لاشعوری طور پر سوچ رکھی تھی…… جس کا اثر میرے موڈ پر ہوتا ہے، لیکن یہ بات میرے شعور میں نہیں) سب کچھ اچھا تھا، لیکن میں پھر بھی خوش نہیں۔ سارے اعمال (Actions) بالکل صحیح تھے…… لیکن میں پھر بھی مطمئن نہیں۔ اگر مجھے اپنی ناخوشی کا سبب معلوم کرنا ہے، تو مجھے اپنی نیت کو معلوم کرنا ہوگا کہ دوستوں کے ساتھ جانے کے پیچھے نیت کیا تھی، ان کے ساتھ وقت گزارنا…… اچھا کھانا کھانا یا پھر یاد کے طور پر اچھی تصاویر لینا…… یا ان تصاویر کے لیے سوشل میڈیا پر دوسروں سے توثیق (Validation) حاصل کرنا اور لوگوں کو دکھانا……؟
یہ گہرا کام (Deep Work) ہے۔ ’’اسٹیو جاب‘‘ کہتا ہے کہ ’’میرے خیال کے مطابق بدیہی (Intuition) ہماری عقل وخرد (Intellect) سے زیادہ طاقت ور ہے۔‘‘
اس کی ایک اور مثال آپ کے بچے بھی ہوسکتے ہیں۔ بچے بے وقوف نہیں ہوتے، نیت بہت اچھے سے محسوس کرلیتے ہیں۔ فرض کریں کہ آپ اپنے رشتہ داروں سے اپنے بچے کی تعریف کررہے ہیں، لیکن گہرائی میں آپ کی نیت دوسروں کو دکھانا ہے نہ کہ بچے کی حوصلہ افزائی کرنا، تو آپ کا بچہ ایسا دوغلا پن بہت اچھے سے محسوس کرلیتا ہے۔ (بچے چہرے کے تاثرات، باڈی لینگویج اور آپ کتنے منافق اور محض باتوں کے شیر ہیں…… جب کہ عمل کوئی نہیں آپ کا، محسوس کرلیتے ہیں)
کبھی کبھار آپ جان کر نہیں کرتے یہ سب…… آپ کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ آپ کی حرکتوں کے پیچھے کی نیت کیا ہے؟
مَیں اپنی بہت سی حرکتوں کے پسِ پشت جب نیت تک پہنچتی ہوں (کبھی کبھار نہیں بھی پہنچ پاتی) تو حیرت ہوتی ہے اور علم بھی ہوتا ہے کہ کس طرح لاشعوری نیت میری روزمرہ کی زندگی اور میرے مزاج پر اثر رکھتی ہے۔ آپ کے ہر کام کی گہرائی میں نیت ہوتی ہے، جب کام ویسا نہیں ہو جیسا آپ کی نیت ہے، تو پھر باہر سے سب اچھا اور پرفیکٹ کیوں نہ ہوا ہو، آپ کو اطمینان محسوس نہیں ہوگا۔
نیت کا ہمیشہ اچھا ہونا ضروری نہیں…… ہم انسان ہیں اور انسانوں کی نیت میں خرابی آنا یا دوغلاپن آنا انسان ہونے کی نشانی ہے…… لیکن گہرائی میں نیت کو معلوم کرلینے سے آپ کو خود کو مزید گہرائی میں جاننے کو ملتا ہے۔ آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کس قسم کے انسان ہیں…… اور آپ کے لیے کون سی باتیں اہمیت رکھتی ہیں اور کیوں اہمیت رکھتی ہیں۔
ضروری نہیں کہ ہر بار معلوم ہونے پر اپنی نیت بدلی جائے، لیکن آگاہی ہونا اچھی بات ہے۔ آپ کی گہرائی والی لاشعوری نیت آپ کی شخصیت کی عکاسی کرتی ہے۔ کوئی اور آپ کی نیت کو سونگھ کر آپ کا فایدہ اٹھائے۔ کیوں کہ انسان صاحبِ وجدان "Intuitive” ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے آپ خود ہی اپنی نیت اور کم زوریوں کو سمجھ لیں۔ اس سے نقصان کسی حد تک کم ہوتا ہے اور آپ لوگوں/ حالات/ جذبات کے کنٹرول اور اثر سے کسی حد تک باہر رہتے ہیں۔
یہ حدیث محض اسلامیات کا پرچہ پاس کرنے کے لیے نہیں ہے…… بلکہ اس میں بے شک حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دانش (Wisdom) کی معراج پر ہیں۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔